BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 13 December, 2008, 17:07 GMT 22:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کے ایس ای: حکم امتناعی جاری

کراچی سٹاک ایکسچینج
حصص بازار میں چھوٹے سرمایہ کاروں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
سندھ ہائی کورٹ نے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں جاری انجماد پر حکم امتناعی جاری کیا ہے۔
کراچی میں سنیچر کو عدالت کی جانب سے سولہ دسمبر تک حکم امتناعی کے بعد اب پندرہ دسمبر یعنی پیر سے کراچی اسٹاک ایکسچینج میں معمول کے مطابق کاروبار شاید شروع نہیں کیا جاسکے گا۔

عدالت عالیہ نے یہ حکم کراچی اسٹاک ایکسچینج کے ممبروں کی جانب سے دائر کی جانے والی آئینی درخواست پر دیا ہے جس میں انہوں نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ اسٹاک ایکسچینج میں کاروبار اس وقت تک شروع نہیں ہونا چاہیے جب تک حکومت کی جانب سے وعدہ کیا گیا بیس ارب روپے کا فنڈ نہیں دیا جاتا۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج میں کاروبارِ حصص کو بورڈ آف ڈائریکٹرز کے اجلاس کے بعد ستائیس اگست کو منجمد کردیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ ستائیس اگست کے بعد سے اسٹاک مارکیٹ کے بورڈ آف ڈائریکٹرز اور سرکاری ادارے سکیوریٹیز اینڈ ایکسچینج آف پاکستان کے افسران کے درمیان مذاکرات کے کئی دور ہوچکے ہیں۔

سرکاری ادارے نے حکومت کی جانب سے یقین دہانی کرائی تھی کہ مارکیٹ میں چار سرکاری اداروں یعنی ای او بی آئی، این آئی ٹی، این بی پی، اور اسٹیٹ لائف کی جانب سے اسٹاک مارکیٹ میں بیس ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی۔

تاہم سرمائے کی عدم دستیابی کی وجہ سے اسٹاک مارکیٹ بند رہی اور آئینی درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اگر مارکیٹ کھلتی ہے تو سرمائے کی کمی کی وجہ سے سرمایہ کاروں کو کاروبار میں نقصان کا احتمال ہے۔

کراچی اسٹاک ایکسچینج میں اس سال فروری میں کاروبار اپنے عروج پر تھا اور کراچی ہنڈریڈ انڈیکس پندرہ ہزار سے زیادہ پوائنٹس پر تھا۔ تاہم فروری کے بعد اس میں تیزی سے گراوٹ دیکھنے میں آئی اور چھوٹے سرمایہ کاروں کو شدید نقصان اٹھانا پڑا۔ یہاں تک کہ ملک کے تمام اسٹاک ایکسچینجوں میں چھوٹے سرمایہ کاروں نے جولائی میں پرتشدد احتجاج بھی کیا۔

چھوٹے سرمایہ کاروں کی انجمن کے سربراہ کوثر قائم خانی کا کہنا ہے کہ چھوٹے سرمایہ کار تو پہلے ہی اپنا سرمایہ ڈبا چکے ہیں۔

کوثر قائم خانی نے کہا کہ اب بڑے سرمایہ کار اپنے سرمائے کو بچانے کے لئے سرتوڑ کوششیں کررہے ہیں اور اسی لیے انہوں نے عدالت کا دروازہ بھی کھٹکھٹایا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ممبروں کے عدالت جانے سے یہ بھی واضح ہوا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج کے ممبروں اور بورڈ آف ڈائریکٹرز میں اختلافات ہیں۔

دوسری جانب اسٹاک مارکیٹ کے سینئر تجزیہ کار ظفر موتی نے کہا کہ یہ معاملہ اب عدالت میں زیرسماعت ہے لہذٰا اس پر تبصرہ نہیں کیا جاسکتا۔

عدالت کے فیصلے کے بعد سنیچر کی شام کراچی اسٹاک ایکسچینج کے بورڈ کا ہنگامی اجلاس ہوا۔ اس اجلاس میں کیا ہوا یہ اب تک باقاعدہ طور پر نہیں بتایا گیا ہے لیکن مارکیٹ ذرائع کے مطابق اجلاس میں عدلیہ کے فیصلے پر قانونی بحث کی گئی ہے۔

عدالت کے فیصلے کا مطلب بدلے کے کاروبار میں پچھلے کھاتوں کو منجمد رکھنا ہے یا پوری اسٹاک مارکیٹ کو، اس پر بحث ہوئی۔

اجلاس میں محسوس کیا گیا ہے کہ فیصلہ بدلے کے کاروبار کے گذشتہ سودوں میں انجماد برقرار رکھنے کے لئے ہے اور چونکہ اس کی سماعت سولہ دسمبر کو دوبارہ ہونا ہے تو مارکیٹ کو پندرہ دسمبر کو کھولا جاسکتا ہے جبکہ بدلے کے گذشتہ سودوں پر انجماد کو برقرار رکھا جاسکتا ہے۔

چند ڈائریکٹرز نے اس تاثر سے اختلاف کیا اور کہا کہ یہ فیصلہ مکمل انجماد سے متعلق ہے۔ تاہم اجلاس کسی حتمی فیصلے تک نہ پہنچ سکا اور اس میں ابہام برقرار رہا۔

اسی بارے میں
سٹاک ایکسچینجز پر حملے
17 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد