بلوچستان کے لیے عالمی امداد کیوں نہیں؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں زلزلے کے متاثرین کی امداد کے لیے حکومتِ پاکستان نے عالمی امداد کی اپیل نہ جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ تیسرا ایسا موقع ہے کہ وفاقی حکومت نے بلوچستان کے لیے عالمی امداد سے یا انکار کر دیا ہے یا بین الاقوامی اور قومی سطح پر کام کرنے والی تنظیموں کو مدد کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ اس کے برعکس بلوچستان کے وزیر اعلی نے بین الاقوامی تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ہے۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فاروق احمد خان نے جمعرات کو اسلام آباد میں ایک اخباری کانفرنس میں بتایا کہ بلوچستان میں آنے والا زلزلہ مقامی نوعیت تھا جس سے نمٹنے کے لیے ملک میں صلاحیت موجود ہے، لہذا مدد کے لیے انٹرنیشل اپیل جاری کرنے کا کوئی حکومتی ارادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود اگر کوئی ملک پاکستان کی مدد کرنا چاہتا ہے تو اسے خوش آمدید کہا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات شیری رحمان نے بھی یہی بیان دہرایا ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ بلوچستان کے لیے بین الاقوامی امداد حاصل کرنے کے لیے اپیل نہیں کی جا رہی ہے۔ اس سے پہلے دو مرتبہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں ایسے واقعات پیش آئے تھے جن میں مختلف حلقوں نے بین الاقوامی امداد حاصل کرنے کے لیے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا تھا لیکن ان مطالبات کو رد کر دیا گیا تھا۔ یہ مطالبات اس وقت کیے گئے تھے جب ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی آپریشن کے بعد بڑی تعداد میں لوگ بےگھر ہوکر بلوچستان، سندھ اور پنجاب کے مختلف علاقوں میں جھونپڑیوں میں رہنے لگے تھے۔ اب تک ان لوگوں کی ایک بڑی تعداد بے آسرا پڑی ہے۔ ان بےگھر بلوچوں کی مدد کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے اور مقامی سطح پر ایدھی نے کوششیں کی تھیں لیکن انہیں مشرف دور میں منع کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد گزشتہ سال جون اور جولائی میں شدید بارشوں اور سیلاب سے بلوچستان کی ایک بڑی آبادی بری طرح متاثر ہوگئی تھی جس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور ہزاروں بےگھر ہوگئے تھے۔ ہزاروں گھر تباہ اور مال مویشی اور کھڑی فصلیں پانی میں بہہ گئی تھیں۔ تربت، جھل مگسی، بولان، خاران، آواران اور بولان کے علاقے شدید متاثر ہوئے تھے۔ اس وقت بھی مسلم لیگ قائد اعظم سے تعلق رکھنے والے سابق صوبائی وزیر اعلی جام محمد یوسف اور دیگر صوبائی سطح کے حکام نے بین الاقوامی تنظیموں سے باالکل اسی طرح مدد کی اپیل کی تھی جس طرح اب پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے بلوچستان کے وزیر اعلیٰ نے کی ہے۔ نواب اسلم رئیسانی کی اپیل کا کتنا اثر ہوگا یہ معلوم نہیں ہے لیکن ماضی میں جام یوسف کی اپیل کا تو کوئی اثر کہیں نظر نہیں آیا تھا۔ بلوچستان میں عام طور پر لوگ یہی سوال اٹھا رہے ہیں کہ آخر وفاقی حکومت بلوچستان کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر امداد کی اپیل کیوں نہیں کر رہی ہے۔ اگر مشرف دور کو دیکھا جائے تو یہی سمجھ میں آتا ہے کہ اس وقت کے فوجی حکمرانوں نے جو آپریشن شروع کیا تھا اسے وہ بین الاقوامی سطح پر مخفی رکھنا چاہتے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں نہ اس وقت اور نہ ہی اب تک ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو جانے کی اجازت ہے۔ اب جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت ہے اور یہ جماعت اپنے آپ کو عوامی جماعت کہلواتی ہے تو فوجی دور حکومت کی ان پالیسیوں کو ترک کیوں نہیں کیا جا رہا؟ تاکہ ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے بےگھر بلوچوں سمیت سیلاب زدگان اور اب زلزلہ زدگان کی بہتر طور پر مدد کی جائے اور انہیں وہ ضروریات زندگی فراہم کی جاسکیں جن کی انہیں فوری ضرورت ہے؟ |
اسی بارے میں غیر ملکی امداد بھی قبول: شیری 30 October, 2008 | پاکستان ہلاکتوں اور امداد پر متضاد خبریں30 October, 2008 | پاکستان جب زلزلہ آیا30 October, 2008 | پاکستان شدید سردی، 200 ہلاکتیں30 October, 2008 | پاکستان بلوچستان زلزلے میں 160 افراد ہلاک29 October, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||