BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 April, 2008, 13:22 GMT 18:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کی رکنیت بحال ہونی چاہیے‘

ڈیوڈ ملی بینڈ شاہ محمود قریشی کے ساتھ
پاکستان میں جمہوری تبدیلیاں دنیا کے لیے خوش آئند بات ہے
برطانوی وزیرخارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا ہے کہ ان کا ملک پاکستان کی دولت مشترکہ میں رکنیت بحال کرنے کی حمایت کرتا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے ساتھ ایک مشترکہ اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملی بینڈ کا موقف تھا کہ اب جبکہ پاکستان میں جمہوریت اور صحافتی آزادیاں بحال ہوچکی ہیں تو پاکستان کی دولت مشترکہ کی رکنیت بحال ہو جانی چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ ماہ دولت مشترکہ کے اجلاس میں اس موضوع پر یقیناً بات ہوگی۔ ’میں چاہتا ہوں کہ برطانیہ اب پاکستان کی دولت مشترکہ میں واپسی کے لیے بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کرے۔ دولت مشترکہ کے خاندان میں اسے اس کا مقام ملنا چاہیے‘۔

شاہ محمود قریشی کا اس موقع پر کہنا تھا کہ برطانوی ہم منصب سے بات چیت میں دولت مشترکہ پر بھی بات ہوئی اور انہیں امید ہے کہ رکنیت جلد بحال کر دی جائے گی۔

 برطانیہ ہتھیار پھینک دینے والے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا حامی ہے کیونکہ اس سے دہشت گردی کو کم کرنے میں مدد ملے گی
ڈیوڈملی بینڈ

برطانوی وزیر کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گزشتہ چند ماہ کی جمہوری تبدیلیاں دنیا کے لیے خوش آئند بات ہے۔ ’ایک ایسا ملک جہاں ایک سیاسی رہنما کو دہشت گردی کے ذریعے ہلاک کیا گیا۔ وہ پھر بھی ایک نئے جمہوری جذبے کے ساتھ دنیا کے سامنے آتا ہے، سب کی تعریف کا مستحق ہے‘۔

طالبان کے ساتھ مذاکرات کی بات کرتے ہوئے ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ اب تک کے مذاکرات میں انہیں یہ بات واضح ہوئی ہے کہ انہیں تفصیل کےساتھ درست طور پر یہ معلوم کرنا ہوگا کہ وہ کن لوگوں کے ساتھ مصالحت کی بات کر رہے ہیں ’اس لیے ضروری ہے کہ ہم واضح کریں کہ مصالحت کس سے کیوں اور کس مقصد کے لیےہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اور حکومت پاکستان اس بات پر کافی واضح ہیں کہ مصالحت صرف ان کے ساتھ ہوجو مصالحت چاہتے ہیں اور یہ مصالحت آئین کے مطابق پرامن قوانین کے تحت ہوسکتی ہے‘۔

اس سے قبل برطانوی وزیر خارجہ نے صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف اور وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی سے الگ الگ ملاقاتیں کیں۔صدر پرویز مشرف نے ملاقات میں واضح کیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے بھاری قیمت چکائی ہے تاہم دہشت گردی کے خلاف جنگ پاکستان اپنے مفاد میں لڑ رہا ہے۔

اس موقع پر برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ برطانیہ پاکستان کے سرحدی اور قبائلی علاقوں میں امن و امان کا خواہاں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ برطانیہ ہتھیار پھینک دینے والے عسکریت پسندوں سے مذاکرات کا حامی ہے کیونکہ اس سے دہشت گردی کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات میں بتایا کہ ان کی حکومت نے تشدد چھوڑ دینے اور ہتھیار ڈالنے والوں سے پہلے ہی مذاکرات کا عمل شروع کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت قبائلی علاقوں میں ترقیاتی عمل کے ساتھ ساتھ وہاں کے لوگوں کو ان کے جمہوری حقوق دینے کا فیصلہ کیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں
صدر مشرف پر دباؤ بڑھ رہا ہے
13 November, 2007 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد