BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 31 October, 2008, 07:45 GMT 12:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
شہباز زلزلہ زدہ علاقوں کے دورے پر

بلوچستان میں آنے والے زلزلے سے پچاس ہزار افراد متاثر ہوئے ہیں
وزیراعلی پنجاب شہباز شریف جمعہ کو ایک روزہ دورے پر کوئٹہ پہنچ رہے ہیں جہاں وہ زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں جائیں گے۔ انہوں نے زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے دس کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے۔ دریں اثناء سعودی عرب نے زلزلے کے متاثرین کے لیے دس کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔

ادھر ہلاکتوں کے حوالے سے متضاد اطلاعات مل رہی ہیں۔ بلوچستان میں محکمۂ صحت کے حکام نے بتایا ہے کہ زیارت کے قریب کواس یونین کونسل کے ہسپتال میں بانوے لاشیں پہنچی تھیں جبکہ دیگر علاقوں میں جو ہلاک ہوئے ہیں اور ان کی تدفین لوگوں نے خود کر دی تھی ان کی تعداد کا علم نہیں ہے۔

صوبائی وزیر مالیات زمرک خان کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دو سو پندرہ ہے جبکہ غیرسرکاری تنظیم بلوچستان کوآرڈینیشن کونسل کے عہدیدار امیر محمد ترین نے بتایا ہے کہ ان کے کارکنوں نے دور دراز علاقوں کے دورے کیے ہیں اور ان کی اطلاعات کے مطابق دو سو پینتالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ لیکن اسلام آباد میں بیٹھے حکام یہی دعویٰ کر رہے ہیں کہ ہلاک شدگان کی تعداد دو سو سے کم ہے۔

بلوچستان میں زلزلہ زدگان کی مدد کے لیے حکومت سے زیادہ سیاسی جماعتیں اور قریب واقع دیہاتوں کے مقامی لوگ متحرک ہیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں نے کوئٹہ کے علاوہ مختلف شہروں میں امدادی کیمپس لگائے ہیں۔

مسلم لیگ نواز کے جنرل سیکرٹری ایاز سواتی نے بتایا ہے کہ انہوں نے پنجاب اور مقامی طور پر بارہ ٹرک امدادی سامان کے بھجوائے ہیں جبکہ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی، جمعیت علماء اسلام، جماعت اسلامی اور مقامی لوگوں نے بڑی تعداد میں امدادی اشیاء متاثرہ علاقوں میں بھجوائے ہیں۔

شہباز شریف نے متاثرین کی مدد کے لیے دس کروڑ روپے کا اعلان کیا ہے
کوئٹہ میں لوگوں نے تیسری رات سڑکوں پر جاگ کر گزاری ہے جبکہ کوئٹہ شہر سے بڑی تعداد میں لوگ دیہاتوں میں اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔

کوئٹہ شہر میں خوف کا یہ عالم ہے کہ سول ہسپتال میں وارڈ خالی اور مریض کھلے میدانوں میں زمینوں پر علاج کرا رہے ہیں۔ ہسپتال کے صحن میں ٹینٹ اور شامیانوں سے بنائے گئے ہیں۔ زخمیوں نے بتایا ہے کہ وہ خوف کے مارے وارڈ میں نہیں رہتے کیونکہ وقفے وقفے سے زلزلے آ رہے ہیں۔

زخمیوں نے بتایا کہ انہیں یہاں سیاسی جماعتیں امداد فراہم کر رہی ہیں۔ پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی کے کارکنوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے متاثرہ علاقے میں بڑی تعداد میں امدادی اشیاء پہنچا دی ہیں جبکہ کوئٹہ میں ہسپتال میں زخمیوں کو طبی امداد کے علاوہ ان کے لیے ٹینٹ اور شامیانے لگائے ہیں۔

ادھر زیارت اور خانوزئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق جن علاقوں میں ٹینٹ اور کمبلیں فراہم کی گئی ہیں وہ ٹینٹ اور کمبلیں یہاں شدید سردی میں کارگر نظر نہیں آرہی ہیں اور ان ٹینٹوں کا معیار بھی اچھا نہیں ہے۔ لوگوں نے بتایا ہے کہ مقامی سطح پر جو رضائیاں لوگوں نے فراہم کی ہیں وہ بہتر ہیں جو مقامی موسم کے حوالے سے بنائی گئی ہیں۔

متاثرین نے بتایا ہے کہ شدید سردی کی وجہ سے بچے اور خواتین متاثر ہو رہے ہیں جن کے لیے ادویات فراہم کی جا رہی ہیں۔ پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف جمعہ کو کوئٹہ سے ہیلی کاپٹر کے ذریعے زیارت جائیں گے اور وہاں زلزلے سے متاثرہ لوگوں سے ملاقات کریں گے۔

دریں اثناء سعودی عرب کے فرماں روا شاہ عبداللہ نے زلزلے کے متاثرین کے لیے دس کروڑ ڈالر کی امداد کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان میں سعودی عرب کے سفیر علی عود الاسیری نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور کوئٹہ کے درمیان فضائیہ کے ذریعے براہ راست امداد پہنچائی جائے گی۔

زلزلے کےمتاثرینکھلے آسمان تلے
زلزلے کے بعد سردی اور بے سرو سامانی
عبدالرزاق جب زلزلہ آیا
بچوں کو نکالنے میں دیر ہوئی، اب گھر نہیں بنتا
زلزلے کے متاثرینبلوچستان زلزلہ
شدید سردی میں لوگ گھروں سے باہر نکل آئے
بلوچستان
زلزلے کا آنکھوں دیکھا حال
پاکستان: فالٹ لائن
کراچی، پشاور، ایبٹ آباد، کوئٹہ، فالٹ لائن پر
اسی بارے میں
جب زلزلہ آیا
30 October, 2008 | پاکستان
شدید سردی، 200 ہلاکتیں
30 October, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد