BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 03 September, 2008, 22:04 GMT 03:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پنجاب، فلور ملوں کی ہڑتال ختم

فائل فوٹو
پنجاب کے شہری علاقوں میں پھر آٹا خریدنے کے لیے قطاریں لگنے لگی تھیں
پنجاب کی فلور ملوں اور حکومت کےدرمیان ماہ رمضان کے دوران شہریوں کو بیس کلو آٹے کا تھیلا تین سو روپے کے رعایتی نرخوں پر فراہم کرنے کا معاہدہ ہوگیا ہےجس کے بعد فلور ملوں نے اپنی ہڑتال ختم کردی ہے۔

پنجاب کے نئے سیکریٹری خوراک عرفان الہی نے اس نئے معاہدے کی تصدیق کی ہے اور کہا کہ فلور ملوں کے لیے سرکاری گندم کی قیمت میں پندرہ روپے فی من کی کمی کردی گئی ہے۔

فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب کے چیئرمین حبیب لغاری نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے یہ واضح کیا کہ یہ نئی قیمت صرف ماہ رمضان کے لیےمقرر کی گئی ہےجس کے بعد گندم کی سرکاری قیمت دوبارہ طے کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ’ آٹا کا نیا نرخ مقرر ہو یا نہ ہوگندم کی قیمت ضرور تبدیل کی جائے گی تب ہی فلور ملیں آٹا فراہم کرنے کے قابل ہوسکیں گی۔‘

رمضان سے پہلے مارکیٹ میں آٹے کا یہی تھیلا پونے چار سو روپے تک میں فروخت ہورہا تھا جبکہ مارکیٹ میں گندم کی قیمت سات سو روپے فی چالیس کلوگرام تھی۔

ماہ ستمبر سے فلور ملوں کو سرکاری گندم پانچ سو ساٹھ روپے فی من(چالیس کلوگرام)کے لحاظ سے ملنا شروع ہوئی تو وزیراعلی پنجاب نے اعلان کیا کہ عوام کو بھی بیس کلو آٹے کا تھیلا تین سو روپےمیں ملے گا۔

فلور ملوں نے اس قیمت پر آٹے کی پسائی اور اس کی پیکنگ کو ناقابل عمل قرار دیکر سرکاری گندم خریدنے سے انکار کردیا تھا۔

حکومت پنجاب نے فلور ملوں میں سرکاری اہلکار بٹھا دیئے اور فلور ملوں اور ڈیلروں کو سپلائی کے بجائے مارکیٹ کو براہ راست سپلائی کا نظام وضع کرلیا۔

گزشتہ ہفتے کے دوران ہونے والے ان اقدمات کی وجہ سے پنجاب کا شہری علاقہ ایک بار پھر آٹے کے بحران کا شکار ہوگیا تھا اور عام شہریوں کو قطار میں لگ کر آٹا لینا پڑرہا تھا۔

سیکریٹری خوراک عرفان الہی نے بتایا کہ ایک دو روز میں آٹے کی سپلائی بحال ہوجائے گی اور قلت دور کردی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب کے پاس اس وقت پچیس لاکھ ٹن گندم کے ذخائر موجود ہیں اور درآمدی گندم سے بھی پنجاب کو دس لاکھ کا حصہ ملے گا۔انہوں نے کہا کہ گندم کے موجودہ ذخائر آئندہ فصل تک کی ضرورت کے لیے کافی ہیں۔

اسی بارے میں
آٹے کی اسمگلنگ پکڑی گئی
07 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد