BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 17 November, 2008, 16:19 GMT 21:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کرائے کے دو بجلی گھروں کو اجازت
 لوڈشیڈنگ
پاکستان کو سنہ 2008 میں بجلی کے بدترین بحران کا سامنا رہا
پاکستان میں نجی شعبے میں بجلی کی پیداوار کے فروغ کے سرکاری ادارے (پی پی آئی بی) نے ملک میں کرائے کے دو بجلی گھروں کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے جو جلد ہی بجلی کی پیدوار شروع کر دیں گے۔

ایک سرکاری اعلان کے مطابق ان دونوں بجلی گھروں کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت مقرر کرنے کے لیے ایک اجلاس پیر کو’پی پی بی آئی بی‘ کے دفتر میں منعقد ہوا جس میں انڈیپنڈنٹ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے اٹھارہ امریکی سینٹ فی یونٹ جبکہ گلف رینٹل پاور کے لیے سولہ امریکی سینٹ فی یونٹ کی منظوری دی گئی۔

یہ دونوں پاور کمپنیاں تین سو میگا واٹ بجلی پیدا کریں گی۔

دنیا بھر سے کرائے پر بجلی گھروں کا حصول حکومت کی ملک میں بجلی کی قلت کو ختم کرنے کے قلیل مدتی پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت آئندہ ایک برس کے دوران بائیس سو میگا واٹ بجلی ان کرائے کے بجلی گھروں سے حاصل کی جائےگی۔

کرائے کے بجلی گھر بجلی کے بحران کا شکار ممالک کو بجلی فراہم کرنے کا تیز ترین مگر مہنگا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔سرکاری اعلامیہ کے مطابق ان دونوں کمپنیوں کے لیے منظور کیے گئے نرخ پانچ سال کے لیے لاگو ہوں گے۔

پیر کو جاری ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ ستمبر میں حکومت کی جانب سے’ فاسٹ ٹریک پرائیویٹ پاور پراجیکٹ‘ نامی منصوبہ کی تشہیر کی گئی تھی جس کے تحت ان بجلی گھروں سے جلد از جلد بجلی خریدی جا سکے گی۔

ان بجلی گھروں کو کام کرنے کی اجازت دینے سے قبل ابھی بعض دیگر مراحل سے بھی گزرنا ہے جن میں ایک اعلٰی اختیاراتی کمیٹی کی جانب سے ان نرخوں کی منظوری کا عمل بھی شامل ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق نرخوں کی منظوری کا عمل ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا۔

پانی و بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف نے اس موقع پر کہا کہ بولی کا اجائزہ لینے
والی کمیٹی کے ارکان جن کا تعلق پی پی آئی بی ، نیپرا ، واپڈا اور این ٹی ڈی سی سے ہے، سرمایہ کاروں کی تکنیکی اور مالی پیشکش کا مکمل جائزہ لیں گے جس کے بعد باقاعدہ طور پر ان بجلی گھروں کا کام شروع کر دیا جائے گا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بجلی گھروں کے سرمایہ کاروں کی تمام ضروریات کو پورا کیا جائے گا تاکہ انہیں بجلی گھر لگانے میں کوئی دقت پیش نہ آئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد