کراچی حصص بازار میں مندی جاری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی سٹاک مارکیٹ میں حصص کا کاروبار مسلسل زبوں حالی کا شکار ہے اور بدھ کو ہونے والے کاروبار میں کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس مزید تین سو تریسٹھ پوائنٹس گِر گیا۔ مارکیٹ کے تجزیہ کار کاوربارِ حصص میں مندی کی بڑی وجوہات سیاسی عدم استحکام اور صدر کے خلاف مواخذے کی ممکنہ کوشش کو قرار دیتے ہیں۔ بدھ کو حصص کے کاروبار پر شروع ہی سے مندی کا رجحان غالب رہا اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس چار سو سے زیادہ پوانٹس کی کمی کے بعد کچھ بہتر ہوا لیکن تین سو تریسٹھ پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔ کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس جو اپریل کے ماہ میں پندرہ ہزار پوائنٹس سے زیادہ کی سطح پر کاروبار کررہا تھا، اب گر کر نوہزار چھ سو کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ صدر پرویز مشرف کے بارے میں مواخذے کے حوالے سے خبریں بھی مارکیٹ میں مندی کا رجحان پیدا کر رہی ہیں۔ ان کے بقول گزشتہ آٹھ برس میں مالیاتی شعبہ نے کافی ترقی کی ہے لہذٰا لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے خدشات ہیں کہ اگر صدر پرویز مشرف چلے جاتے ہیں تو مالیاتی شعبہ کے مستقبل کیا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایک صدر جو جانا نہیں چاہتے لیکن ان پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوتا جائے تو اس سے سیاسی عمل متاثر ہوتا نظر آتا ہے اور اس کا اثر بہرحال سٹاک مارکیٹ پر آرہا ہے۔ محمد امین اشرف کا کہنا تھا کہ بازارِ حصص میں بہتری لانے کے لیے جو فنڈ قائم کیا گیا تھا اس نے بدھ کو مارکیٹ میں بزنس کیا ہے لیکن سیاسی عدم استحکام اور بے چینی کی وجہ سے فنڈ بھی اپنا موثر کردار ادا نہیں کر پارہا ہے اور مندی کا رجحان مسلسل دیکھنے میں آرہا ہے۔
مارکیٹ کے ایک اور تجزیہ کار ظفر موتی کا کہنا ہے کہ ایکویٹی فنڈ کے فعال ہونے کے باوجود اسلام آباد سے جو صدر کے مواخذے اور مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کی خبریں آرہی ہیں اس کا منفی اثر سٹاک مارکیٹ پر بھی پڑا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں زبردست گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ پر اثرانداز ہونے والے اندرونی عوامل میں شرح سود کا بڑھنا، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا گرنا، بیرونی سرمایہ کاروں کا سرمایہ نکالنا، اور سب سے بڑا معاملہ صنعت کاروں کا اعتماد مجروح ہوجانا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان سے زیادہ مارکیٹ کے بیرونی عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں جن میں سیاسی اور عدالتی بحران، دہشت گردی، شدت پسندی، سرکاری اداروں کی آپس میں محاذ آرائی، اور بلامقصد پالیسیوں کا نفاذ یعنی کبھی ایک ایس آر او تو اگلے روز دوسرا ایس آر او کا جاری کیا جانا شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کے اندرونی معاملات سے زیادہ بیرونی عوامل بازارِ حصص میں مندی کی بڑی وجوہات ہیں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا اس وقت تک بازارِ حصص میں بھی استحکام نہیں آسکے گا، مصنوعی طریقے سے تو مارکیٹ کو سنبھالا جاسکتا ہے لیکن مستقل بنیادوں پر استحکام ملک میں سیاسی صورتحال کے بہتر ہونے اور بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے بحال ہونے سے ہی مشروط ہے۔ |
اسی بارے میں موبائل سے موت کا وائرس یا افواہ13 April, 2007 | نیٹ سائنس موبائل سے موت کا وائرس یا افواہ13 April, 2007 | نیٹ سائنس ’حصص بحران کا زیادہ اثر نہیں پڑا‘22 January, 2008 | پاکستان ’حصص بحران کا زیادہ اثر نہیں پڑا‘22 January, 2008 | پاکستان سٹاک انڈیکس 500 پوائنٹ کم18 March, 2008 | پاکستان سٹاک انڈیکس 500 پوائنٹ کم18 March, 2008 | پاکستان کے ایس ای: 615 پوائنٹس کی کمی 23 May, 2008 | پاکستان کے ایس ای: 615 پوائنٹس کی کمی 23 May, 2008 | پاکستان کراچی سٹاک مارکیٹ میں مندی23 June, 2008 | پاکستان کراچی سٹاک مارکیٹ میں مندی23 June, 2008 | پاکستان مسلسل مندی کے بعد معمولی اضافہ18 July, 2008 | پاکستان مسلسل مندی کے بعد معمولی اضافہ18 July, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||