BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 July, 2008, 12:56 GMT 17:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مسلسل مندی کے بعد معمولی اضافہ

آئی ایس ای
گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 10 ہزار 212 پوائنٹس پر بند ہوئی تھی
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں پچھلے سولہ دنوں سے مسلسل مندی کے بعد جمعہ کو معمولی بہتری آئی ہے اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 22 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔

گزشتہ روز مارکیٹ 278 پوائنٹس مزیدگرگئی تھی جس کے بعد چھوٹے سرمایہ کاروں اور بروکروں میں اشتعال پھیل گیا تھا اور انہوں نے احتجاج کے ساتھ ساتھ عمارت میں توڑ پھوڑ بھی کی تھی جس کے بعد انتظامیہ کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس طلب کرنا پڑی تھا۔

گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 10 ہزار 212 پوائنٹس پر بند ہوئی تھی اور جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر پہلے کراچی اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس گرا لیکن پھر اس میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور ایک موقع پر انڈیکس میں دو سو پوائنٹس کا اضافہ ہوگیا تاہم دن کے اختتام پر انڈیکس صرف 22 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 10 ہزار 235 پوائنٹس پر بند ہوا۔

گزشتہ روز کے پرتشدد احتجاج کے بعد کراچی اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ نے چھوٹے سرمایہ کاروں کو دباؤ سے نکالنے کے لیے بڑے سرمایہ کاروں کی مدد سے ایک فنڈ قائم کیا تھا اور مندی سے متاثر ہونے والے چھوٹے سرمایہ کاروں کو پیشکش کی تھی کہ وہ جمعرات کے کلوزنگ ریٹس پر اپنے شیئرز فروخت کر سکتے ہیں۔

عارف حبیب انویسٹمنٹس کے چیف ایگزیکٹو نسیم بیگ نے بتایا کہ اس فنڈ کے ذریعے ایسے سرمایہ کاروں سے لگ بھگ سوا چار ارب روپے کے شیئرز خرید لیے گئے ہیں جو قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور اسی باعث مارکیٹ میں کچھ بہتری آئی ہے۔

 عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور اگر کمی کا یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو اسٹاک مارکیٹ کو سنبھلنے میں مدد ملے گی لیکن اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا مارکیٹ پر منفی اثر پڑے گا۔

ان کے مطابق سیکیورٹی اینڈ ایکسچنج کمیشن آف پاکستان نے بھی مختلف سرکاری اداروں کے تعاون سے ایک فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ممکنہ طور پر پیر سے دستیاب ہوگا اور باقی رہ جانے والے چھوٹے سرمایہ کار اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔

انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور اگر کمی کا یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو سٹاک مارکیٹ کو سنبھلنے میں مدد ملے گی لیکن اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا مارکیٹ پر منفی اثر پڑے گا۔

تجزیہ کار شجاع رضوی کا کہنا ہے ’ابھی بھی صحیح معنوں میں سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا نہیں ہوا ہے اور جب تک سرمایہ کاروں میں اعتماد نہیں آئے گا سٹاک مارکیٹ اسی طرح سے چلتی رہے گی‘۔

ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے حکومت کو ضروری مالی اقدامات کرنا ہوں گے اور معاشی استحکام کے لیے اپنا پروگرام اور پالیسی واضح کرنا ہوگی۔

انہوں نے بتایا کہ ملک کے غیریقینی حالات اور کمزور معاشی پالیسیوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں غیرملکی سرمایہ بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ ’پچھلے دو تین مہینوں سے ہم تقریباً ہر روز غیرملکی سرمایہ باہر جاتا دیکھ رہے ہیں۔‘

اسی بارے میں
سٹاک انڈیکس 500 پوائنٹ کم
18 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد