’مذہبی جماعتیں متفق نہیں ہوں گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے پارلیمان کا بند کمرے میں اجلاس اب بھی جاری ہے اور جمعرات کو شروع ہونے والی بحث تین روز مزید جاری رہے گی۔ بحث کا آغاز قومی اسمبلی میں حزب مخالف کے رہنما چوہدری نثار علی خان نے کیا ہے اور امکان ہے کہ آئندہ منگل کو وزیراعظم یا وزیر خارجہ یہ بحث سمیٹیں گے اور حکومت کی کوشش ہوگی کہ وہ اپنی سہ رخی پالیسی کے حق میں ایک قرار داد بھی منظور کرائے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کے متعلق بحث کا آغاز کرنے والے اپوزیشن لیڈر چوہدری نثار علی خان نے دی گئی بریفنگ پر حکومت اور باالخصوص شیری رحمان پر کڑی نکتہ چینی کی اور حکومتی پالیسی کو مسترد کیا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت سابق فوجی آمر پرویز مشرف کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور حقائق چھپائے جا رہے۔ ان کے جواب میں سینیٹ میں قائد ایوان رضا ربانی نے چوہدری نثار علی خان کے اٹھائے گئے نکات کا تفصیل سے جواب دیا اور ان کے تمام خدشات اور الزامات کو مسترد کردیا۔ رضا ربانی نے کہا کہ یہ حکومت کو کریڈٹ جاتا ہے کہ اہم قومی اور حساس مسئلے پر پارلیمان کو اعتماد میں لے رہی ہے۔ بحث کے دوران مولانا فضل الرحمٰن نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ قبائلی علاقوں میں مدارس کا شدت پسندی کو بڑھانے میں کوئی کردار نہیں ہے ۔ بلکہ ان کے مطابق یہ دینی تعلیم کے مراکز ہیں۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ مسائل بات چیت سے حل کریں اور طالبان سے مزاکرات کیے جائیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں پارلیمان کو اعتماد میں لینے کے سب سے زیادہ زور شور سے مطالبات مسلم لیگ (ن) کے علاوہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کر رہی تھیں۔ لیکن جب حکومت نے پارلیمان کا مشترکہ اجلاس بلایا تو سب سے پہلے تنقید بھی قاضی حسین احمد اور عمران خان کی سامنے آئی کہ پارلیمان کی بریفنگ فضول عمل ہے اور بریفنگ دینے والوں سے وہ (قاضی) زیادہ معلومات رکھتے ہیں۔ حکومت نے میاں نواز شریف، محمود خان اچکزئی، قاضی حسین احمد اور عمران خان سمیت کئی ایسے رہنماؤں کو جو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کے رکن نہیں تھے، بریفنگ میں شرکت کی خصوصی دعوت دی لیکن ماسوائے میاں نواز شریف کے کوئی اور شریک نہیں ہوا۔ عمران خان آسٹریلیا روانہ ہوگئے اور جماعت اسلامی نے پشاور سے کراچی تک ٹرین مارچ شروع کردیا۔ جس پر جماعت اسلامی کی قیادت پر حکومتی اتحاد کی جماعتوں کی طرف سے یہ تقنید بھی ہوئی کہ انہوں نے سابق صدر پرویز مشرف۔
نجم سیٹھی سمیت اکثر تجزیہ کار کہتے رہے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے متعلق حکومتی پالیسی پر مذہبی جماعتیں کبھی متفق نہیں ہوں گی۔ آٹھ اکتوبر کو پارلیمان کے دونوں ایوانوں کو ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شجاع پاشا جو اب آئی ایس آئی کے سربراہ ہیں، انہوں نے جب بریفنگ دی تو اس میں جماعت اسلامی کے سینیٹرز بھی شریک ہوئے۔ لیکن جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل منور حسن نے ایک اردو اخبار کو انٹرویو میں کہا کہ حکومت نے ایک فوجی افسر سے پارلیمان کو بریفنگ دلوا کر پارلیمان کو فوج کے ماتحت کردیا ہے۔ قاضی حسین احمد سے منسوب مقامی اخبارات میں شائع ہونے والے بیانات میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حکومت ناکام ہوگئی ہے اور ملک میں نئے انتخابات کرائے جائیں۔ جماعت اسلامی پر ماضی میں الزامات لگتے رہے ہیں کہ وہ اسٹیبلشمینٹ کی خواہشات کے مطابق جمہوری حکومتوں کو گرانے کے لیے ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے۔ لیکن جماعت اسلامی کے رہنما ایسے الزامات اور تاثر کو رد کرتے ہیں۔ پارلیمان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کے بارے میں بریفنگ کے موقع پر مسلم لیگ(ن) کے کچھ اراکین نے بھی جارحانہ رویہ اختیار کیا۔ جس پر حکومت نے میاں نواز شریف سے درخواست کی کہ وہ مداخلت کریں اور اس انتہائی حساس قومی معاملے پر نمبر بنانے کی کوشش نہ کی جائے۔ حکومت کی درخواست پر میاں نواز شریف جو خود دو بار اس ملک کے وزیراعظم رہ چکے ہیں، انہیں اس طرح کے معاملات کا بخوبی اداراک ہے اور انہوں نے اپنی جماعت کو واضح ہدایات دیں کہ وہ مثبت کردار ادا کریں۔ بدھ کو جب پارلیمان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کی پالیسی کے بارے میں فوج اور حکومت کی بریفنگ پر بحث شروع ہوئی تو حکومت اور اپوزیشن کی جماعتوں کے چار سو چالیس اراکین میں سے ایک سو سے بھی کم ممبر اجلاس میں شریک ہوئے۔ جس سے حکومت اور حزب مخالف کی سیاسی جماعتوں کی سنجیدگی کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ | اسی بارے میں ان کیمرہ بریفنگ: سخت سکیورٹی08 October, 2008 | پاکستان بریفنگ: مسلم لیگ کا عدم اطمینان09 October, 2008 | پاکستان پارلیمان، فوجی پالیسیوں پر تنقید09 October, 2008 | پاکستان ہمیں بھی بریفنگ دینے دیں:طالبان 10 October, 2008 | پاکستان ’تصویر کادوسرا رخ ‘11 October, 2008 | پاکستان سکیورٹی بریفنگ، ن لیگ مایوس 15 October, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||