رفعت اللہ اورکزئی بی بی سی اردو ڈاٹ کام پشاور |  |
 | | | حملے کی صورت میں سختی سے جواب دیا جائے گا |
کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے کہا ہے کہ اگر ہندوستان نے پاکستان پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو تحریک کے کارکن فوج اور سکیورٹی فورسز سے تمام اختلافات بالائے طاق رکھ کر ملک کے دفاع کےلیے ان کے شانہ بشانہ لڑیں گے۔ تحریک کے مرکزی ترجمان مولوی عمر نے پیر کو کسی نامعلوم مقام سے بی بی سی کو ٹیلی فون پر بتایا کہ فوج اور سکیورٹی فورسز سے ان کے اختلافات اپنی جگہ لیکن بات اب ملک کی سالمیت کی ہے لہذا اس پر حملے کی صورت میں سختی سے جواب دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’انڈیا کی دھمکیاں فوج یا سکیورٹی فورسز کے خلاف نہیں بلکہ ایک مسلمان ملک کے خلاف ہیں اس لیے طالبان جس طرح اپنے ہی اسلحہ سے ڈیورنڈ لائن کی حفاظت کرتے رہے ہیں اس طرح لائن آف کنٹرول کی حفاظت کرنا بھی جانتے ہیں۔‘ ترجمان سے جب پوچھا گیا کہ ممبئی دھماکوں کے بعد ان کا حکومت سے کوئی رابط ہوا ہے تو انہوں نے ایسے کسی قسم کے رابطے کی سختی سے تردید کی۔ البتہ ترجمان کا کہنا تھا کہ وہ دنیا اور پاکستان کے عوام پر یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ وہ محب وطن ہیں اور اس مٹی سے محبت رکھتے ہیں۔ مولوی عمر نے ہندوستان کی طرف سے پاکستان پر ممبئی دھماکوں کے الزام کو بے بنیاد قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنی سرزمین کا دفاع کرنا بخوبی جانتے ہیں لہذا بھارت کو آئندہ اس قسم کے دھمکیوں سےگریز کرنا چاہیے۔ سنیچر کی شام اسلام آباد میں صحافیوں کے ایک گروپ کے ساتھ غیر رسمی بات چیت کے دوران پاکستان کی ایک سکیورٹی ایجنسی کے اعلی اہلکار نے کہا تھا کہ اگر بھارت نے اپنی فوجیں سرحدوں پر بھیجیں تو پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پرواہ کیے بغیر افغانستان کی سرحد سے اپنی فوجیں ہٹا دے گا۔ انہوں نے ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ بیت اللہ محسود ہوں یا بلوچستان کے قوم پرست رہنما وہ سب محب وطن ہیں اور پاکستان کے خلاف نہیں۔ |