BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
میریئٹ: ملزمان کا عدالتی ریمانڈ

اس حملے میں کم سے کم پچپن افراد ہلاک ہوگئے تھے
انسداد دہشت گردی کی عدالت نے میریئٹ ہوٹل پر ہونے والے خودکش حملے میں گرفتار ہونے والے چار ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر اڈیالہ جیل بھیج دیا ہے۔

منگل کے روز چاروں ملزمان کو جن میں ڈاکٹر عثمان، تحسین اللہ جان، حمید افضل اور رانا الیاس شامل ہیں، انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت میں پیش کیا گیا۔

تھانہ سکریٹریٹ پولیس کے انچارج الطاف عزیز خٹک ملزمان کو پولیس کے سخت پہرے میں عدالت میں لائے۔ انہوں نے عدالت کو بتایا کہ اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے ملزمان سے تفتیش مکمل کرلی ہے اور اب یہ افراد پولیس کو تفتیش کے لیے مطلوب نہیں ہیں لہذا انہیں جیل بھیج دیا جائے۔ جس پر عدالت نے اُنہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا اور عدالت نے تفتیشی افسر کو ہدایت کی کہ وہ ملزمان کو اٹھارہ نومبر کو عدالت میں دوبارہ پیش کرے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ یہ ملزمان میریئٹ ہوٹل میں بیس ستمبر کوہونے والے خودکش حملے میں براہ راست ملوث تو نہیں ہیں البتہ اُن کے بارے میں شُبہ ہے کہ وہ اس واقعہ میں ملوث خودکش حملہ آور کے سہولت کار ہیں اور اُن کے شدت پسندوں کے ساتھ خصوصی تعلقات ہیں۔

ان ملزمان کو گزشتہ ماہ ملک کے مختلف علاقوں سے گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مقدمہ کی تفتیش کے حوالے سے نو افراد اب تک خفیہ اداروں کی تحویل میں ہیں۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ملزمان نے کچھ انکشافات کیے ہیں جن کی روشنی میں اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم مختلف پہلوؤں پر تفتیش کر رہی ہے۔

اُدھر اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم نے مذکورہ ملزمان سے ہونے والی تفتیش کے بارے میں ایک رپورٹ وزارت داخلہ کو بھجوا دی ہے۔

واضح رہے کہ اس خودکش حملے کی تحقیقات کے لیے وزارت داخلہ نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ڈائریکٹر جنرل طارق پرویز کی سربراہی میں ایک پانچ رکنی تفتیشی ٹیم تشکیل دے رکھی ہے۔

بیس ستمبر کو میریئٹ ہوٹل کے گیٹ پر خودکش حملہ آور نے بارود سے بھرا ٹرک ٹکرا دیا تھا جس سے 55 افراد ہلاک اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوگئے تھے۔

اس مقدمے کی تفتیش کرنے والی ٹیم ڈیڑہ ماہ کا عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس دھماکے میں استعمال ہونے والے ٹرک کا نمبر یا اُس کے مالک کا سراغ نہیں لگا سکی۔

میریئٹ ہوٹلمیریئٹ کا اندرون
میریئٹ ہوٹل: اندرونی حصے کی تصاویر
اسلام آباد میں عیدعید خریدار کہاں
اسلام آباد: عید پر میریئٹ حملے کا سایہ
میریئٹصرف باتیں اور اعلان
میریئٹ کے گارڈز کی امداد صرف زبانی کلامی
میریئٹ ہوٹل’خود ہی دیکھ لیں‘
لوگ بچوں سمیت جلتا میریئٹ ہوٹل دیکھنے آئے
اسی بارے میں
عزم برقرار رہے گا: آصف زرداری
20 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد