BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 04 August, 2008, 17:41 GMT 22:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کراچی حصص بازار میں مندی جاری

سٹاک ایکسچینج
کراچی سٹاک مارکیٹ میں حصص کا کاروبار مسلسل زبوں حالی کا شکار ہے اور بدھ کو ہونے والے کاروبار میں کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس مزید تین سو تریسٹھ پوائنٹس گِر گیا۔

مارکیٹ کے تجزیہ کار کاوربارِ حصص میں مندی کی بڑی وجوہات سیاسی عدم استحکام اور صدر کے خلاف مواخذے کی ممکنہ کوشش کو قرار دیتے ہیں۔

بدھ کو حصص کے کاروبار پر شروع ہی سے مندی کا رجحان غالب رہا اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس چار سو سے زیادہ پوانٹس کی کمی کے بعد کچھ بہتر ہوا لیکن تین سو تریسٹھ پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔

کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس جو اپریل کے ماہ میں پندرہ ہزار پوائنٹس سے زیادہ کی سطح پر کاروبار کررہا تھا، اب گر کر نوہزار چھ سو کی حد تک پہنچ چکا ہے۔
اسٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کار محمد امین اشرف نے کہا کہ بازارِ حصص میں مندی کی سب سے بڑی وجہ سیاسی معاملہ ہے کیونکہ اب تک مخلوط حکومت میں شامل دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں صورتحال واضح نہیں ہوسکی ہے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھے گا۔

دوسری بات یہ ہے کہ صدر پرویز مشرف کے بارے میں مواخذے کے حوالے سے خبریں بھی مارکیٹ میں مندی کا رجحان پیدا کر رہی ہیں۔

ان کے بقول گزشتہ آٹھ برس میں مالیاتی شعبہ نے کافی ترقی کی ہے لہذٰا لوگوں کے ذہنوں میں بہت سے خدشات ہیں کہ اگر صدر پرویز مشرف چلے جاتے ہیں تو مالیاتی شعبہ کے مستقبل کیا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ایک صدر جو جانا نہیں چاہتے لیکن ان پر سیاسی جماعتوں کی جانب سے دباؤ میں اضافہ ہوتا جائے تو اس سے سیاسی عمل متاثر ہوتا نظر آتا ہے اور اس کا اثر بہرحال سٹاک مارکیٹ پر آرہا ہے۔

محمد امین اشرف کا کہنا تھا کہ بازارِ حصص میں بہتری لانے کے لیے جو فنڈ قائم کیا گیا تھا اس نے بدھ کو مارکیٹ میں بزنس کیا ہے لیکن سیاسی عدم استحکام اور بے چینی کی وجہ سے فنڈ بھی اپنا موثر کردار ادا نہیں کر پارہا ہے اور مندی کا رجحان مسلسل دیکھنے میں آرہا ہے۔

سیاسی عدم استحکام سے بھی بازار متاثر ہوا ہے۔

مارکیٹ کے ایک اور تجزیہ کار ظفر موتی کا کہنا ہے کہ ایکویٹی فنڈ کے فعال ہونے کے باوجود اسلام آباد سے جو صدر کے مواخذے اور مخلوط حکومت میں شامل جماعتوں کے درمیان محاذ آرائی کی خبریں آرہی ہیں اس کا منفی اثر سٹاک مارکیٹ پر بھی پڑا ہے جس کی وجہ سے مارکیٹ میں زبردست گراوٹ دیکھنے میں آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسٹاک مارکیٹ پر اثرانداز ہونے والے اندرونی عوامل میں شرح سود کا بڑھنا، ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر کا گرنا، بیرونی سرمایہ کاروں کا سرمایہ نکالنا، اور سب سے بڑا معاملہ صنعت کاروں کا اعتماد مجروح ہوجانا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ان سے زیادہ مارکیٹ کے بیرونی عوامل اثر انداز ہو رہے ہیں جن میں سیاسی اور عدالتی بحران، دہشت گردی، شدت پسندی، سرکاری اداروں کی آپس میں محاذ آرائی، اور بلامقصد پالیسیوں کا نفاذ یعنی کبھی ایک ایس آر او تو اگلے روز دوسرا ایس آر او کا جاری کیا جانا شامل ہیں۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ کے اندرونی معاملات سے زیادہ بیرونی عوامل بازارِ حصص میں مندی کی بڑی وجوہات ہیں۔

تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جب تک ملک میں سیاسی استحکام نہیں آئے گا اس وقت تک بازارِ حصص میں بھی استحکام نہیں آسکے گا، مصنوعی طریقے سے تو مارکیٹ کو سنبھالا جاسکتا ہے لیکن مستقل بنیادوں پر استحکام ملک میں سیاسی صورتحال کے بہتر ہونے اور بیرونی اور اندرونی سرمایہ کاروں کے اعتماد کے بحال ہونے سے ہی مشروط ہے۔

سٹاک ایکسچینجبینظیر قتل
ایشیائی حِصص بازاروں میں مندی کا رحجان
کراچی بازارِ حصصایمرجنسی کا دھچکہ
کراچی بازارِ حصص میں ریکارڈ مندی
اسی بارے میں
سٹاک انڈیکس 500 پوائنٹ کم
18 March, 2008 | پاکستان
سٹاک انڈیکس 500 پوائنٹ کم
18 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد