زلزلہ، بہت سے علاقے امداد سے محروم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان زلزلے کے پانچویں دن بھی امدادی ٹیمیں بہت سےدور دراز علاقوں میں اب تک نہیں پہنچ سکی ہیں۔ حکومت اور غیرسرکاری تنظیموں نے ان امدادی کاموں کے لیے وام کے گاؤں کو مرکزی ہیڈ کواٹر کی حثیت دی ہے جس کی وجہ سے زیادہ تر امداد بھی وام کے لوگوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔ متاثرہ لوگوں میں ٹینٹ، کمبل، خوراک اور ادویات تقسیم کی جا رہی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق حکمران اور سرکاری اہلکار بھی وام پہنچ کر امدادی سامان کی ترسیل اور تقسیم دیکھ کر ’سب کچھ اچھا ہے‘ کہتے ہوئے واپس گاڑی میں بیٹھ کر کوئٹہ کی طرف واپس لوٹ جاتے ہیں۔ وام کوئٹہ سے نوے کلومیٹر شمال مشرق کی طرف زیارت جانے والی سڑک پر واقع ہے لیکن زیارت، پشین خانوزئی اور توبہ اچکزئی کے دور دراز علاقوں میں ابھی تک امدادی ٹیمیں نہیں پہنچ سکی ہیں۔ وہاں ہزاروں لوگوں کے گھر گرگئے ہیں یا پھر ان میں دراڑیں پڑنے کی وجہ سے رہنے کے قابل نہیں رہے۔ ان علاقوں میں امدادی کاموں کا آغاز نہ ہونے کی وجہ سے لوگ احتجاج کر نے پر مجبور ہیں۔ زیارت کے سرہ کلا گوگئی، احمدون، کواس، خرواری، بابا زیارت اور بہت سے دیگر دور دراز علاقوں میں ابھی تک حکومت یا غیرسرکاری تنظیموں کی جانب سے کوئی نہیں پہنچ سکا ہے۔
ان علاقوں میں مکانات تباہ ہونے کی وجہ سے شدید سردی میں لوگ رات کوکھلے آسمان تلے سونے پر مجبور ہیں۔ ان کے پاس نہ خوراک ہے نہ پینے کے لیے صاف پانی دستیاب ہے کیونکہ زلزلے کے بعد سے پورے علاقے میں بجلی اور گیس کی سپلائی کا نظام درہم برہم ہوچکاہے۔ سردی کی شدت کی وجہ سے بچوں میں کالی کھانسی اور خوراک کی کمی کی وجہ سے دست کی بیماریاں بھی پھیل رہی ہیں۔ متاثرہ علاقے میں کام کرنے والی ڈاکٹر فریدہ مسعود نے بتایا کہ زلزلے سے متاثرہ لوگوں کو نفسیاتی مدد کی بھی ضرورت ہے ورنہ لوگوں میں ذہنی بیماریاں پھیل سکتی ہیں۔ علاقے سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیرمولوی عبدالصمدنے زلزلے کے تیسرے روز بعض متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ یہاں امدادی کیمپ میں لوگوں کا ہجوم موجود تھا اور چیزوں کی تقسیم فوج کی نگرانی میں جاری تھا لیکن بےترتیبی کا یہ عالم تھا کہ کچھ لوگ توسامان سے پک اپ بھر کر لے جا رہے تھے اور کچھ کوخالی ہاتھ لوٹنا پڑا۔ یہاں بعض ایسے بھی لوگ تھے جوصرف ٹینٹ لینے کیلئے لائن میں کھڑے تھے ان لوگوں نے بتایا کہ جب تک ان کوخیمے نہیں ملیں گے اس وقت تک وہ امداد کی باقی چیزیں کہاں رکھیں گے کیونکہ وہ خود کھلے آسمان تلے پڑے ہیں۔
دوسری جانب غیرسرکاری تنظیموں نے شکایت کی کہ انہیں ضلعی ڈسٹرکٹ آفیسرکی جانب سے مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ڈی سی او کاموقف ہے کہ تمام چیزیں ان کی مرضی کے مطابق تقسیم ہونی چاہیں۔ لیکن ایک مقامی ناظم کے مطابق حکومت نے زیارت کے متاثرہ علاقے کو اے اور بی ایریا میں تقسیم کیا ہے اور پہلے مرحلے میں اے ایریا پر توجہ دی جا رہی ہے جہاں اموات زیادہ ہوئی ہیں۔ دوسری طرف سیاسی جماعتوں کی جانب سے بھی مقامی سطع پر زلزلہ زدگان کی امداد کا کام جاری ہے لیکن امداد کی عالمی تنظمیں یواین ایچ سی آر اور یونیسف ابھی تک عملی طور پرمیدان میں نہیں آئی ہیں۔ |
اسی بارے میں غیر ملکی امداد بھی قبول: شیری 30 October, 2008 | پاکستان ہلاکتوں اور امداد پر متضاد خبریں30 October, 2008 | پاکستان جب زلزلہ آیا30 October, 2008 | پاکستان شدید سردی، 200 ہلاکتیں30 October, 2008 | پاکستان زلزلے میں 160 افراد ہلاک29 October, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||