مسلسل مندی کے بعد معمولی اضافہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کراچی اسٹاک ایکسچینج میں پچھلے سولہ دنوں سے مسلسل مندی کے بعد جمعہ کو معمولی بہتری آئی ہے اور کے ایس ای 100 انڈیکس میں 22 پوائنٹس کا اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ روز مارکیٹ 278 پوائنٹس مزیدگرگئی تھی جس کے بعد چھوٹے سرمایہ کاروں اور بروکروں میں اشتعال پھیل گیا تھا اور انہوں نے احتجاج کے ساتھ ساتھ عمارت میں توڑ پھوڑ بھی کی تھی جس کے بعد انتظامیہ کو صورتحال پر قابو پانے کے لیے پولیس طلب کرنا پڑی تھا۔ گزشتہ روز کے ایس ای 100 انڈیکس 10 ہزار 212 پوائنٹس پر بند ہوئی تھی اور جمعہ کو کاروبار کے آغاز پر پہلے کراچی اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس گرا لیکن پھر اس میں اضافہ ہونا شروع ہوا اور ایک موقع پر انڈیکس میں دو سو پوائنٹس کا اضافہ ہوگیا تاہم دن کے اختتام پر انڈیکس صرف 22 پوائنٹس کے اضافے کے ساتھ 10 ہزار 235 پوائنٹس پر بند ہوا۔ گزشتہ روز کے پرتشدد احتجاج کے بعد کراچی اسٹاک ایکسچینج کی انتظامیہ نے چھوٹے سرمایہ کاروں کو دباؤ سے نکالنے کے لیے بڑے سرمایہ کاروں کی مدد سے ایک فنڈ قائم کیا تھا اور مندی سے متاثر ہونے والے چھوٹے سرمایہ کاروں کو پیشکش کی تھی کہ وہ جمعرات کے کلوزنگ ریٹس پر اپنے شیئرز فروخت کر سکتے ہیں۔ عارف حبیب انویسٹمنٹس کے چیف ایگزیکٹو نسیم بیگ نے بتایا کہ اس فنڈ کے ذریعے ایسے سرمایہ کاروں سے لگ بھگ سوا چار ارب روپے کے شیئرز خرید لیے گئے ہیں جو قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے تھے اور اسی باعث مارکیٹ میں کچھ بہتری آئی ہے۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اینڈ ایکسچنج کمیشن آف پاکستان نے بھی مختلف سرکاری اداروں کے تعاون سے ایک فنڈ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ممکنہ طور پر پیر سے دستیاب ہوگا اور باقی رہ جانے والے چھوٹے سرمایہ کار اس سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کمی واقع ہوئی ہے اور اگر کمی کا یہ رجحان برقرار رہتا ہے تو سٹاک مارکیٹ کو سنبھلنے میں مدد ملے گی لیکن اگر تیل کی قیمتیں بڑھتی ہیں تو اس کا مارکیٹ پر منفی اثر پڑے گا۔ تجزیہ کار شجاع رضوی کا کہنا ہے ’ابھی بھی صحیح معنوں میں سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا نہیں ہوا ہے اور جب تک سرمایہ کاروں میں اعتماد نہیں آئے گا سٹاک مارکیٹ اسی طرح سے چلتی رہے گی‘۔ ان کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاروں میں اعتماد پیدا کرنے کے لیے حکومت کو ضروری مالی اقدامات کرنا ہوں گے اور معاشی استحکام کے لیے اپنا پروگرام اور پالیسی واضح کرنا ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ ملک کے غیریقینی حالات اور کمزور معاشی پالیسیوں کی وجہ سے سٹاک مارکیٹ میں غیرملکی سرمایہ بھی کم ہوتا جارہا ہے۔ ’پچھلے دو تین مہینوں سے ہم تقریباً ہر روز غیرملکی سرمایہ باہر جاتا دیکھ رہے ہیں۔‘ | اسی بارے میں سٹاک ایکسچینج کراچی، پھر مندی16 July, 2008 | پاکستان سٹاک ایکسچینج کراچی،شدیدمندی14 July, 2008 | پاکستان کے ایس ای: 615 پوائنٹس کی کمی 23 May, 2008 | پاکستان شرح سود میں ڈیڑھ فیصد اضافہ22 May, 2008 | پاکستان سٹاک انڈیکس 500 پوائنٹ کم18 March, 2008 | پاکستان ’حصص بحران کا زیادہ اثر نہیں پڑا‘22 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||