BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 30 October, 2008, 13:39 GMT 18:39 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاکتوں اور امداد پر متضاد خبریں

عورت
فوج نے ہماری بنائی ہوئی فہرست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود فہرست بنائیں گے۔ اس وجہ سے خیمے تقسیم نہیں ہو رہے ہیں۔ اس وقت چالیس سے پچاس ہزار افراد متاثر ہیں اور ان کو بیس ہزار خیمے فوری طور پر چاہیں: دلاور کاکڑ

بلوچستان میں زلزلے کے چوبیس گھنٹے گزر جانے کے بعد بھی ہلاکتوں اور امدادی سامان کے حوالے سے متضاد خبریں مل رہی ہیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد دو سو سے تجاوز کر گئی ہے لیکن وفاقی وزیر برائے اطلاعات شیری رحمٰن نے اسلام آباد میں پارلیمنٹ کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے زلزلے میں ایک سو پینتالیس ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ دوسری طرف زیارت کے ناظم دلاور کاکڑ کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایک سو ستر ہلاک ہونے والے افراد کی فہرست ان کے پاس موجود ہے۔

دریں اثناء زلزلہ متاثرین کو امداد کے حوالے سے بھی متضاد اطلاعات ہیں۔

کوئٹہ سے ہمارے نامہ نگار ایوب ترین نے بتایا کہ زیارت کے ناظم دلاور کاکڑ نے بی بی سی کو بتایا کہ زیارت میں صرف دو سو خیمے تقسیم کیے گئے ہیں جبکہ آئی جی ایف سی سلیم نواز کا کہنا ہے کہ متاثرین میں دو ہزار خیمے تقسیم کیے گئے ہیں۔

متاثرہ بچے
زلزلے سے متاثرہ بچے سخت سردی میں امداد کے منتظر

دلاور کاکڑ نے کہا ’فوج نے ہماری بنائی ہوئی فہرست کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ خود فہرست بنائیں گے۔ اس وجہ سے خیمے تقسیم نہیں ہو رہے ہیں۔ اس وقت چالیس سے پچاس ہزار افراد متاثر ہیں اور ان کو بیس ہزار خیمے فوری طور پر چاہیں۔’

زیارت اور دیگر علاقوں میں بین الاقوامی تنظیمیں بھی امدادی کام کے لیے پہنچ گئی ہیں جن میں کیئر انٹرنیشنل، مرسی کور، امریکن ریفیوجی کونسل شامل ہیں۔

بلوچستان کے وزیر اعلٰی نواب اسلم رئیسانی نے بین الاقوامی امداد کی اپیل کی ہے۔ دوسری طرف بلوچستان کے سینیئر وزیر مولانا عبدلواسے نے قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ فاروق احمد خان کے اس بیان پر تنقید کی ہے جس میں انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان بین الاقوامی امداد کی اپیل نہیں کرے گا۔

’اگر یہ زلزلہ پنجاب میں آیا ہوتا تو وفاقی حکومت بین الاقوامی مدد کی اپیل کرتی لیکن بلوچستان میں اس سانحہ پر اپیل نہیں کر رہی ہے۔’

اس کے علاوہ شدید زخمی افراد کو زلزلے سے متاثرہ علاقے سے کوئٹہ لایا جا رہا ہے۔ تاہم آفٹر شاکس کے سبب مریض ہسپتال میں رہنے کو ترجیح نہیں دے رہے ہیں۔ اس کے لیے صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ہسپتال کے احاطے میں خیمے لگا کر مریضوں کو رکھیں گے۔

اسلام آباد سے ہمارے نامہ نگار آصف فاروقی نے بتایا کہ قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے سربراہ جنرل ریٹائرڈ فاروق احمد خان نے جمعرات کو پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ بلوچستان کے مختلف مقامات کا جائزہ لیا گیا ہے لیکن میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے برعکس بڑے پیمانے پر ایسے متاثرین نہیں ملے جو امدادی کارکنوں کی پہنچ سے باہر رہ گئے ہوں۔

پاکستانی اخبارات اور ٹیلی وژن چینلز گزشتہ رات سے ایسی اطلاعات نشر کر رہے ہیں کہ فوج اور سول انتظامیہ کی جانب سے امدادی کارروائیوں کے باوجود زیارت اور پشین کے اضلاع میں ہزاروں متاثرین زلزلہ نے سخت سردی میں رات کھلے آسمان تلے، بغیر کسی امداد کے گزاری۔

جنازہ
میڈیا میں آنے والی اطلاعات کے برعکس بڑے پیمانے پر ایسے متاثرین نہیں ملے جو امدادی کارکنوں کی پہنچ سے باہر رہ گئے ہوں: جنرل فاروق

تاہم نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سربراہ نے کہا کہ ان متفرق اطلاعات کی بنیاد پر جمعرات کی صبح پو پھوٹتے ہی پاک فوج کے ہیلی کاپٹرز کے ذریعے زیارت اور اس سے ملحقہ دیگر علاقوں کا اچھی طرح جائزہ لیا لیکن ایسے زلزلہ متاثرین نہیں ملے جن تک امداد کی رسائی نہ ہو سکی ہو۔

جنرل فاروق نے میڈیا سے اپیل کی کہ اگر انکے پاس ایسی متاثرین کے بارے میں اطلاعات ہیں جن تک امداد نہ پہنچ سکی ہو تو اس بارے میں عمومی قسم کے بیان بازی کے بجائے مخصوص اطلاعات فراہم کی جائیں تاکہ ان تک رسائی ممکن بنائی جائے۔

انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ بدھ کی صبح آنے والے تباہ کن زلزلے کے بعد سے بلوچستان کے مختلف علاقوں میں تین نئے زلزلے ریکارڈ کئے جا چکے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ اس صوبے کے بعض علاقوں میں زیرزمین توانائی بہت زیادہ ہے جسکا اخراج بھی ہور ہا ہے۔ انہوں نے خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ زلزلے سے متعلق زیرزمین یے کارروائی کسی بھی بڑے حادثے کا باعث بن سکتی ہے۔

بلوچستان کے زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے بارے میں تفصیل بتاتے ہوئے اتھارٹی کے سربراہ نے کہا کہ چار ہزار بے گھر افراد کو خیمہ بستی میں پہنچا دیا گیا ہے جبکہ وہ لوگ جو ان بستیوں میں رہنا نہیں چاہتے تھے انہیں خیمے، کمبل، جیکٹس، پلاسٹک شیٹس اور ایک ہفتے کا راشن چولہے سمیت فراہم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ زلزلہ زدہ علاقوں میں امدادی کاروائیوں کا جائزہ لینے کے لئے مشیر داخلہ رحمٰن ملک کی سربراہی میں اسلام آباد میں ایک اجلاس بھی منعقد ہوا جس میں بلوچستان میں زلزلے کے بعد کی صورتحال کی تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اس اعلٰی سطحی اجلاس میں فیصلہ گیا کہ یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن کے ذریعے زلزلے سے متاثرہ چالیس ہزار کی آبادی میں راشن کی تقسیم کا بندوبست کیا جائے۔

فاروق احمد خان نے بتایا کہ پاکستان کی جانب سے درخواست نہ کئے جانے کے باوجود بہت سے غیرملکوں اور اداروں نے اس مشکل سے نمٹنے کے لئے امداد کی پیشکش کی ہے ان میں امریکہ اور چین کی جانب سے دس دس لاکھ ڈالر کی کیش کی فراہمی قابل ذکر ہے۔

پاکستان: فالٹ لائن
کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ، فالٹ لائن پر
عبدالرزاق جب زلزلہ آیا
بچوں کو نکالنے میں دیر ہوئی، اب گھر نہیں بنتا
اسی بارے میں
شدید سردی، 200 ہلاکتیں
30 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد