’طالبان کی پیشکش سنجیدہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکومتی اتحاد میں شامل جمیعت علماء اسلام کے اپنے دھڑے کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا ہے کہ وہ پرامید ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق قرارداد پارلیمان متفقہ طور پر منظور کرے گی۔ جمعہ کو فون پر بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ متفقہ قرارداد کا متن تیار ہورہا ہے اور انہیں امید ہے کہ بحث کے بعد کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا۔ انہوں نے کہا کہ طالبان کے ترجمان مولوی عمر نے حکومت سے بات چیت کی جو پیشکش کی ہے اس بارے میں انہیں ذاتی طور پر علم ہے کہ یہ سنجیدہ بات ہے۔ جب ان سے پوچھا کہ کیا حکومت سے انہیں کوئی اشارہ ملا ہے کہ پالیسی تبدیل ہوگی اور طالبان سے بات چیت ہوگی تو انہوں نے کہا کہ ’اشاروں سے بھی آگے۔۔ ظاہر ہے کہ اتنا کچھ جو حکومت کر رہی ہے کہ پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کو بریفنگ دی اور بحث ہورہی ہے تو یہ سب کچھ ایسے ہی تو نہیں ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ سابقہ پالیسی سازی میں فوج سمیت کئی فریق شریک رہے ہیں اور حکومت یکطرفہ طور پر کچھ کرنے سے قبل پارلیمان میں اس معاملے پر سیر حاصل بحث کے بعد تمام فریقین کو اعتماد میں لے کر فیصلہ کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق اگر پارلیمان نے انہیں صلح کے لیے کوئی کردار سونپا تو وہ حکومت اور طالبان میں پُل بننے یا ثالثی کرانے کو تیار ہیں۔ مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ پارلیمان میں ہونے والی بحث کے بعد وہ پر امید ہیں کہ کوئی نہ کوئی راستہ ضرور نکلے گا۔ | اسی بارے میں ’مذہبی جماعتیں متفق نہیں ہوں گی‘16 October, 2008 | پاکستان ’بات چیت بھی، کارروائی بھی‘14 October, 2008 | پاکستان خود کش حملے حرام: علماء کا فتویٰ14 October, 2008 | پاکستان ’شدت پسندوں کوسیاسی عمل میں شریک کریں‘13 October, 2008 | پاکستان ’تصویر کادوسرا رخ ‘11 October, 2008 | پاکستان بریفنگ: مسلم لیگ کا عدم اطمینان09 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||