آٹا سمگلنگ روکنے کے لیے’پیپلز فورس‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے وزیر خوراک نے آٹے کی سمگلنگ روکنے کے لیے پیپلز پارٹی کے کارکنوں پر مشتمل پیپلز فورس تشکیل دی ہے جس نے صوبائی وزیر کی قیادت میں آٹا ملوں پر چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔ ادھر آٹا ملوں نے جمعہ کو حکومت کے ساتھ مذاکرات کے بعد ہفتے سے ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ بلوچستان میں آٹے کی شدید قلت ہے اور بازار میں بیس کلو کا تھیلا سات سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔ صوبائی وزیر خوراک علی مدد جتک نے کہا ہے کہ پیپلز فورس میں پارٹی کے کارکنوں کے علاوہ محکمہ خوارک کے اہلکار اور شہر کے کچھ اہم افراد کو شامل کیا گیا ہے جو آٹے کی سمگلنگ کی روک تھام کے لیے کوششیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ فورس محکمہ خوراک کے زیر انتظام کام کرے گی اور اس کا بنیادی مقصد آٹے کی افغانستان سمگلنگ کو روکنا ہوگا۔ گزشتہ روز مل مالکان نے یہ الزام عائد کیا تھا کہ صوبائی وزیر اپنے نجی گارڈز کے ساتھ ملوں میں داخل ہوئے اور زبردستی آٹے سے لدی ہوئی گاڑیاں لے گئے تھے۔ آٹے کا یہ بحران صرف کوئٹہ ہی نہیں بلکہ صوبے کے بیشتر اضلاع میں پایا جاتا ہے۔ صوبائی حکومت کی جانب سے سرکاری قیمت پر فروخت کرنے والی دکانیں عید کے بعد سے بند پڑی ہیں اور لوگ دکانوں کے باہر سارا دن اس انتظار میں رہتے ہیں۔ ان لوگوں نے بی بی سی کو بتایا کہ آٹے کا تھیلا سات سو روپے تک پہنچ گیا ہے۔ ایک دوکاندار نے بتایا ’میری روزانہ کی آمدن سو روپے ہے جس میں سے بیس روپے سے زیادہ تو لوکل بس میں آنے جانے کا لگ جاتا ہے۔ باقی بچوں کو کیا کھلاؤں‘۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ کچھ عرصے میں وہ چالیس سے پچاس ہزار روپے کے مقروض ہو چکے ہیں’اور اب تو کفن کے پیسے بھی نہیں ہیں‘۔ آٹے کی بڑھتی قیمت کے بارے میں آٹا مل ایسوسی ایشن کے نائب صدر ظہور آغا نے کہا کہ اس وقت پنجاب حکومت من مانیاں کر رہی ہے جس وجہ سے بلوچستان اور صوبہ سرحد میں آٹے کی قلت ہے۔ صوبائی سیکرٹری خوراک کا کہنا ہے کہ عید کی چھٹیوں کی وجہ سے یہ قلت پیدا ہوئی ہے اب صوبائی حکومت آٹے کی ترسیل کے لیے کوششیں کر رہی ہے۔ کوئٹہ شہر کے بازاروں میں بیس کلو آٹے کی قیمت سات سو روپے تک ہے جبکہ تندور پر روٹی کا وزن مزید کم کر دیا گیا ہے اور قیمت دس روپے ہی ہے جبکہ چمن اور چند دیگر علاقوں میں روٹی کی قیمت بارہ سے پندرہ روپے تک پہنچ گئی ہے۔ صوبائی وزیر نے دو روز میں آٹا ملوں پر چھاپے لگا کر تیس سے زائد ٹرک پکڑے ہیں لیکن آٹا مل کے مالکان کے مطابق صوبائی وزیر اور محکمے کے حکام نے اس کارروائی پر معذرت کر کے آٹے کے ٹرک ملوں کوواپس کر دیے ہیں۔ ظہور آغا کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت تو صوبے میں صرف ایک تہائی ضرورت پورا کرتی ہے۔ جمعہ کو آٹا مل مالکان نے احتجاجاً ملیں بند رکھیں لیکن صوبائی حکومت سے مذاکرات کے بعد انھوں نے کل سے آٹا ملیں کھولنے کا اعلان کیا ہے۔ | اسی بارے میں سندھ: آٹے کی نئی قیمت مقرر 07 October, 2008 | پاکستان سندھ میں چکی مالکان کی ہڑتال23 September, 2008 | پاکستان پنجاب، فلور ملوں کی ہڑتال ختم03 September, 2008 | پاکستان آٹا سمگلنگ، افغان سرحد بند15 January, 2008 | پاکستان ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی08 January, 2008 | پاکستان بلوچستان: آٹے کا بحران جاری06 January, 2008 | پاکستان بلوچستان میں آٹے کی قلت03 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||