BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 10 October, 2008, 08:44 GMT 13:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آٹا سمگلنگ روکنے کے لیے’پیپلز فورس‘

آٹا
آٹے کی شدید قلت ہے اور بازار میں بیس کلو کا تھیلا سات سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے
بلوچستان کے وزیر خوراک نے آٹے کی سمگلنگ روکنے کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر مشتمل پیپلز فورس تشکیل دی ہے جس نے صوبائی وزیر کی قیادت میں آٹا ملوں پر چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔

ادھر آٹا ملوں نے جمعہ کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہفتے سے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

بلوچستان میں آٹے کی شدید قلت ہے اور بازار میں بیس کلو کا تھیلا سات سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ صوبائی وزیر خوراک علی مدد جتک نے کہا ہے کہ پیپلز فورس میں پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ محکمہ خوارک کے اہلکار اور شہر کے کچھ اہم افراد کو شامل کیا گیا ہے جو آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کوششیں کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ یہ فورس محکمہ خوراک کے زیر انتظام کام کرے گی اور اس کا بنیادی مقصد آٹے کی افغانستان سمگلنگ کو روکنا ہوگا۔

 صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری قیمت پر فروخت کرنے والی دکانیں عید کے بعد سے بند پڑی ہیں اور لوگ دکانوں کے باہر سارا دن اس انتظار میں رہتے ہیں۔

گزشتہ روز مل مالکان نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ صوبائی وزیر اپنے نجی گارڈز کے ساتھ ملوں میں داخل ہوئے اور زبردستی آٹے سے لدی ہوئی گاڑیاں لے گئے تھے۔

آٹے کا یہ بحران صرف کوئٹہ ہی نہیں بلکہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں پایا جاتا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری قیمت پر فروخت کرنے والی دکانیں عید کے بعد سے بند پڑی ہیں اور لوگ دکانوں کے باہر سارا دن اس انتظار میں رہتے ہیں۔

ان لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ آٹے کا تھیلا سات سو روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ایک دوکاندار نے بتایا ’میری روزانہ کی آمدن سو روپے ہے جس میں سے بیس روپے سے زیادہ تو لوکل بس میں آنے جانے کا لگ جاتا ہے۔ باقی بچوں کو کیا کھلاؤں‘۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں وہ چالیس سے پچاس ہزار روپے کے مقروض ہو چکے ہیں’اور اب تو کفن کے پیسے بھی نہیں ہیں‘۔

 اس وقت پنجاب حکومت من مانیاں کر رہی ہے جس وجہ سے بلوچستان اور صوبہ سرحد میں آٹے کی قلت ہے۔
ظہور آغا

آٹے کی بڑھتی قیمت کے بارے میں آٹا مل ایسوسی ایشن کے نائب صدر ظہور آغا نے کہا کہ اس وقت پنجاب حکومت من مانیاں کر رہی ہے جس وجہ سے بلوچستان اور صوبہ سرحد میں آٹے کی قلت ہے۔ صوبائی سیکرٹری خوراک کا کہنا ہے کہ عید کی چھٹیوں کی وجہ سے یہ قلت پیدا ہوئی ہے اب صوبائی حکومت آٹے کی ترسیل کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔

کوئٹہ شہر کے بازاروں میں بیس کلو آٹے کی قیمت سات سو روپے تک ہے جبکہ تندور پر روٹی کا وزن مزید کم کر دیا گیا ہے اور قیمت دس روپے ہی ہے جبکہ چمن اور چند دیگر علاقوں میں روٹی کی قیمت بارہ سے پندرہ روپے تک پہنچ گئی ہے۔

صوبائی وزیر نے دو روز میں آٹا ملوں پر چھاپے لگا کر تیس سے زائد ٹرک پکڑے ہیں لیکن آٹا مل کے مالکان کے مطابق صوبائی وزیر اور محکمے کے حکام نے اس کارروائی پر معذرت کر کے آٹے کے ٹرک ملوں کوواپس کر دیے ہیں۔

ظہور آغا کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت تو صوبے میں صرف ایک تہائی ضرورت پورا کرتی ہے۔ جمعہ کو آٹا مل مالکان نے احتجاجاً ملیں بند رکھیں لیکن صوبائی حکومت سے مذاکرات کے بعد انھوں نے کل سے آٹا ملیں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں
سندھ: آٹے کی نئی قیمت مقرر
07 October, 2008 | پاکستان
سندھ میں چکی مالکان کی ہڑتال
23 September, 2008 | پاکستان
آٹا سمگلنگ، افغان سرحد بند
15 January, 2008 | پاکستان
بلوچستان: آٹے کا بحران جاری
06 January, 2008 | پاکستان
بلوچستان میں آٹے کی قلت
03 January, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد