کرائے کے دو بجلی گھروں کو اجازت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں نجی شعبے میں بجلی کی پیداوار کے فروغ کے سرکاری ادارے (پی پی آئی بی) نے ملک میں کرائے کے دو بجلی گھروں کو کام کرنے کی اجازت دے دی ہے جو جلد ہی بجلی کی پیدوار شروع کر دیں گے۔ ایک سرکاری اعلان کے مطابق ان دونوں بجلی گھروں کے لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت مقرر کرنے کے لیے ایک اجلاس پیر کو’پی پی بی آئی بی‘ کے دفتر میں منعقد ہوا جس میں انڈیپنڈنٹ پاور پرائیویٹ لمیٹڈ کے لیے اٹھارہ امریکی سینٹ فی یونٹ جبکہ گلف رینٹل پاور کے لیے سولہ امریکی سینٹ فی یونٹ کی منظوری دی گئی۔ یہ دونوں پاور کمپنیاں تین سو میگا واٹ بجلی پیدا کریں گی۔ دنیا بھر سے کرائے پر بجلی گھروں کا حصول حکومت کی ملک میں بجلی کی قلت کو ختم کرنے کے قلیل مدتی پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت آئندہ ایک برس کے دوران بائیس سو میگا واٹ بجلی ان کرائے کے بجلی گھروں سے حاصل کی جائےگی۔ کرائے کے بجلی گھر بجلی کے بحران کا شکار ممالک کو بجلی فراہم کرنے کا تیز ترین مگر مہنگا ذریعہ سمجھے جاتے ہیں۔سرکاری اعلامیہ کے مطابق ان دونوں کمپنیوں کے لیے منظور کیے گئے نرخ پانچ سال کے لیے لاگو ہوں گے۔ پیر کو جاری ہونے والے پریس ریلیز کے مطابق گزشتہ ستمبر میں حکومت کی جانب سے’ فاسٹ ٹریک پرائیویٹ پاور پراجیکٹ‘ نامی منصوبہ کی تشہیر کی گئی تھی جس کے تحت ان بجلی گھروں سے جلد از جلد بجلی خریدی جا سکے گی۔ ان بجلی گھروں کو کام کرنے کی اجازت دینے سے قبل ابھی بعض دیگر مراحل سے بھی گزرنا ہے جن میں ایک اعلٰی اختیاراتی کمیٹی کی جانب سے ان نرخوں کی منظوری کا عمل بھی شامل ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق نرخوں کی منظوری کا عمل ایک ہفتے میں مکمل کر لیا جائے گا۔ پانی و بجلی کے وزیر راجہ پرویز اشرف نے اس موقع پر کہا کہ بولی کا اجائزہ لینے | اسی بارے میں بجلی کے بعد اب گیس کا بحران؟25 October, 2008 | پاکستان اکتوبر، بلوں پر 40 فیصد رعایت24 October, 2008 | پاکستان ’روزانہ 5 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے‘07 November, 2008 | پاکستان ’بیس سالوں کے لیے منصوبہ بندی تیار‘13 November, 2008 | پاکستان پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ مزید کم14 November, 2008 | پاکستان ’قادر پور گیس فیلڈ کی نجکاری نہیں‘14 November, 2008 | پاکستان ’دن کیسے بیت رہے ہیں وہ میں جانتی ہوں‘17 November, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||