BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 July, 2007, 13:39 GMT 18:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کی قربانیوں کا اعتراف‘

برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ، خورشید قصوری کے ہمراہ
’ہم پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں‘
برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ برطانیہ قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے مشتبہ ٹھکانوں سے نمٹنے کے لیے مشترکہ لائحہ عمل پر یقین رکھتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار پاکستان کا دورہ کرنے والے برطانیہ کے وزیر خارجہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے جمعرات کو ایک اخباری کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا:’دہشت گردی کو شکست دینا یکطرفہ معاملہ نہیں یہ اقوام کے درمیان تعاون کا مسئلہ ہے‘۔

تجزیہ نگار اسے برطانیہ کی جانب سے پاکستانی موقف کی حمایت قرار دے رہے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ کا منصب سنبھالنے کے بعد ڈیوڈ ملی بینڈ کا یورپ سے باہر کسی ملک کا یہ پہلا دورہ ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے مشترکہ چیلنج کا مقابلہ کرنے کا درست راستہ اشتراکِ عمل ہے۔

ڈیوڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا: ’یہ ایک مشترکہ چیلنج ہے جس کا ہمیں سامنا ہے اور ہمیں مل کر سنجیدگی سے اس کا مقابلہ کرنا ہے۔ اس جنگ میں پاکستان کا اپنا مفاد ہے۔ ہم پاکستان کی کوششوں اور قربانیوں کا اعتراف کرتے ہیں‘۔

اس اخباری کانفرنس میں برطانوی وزیرِخارجہ کے ساتھ ان کے پاکستانی ہم منصب خورشید محمود قصوری بھی موجود تھے۔ خورشید محمود قصوری نے اس موقع پر بعض امریکی اہلکاروں کی جانب سے ان بیانات پر برہمی کا اظہار کیا جس میں انہوں نے قبائلی علاقوں میں یکطرفہ کارروائی کی بات کی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ یہ امریکہ میں انتخابی سال ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ ایسے بیانات دے کر پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے۔

برطانوی وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے برطانیہ میں دہشت گردی کے واقعات کی کڑیاں پاکستان سے ملنے کے معاملے پر بھی بات کی ہے

خورشید محمود قصوری کا کہنا تھا: ’ایسے بیانات غیرذمہ دارانہ ہیں، نہیں دیے جانے چاہیں۔ دراصل اس قسم کے بیانات پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعاون اور کوششوں کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ پاکستان جو کچھ بھی کر رہا ہے اپنے مفاد میں کر رہا ہے۔ دہشت گردی پاکستان کے مفاد میں نہیں۔ بعض امریکی ترجمان یا وہ جو کوئی بھی تھے جذبات کی رو میں بہہ گئے تھے‘۔

گزشتہ دنوں بعض اعلیٰ امریکی اہلکاروں نے کہا تھا کہ پاکستان میں دہشت گردی کے مشتبہ ٹھکانوں پر امریکی حملوں کا امکان موجود ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ نے اس موقع پر عالمی برادری سے افغان سرحد سیل کرنے پر تعاون نہ کرنے کی بھی شکایت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی باڑ لگانے یا بارودی سرنگیں بچھانے کی تجاویز نہ صرف بین الاقوامی برادری نے مسترد کیں بلکہ اس کا کوئی متبادل حل بھی نہیں بتایا۔’چمن کے مقام پر سرحد کو روزانہ تیس ہزار لوگ پار کرتے ہیں۔ انہیں روکنا ممکن نہیں یہ لوگ کاروباری ہیں دہشت گرد نہیں‘۔

برطانوی وزیر خارجہ نے بتایا کہ انہوں نے برطانیہ میں دہشت گردی کے واقعات کی کڑیاں پاکستان سے ملنے کے معاملے پر بھی بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ اس بابت دونوں ممالک کی ذمہ داریاں بنتی ہیں۔ ’ہمیں اس سپلائی روٹ کو کاٹنا ہوگا‘۔

برطانوی وزیر خارجہ نے جمعرات کی صبح صدر جنرل پرویز مشرف سے بھی ملاقات کی جس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کے علاوہ اقتصادی تعاون پر بھی بات ہوئی۔

متحدہ قومی موومنٹ کے سربراہ الطاف حسین کے خلاف عمران خان کے مقدمے کے بارے میں برطانوی وزیر خارجہ نے کچھ کہنے سے انکار کیا۔ ان کا موقف تھا کہ یہ معاملہ زیرِ تفتیش ہے لہذا ان کے لیے اس بارے میں کچھ کہنا درست نہیں ہوگا۔

اسی بارے میں
برطانیہ جواب دے: جنرل مشرف
10 December, 2003 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد