’پاکستان سے وسیع رابطہ رہنا چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کی حکومت، حزب مخالف اور فوج کی قیادت نے برطانوی وزیر خارجہ کو پاکستان پر سرحد پار سے ہونے والے حملوں پر ملک میں بڑھتی ہوئی تشویش سے آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی صورتحال مزید پیچیدہ ہوجائے گی۔ برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اور اپوزیشن کی بڑی جماعت مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں نواز شریف سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ حکومتی ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستان کی سیاسی و فوجی قیادت نے برطانوی وزیر خارجہ پر زور دیا ہے کہ وہ نئی امریکی انتظامیہ کو یہ باور کروائیں کہ پاکستان کی سرحدی خلاف ورزیاں بند کریں۔ دفتر خارجہ سے جاری ہونے والے بیان میں بتایا گیا ہے کہ شاہ محمود قریشی نے اپنے مہمان ہم منصب کو ’پاکستان پر سرحد پار سے ہونے والے حملوں پر حکومت اور عوام میں بڑھتی ہوئی تشویش سے آگاہ کیا اور حکومت کی اندرونی ترجیحات اور چیلنجز سے نمٹنے کی خاطر کیے گئے اقدامات سے آگاہ کیا‘۔ بیان کے مطابق دونوں وزراء خارجہ کے درمیاں دو طرفہ امور، یورپی یونین کے معاملات، فرینڈز آف ڈیموکریٹک پاکستان، انسداد دہشت گردی، افغانستان کی صورتحال اور پاکستان کے بھارت سے تعلقات پر غور کیا گیا۔ برطانوی وزیر جو افغانستان سے ایک روزہ دورے پر پاکستان پہنچے، انہوں نے شاہ محمود قریشی کو اپنے دورے کے بارے میں بریف کیا۔ وزراء خارجہ کی ملاقات کے بارے میں دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق مہمان وزیر نے کہا کہ نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ کے ایک اہم کھلاڑی کی حیثیت سے بلکہ علاقائی اور اقتصادی سلامتی کے تناظر میں بھی اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہیں اور پاکستان کے ساتھ ان معاملات پر وسیع رابطہ رہنا چاہیے۔
ناشتے پر دونوں وزراء خارجہ کی ملاقات کے بارے میں جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے ڈیوڈ ملی بینڈ کو بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف حکومت کی کثیر الجہتی حکمت عملی موثر اور نتیجہ خیز ثابت ہوئی ہے اور اُسے سیاسی اور عوامی تائید بھی حاصل ہوئی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے برطانوی ہم منصب کو بتایا کہ ان کی حکومت کے افغانستان اور بھارت کے ساتھ وسیع رابطے اور اعتماد قائم ہے۔ انہوں نے افغانستان میں منشیات پر ضابطہ قائم کرنے اور حکومتی معاملات بہتر بنانے پر زور دیا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے بھارت کے ساتھ جامع مزاکرات میں ہونے والی پیش رفت سے ڈیوڈ ملی بینڈ کو آگاہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ممالک میں پانی کی تقسیم کے معاملات فوری طور پر ’انڈس بیسن ٹریٹی، کے مطابق حل ہونے چاہیے۔ بیان کے مطابق پاکستان نے اپنی اشیاء کو یورپی منڈیوں تک رسائی کی بھی بات کی جس پر برطانوی وزیر نے اتفاق کیا۔ بیان میں بتایا گیا ہے کہ برطانیہ یورپی یونین میں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے اور سن دو ہزار آٹھ سے دو ہزار گیارہ تک چُوراسی کروڑ یورو ترقیاتی امداد دے رہا ہے۔ اسلام آباد میں برطانوی ہائی کمیشن کے ترجمان کے جاری کردہ بیان کے مطابق ڈیوڈ ملی بینڈ نے جبری شادیوں کے معاملات پر تبادلہ خیال کیا اور اسلامک یونیورسٹی کے طلبا کے ساتھ ’اسلام اور مغرب‘، کے عنوان پر سوال جواب کے سیشن میں شرکت کی۔ اس موقع پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستانی نژاد برطانوی شہری راشد رؤف کی ہلاکت کی تصدیق کے بارے میں ان کے اہل خانہ نے برطانوی حکومت سے رابطہ کیا ہے کہ پاکستان حکومت سے حقائق معلوم کرکے انہیں بتائیں۔ ان کے مطابق انہوں نے پاکستان حکومت سے اس بارے میں معلومات مانگی ہے اور اب انہیں پاکستان حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔ پروگرام کے مطابق برطانوی وزیر کی ایوان صدر میں عشائیہ کے موقع پر صدر آصف علی زرداری سے بھی ملاقات ہونی ہے۔ | اسی بارے میں ’پاکستان کی رکنیت بحال ہونی چاہیے‘21 April, 2008 | پاکستان ’برطانیہ طالبان سے مفاہمت کا حامی‘20 April, 2008 | پاکستان باؤچرکی سیاسی قیادت سے ملاقاتیں 25 March, 2008 | پاکستان امریکیوں کی ملاقاتیں جاری26 March, 2008 | پاکستان ’پاک افغان سرحد پر حملے ناگزیر‘ 31 March, 2008 | پاکستان طالبان سے مفاہمت کہاں تک جائے گی؟03 April, 2008 | پاکستان قومی اسمبلی میں مذہبی جذبات کا اظہار16 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||