BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 13 November, 2008, 16:09 GMT 21:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بیس سالوں کے لیے منصوبہ بندی تیار‘

وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی
یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ ہر مسئلے کو پارلیمان میں لا کر حل کرنا چاہتے ہیں
وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ اس وقت ملک کو امن و امان اور معیشت کی موجودہ خراب صورتحال سامنا ہے اور اگر کسی کے پاس ان مسائل کا حل ہے تو وہ اقتدار سے علیحدہ ہونے کو تیار ہیں۔

جمعرات کو سینیٹ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب تک ملک میں امن وامان کی صورتحال بہتر نہیں ہوتی تب تک غیر ملکی سرمایہ کاری پاکستان میں آنا مشکل ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت ان مسائل سے پوری طرح باخبر ہے اور وہ ان مسائل کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

یوسف رضا گیلانی کا کہنا تھا کہ وہ ہر مسئلے کو پارلیمان میں لا کر حل کرنا چاہتے ہیں کیونکہ ان کے مطابق ارکانِ پارلیمان کو اعتماد میں لینا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب تک دہشت گردی پر مکمل قابو نہیں پایا جاتا تب تک ملک کی موجودہ صورتحال بہتر ہونا مشکل ہے۔ انہوں نے بھارتی ہاکی ٹیم کے پاکستان میں نہ آنے پر انتہائی افسوس اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک بیرونی ٹیمیں پاکستان میں آنے سے انکار کرتیں رہیں تو تعلقات کیسے بہتر ہو سکتے ہیں اور زرمبادلہ کہاں سے آسکتا ہے۔

قادر پور گیس فیلڈ کی نجکاری کے بارے میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت نے اسے فروخت کرنے کا نہیں کہا ہے یہ مسئلہ تو سابقہ حکومتوں سے چلا آرہا ہے تو پھر موجودہ حکومت پر اس کی ذمہ داری کیوں ڈالی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت نے کوئی فیصلہ لیا بھی تو پارلیمان کے تمام ارکان کو اعتماد میں لے کر کرے گی۔

بجلی کے مسئلہ پر وزیر اعظم نے کہاکہ سابقہ حکومت پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے لیکن اب اگر پانی کم ہوگا تو اس کی ذمہ دار موجودہ حکومت ہوگی۔ یوسف رضا گیلانی کا کہنا ہے کہ وہ ایسا ہونے نہیں دیں گے کیونکہ موجودہ حکومت آئندہ بیس سالوں کے لیے منصوبہ بندی کر رہی ہے۔

اُدھر قومی اسمبلی کے اجلاس میں وقفہ سوالات کے دوران وزیر نجکاری سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت موجودہ سال اور آئندہ برس پاکستان سٹیل ملز سمیت سترہ یونٹوں کی نجکاری کرنے کا ارداہ رکھتی ہے۔

واضح رہے کہ صنعتوں کے وفاقی وزیر میاں منظور وٹو نے چند روز قبل ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ حکومت نے پاکستان سٹیل ملز کو قومی اثاثہ قرار دیتے ہوئے اُس کی نجکاری روک دی ہے۔

اسی بارے میں
حکومتی عملداری نافذ کریں گے
08 November, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد