BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچ مسئلہ کو سمجھا نہیں گیا‘

بلوچ گروپوں کا احتجاج
وفاقی حکومت کی جانب سے بلوچستان کے روڈ میپ کے اعلان پر بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین نے کہا ہے کہ مرکز میں بلوچستان کے مسئلے کو سمجھا ہی نہیں گیا یا سمجھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار عطاءاللہ مینگل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسی تجاویز جو بلوچستان کے لوگوں کو قبول ہوں گی اس پر عملدرآمد ہو ہی نہیں سکتا اس لیے لوگ مجور ہوکر اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں لیکن حکومت سے مذاکرات کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب کو وہ باتیں قبول ہی نہیں ہوں گی جو بلوچ چاہتے ہیں اور وفاقی حکومت پنجاب کی مرضی کے بغیر ان پر عمل درآمد کرا ہی نہیں سکتی اگر ایسا کریں گے تو پنجاب انھیں اقتدار سے باہر کر دے گا۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ آخر پنجاب ایسا کیوں نہیں کرے گا تو انھوں نے کہا کہ ’ہمارا مطالبہ ہے کہ تمام صوبوں کو ان کے وسائل پر ان کا حق دیا جائے اور پنجاب کے پاس کچھ ہے نہیں اور پنجاب اس لیے یہ سب کچھ نہیں ہو نے دے گا‘۔

انھوں نے کہا کہ ’درد ہمارے سر میں ہے اور حکومت علاج گھٹنے کا کر رہی ہے‘۔جب ان سے پوچھا کہ امن و امان قائم ہو جائے تو باقی مسائل حل ہو سکتے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ ’تجویز یہ دے رہے ہیں کہ امن و امان قائم کریں۔ آپ مرہم وہاں رکھنے کا کہہ رہے ہیں جہاں درد نہیں ہے۔ درد تو اس وقت ہمارے بدن میں ہو رہا ہے مرہم ہمارے بدن پہ رکھیں ۔مرے تو ہم جا رہے ہیں تباہی ہماری ہورہی ہے امن و امان ہمارا مسئلہ نہیں ہے‘۔

’یہ جنگ ہم نے ہرحالت میں جیتنی ہے۔ اب ہم امن و امان کے قیام میں ان کا ساتھ دے کر اپنی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں دے دیں ایسا بلوچ کبھی نہیں کریں گے۔

نیشنل پارٹی کے رہنما حاصل بزنجو سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے کہا انھیں مذاکرات سے انکار نہیں ہے لیکن اس بارے میں پہلے کئی مرتبہ کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں اور بلوچ قوم پرست جماعتوں نے تجاویز دی ہوئی ہیں۔ اس وقت ان پر عملدرآمد کے لیے جرات چاہیے۔

انھوں نے سوال کیا کہ کہ مشرقی پاکستان کے وقت اختیارات صوبوں کے پاس تھے اور جب مشرقی پاکستان علیحدہ ہوا تو اختیارات مرکز کو کیوں دے دیے گئے۔

حاصل بزنجو نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی، سردار عطاءاللہ مینگل ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ نے قومی خودمختاری کی تجاویز دی ہوئی ہیں جو اس وقت قومی اسمبلی سینیٹ ایوان صدر اور وزیر اعظم سیکریٹیریٹ میں ہوں گی، ان پر عمل دارآمد کیا جائے مسئلہ حال ہو جائے گا لیکن بار بار کمیٹیاں بنا کر وقت ضائع نہ کیا جائے۔

مرکز میں بلوچستان کے حوالے سے مصالحتی کمیٹیوں کے قیام اور روڈ میپ کے اعلان کیا گیا ہے اور بقول بے نظیر مصالحتی کمیٹی کے چیئرمین بابر اعوان کے ابتدائی طور پر تین نکات پر فوری عمل درآمد کے لیے پانچ مرحلوں پر مشتمل روڑ میپ تیار کیا گیا ہے۔

اس کے تحت پہلے مرحلے میں بلوچستان کے دانشوروں کا اسلام آباد میں تیس یا اکتیس اکتوبر کو جرگہ ہو گا جس میں صدر آصف علی زرداری بھی شرکت کریں گے۔

یاد رہے بلوچستان میں سن دو ہزار پانچ میں فوجی آپریشن شروع کرنے سے پہلے اسی طرح کمیٹیاں قائم کی گئی تھیں جن میں سے ایک کی سربراہی وسیم سجاد اور دوسری کمیٹی کی قیادت مشاہد حسین نے تھی۔ سید مشاہد حسین نے اپنی کمیٹی کی رپورٹ جمع کرا دی تھی لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کیا گیا تھا۔

اسی بارے میں
حب میں کار بم دھماکہ
13 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد