مذاکرات وقت کا زیاں: براہمدغ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچ ریپبلکن پارٹی کے سربراہ براہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ پارلیمانی سیاست وقت کا زیاں ہے اور انہوں نے بلوچوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کی کسی نہ کسی طرح مدد ضرور کریں۔ کوئٹہ میں نواب اکبر بگٹی کی جماعت جمہوری وطن پارٹی کو بلوچ ریپبلکن پارٹی کے نام سے قائم کرنے کے بعد جماعت کے پہلے کونسل سیشن میں نواب اکبر بگٹی کے پوتے براہمدغ بگٹی کو پارٹی کا چیئرمین اورڈاکٹر بشیر عظیم کو جنرل سیکرٹری منتخب کیا گیا ہے۔ سریاب روڈ پر ڈگری کالج میں جلسہ عام منعقد کیا گیا جس سے براہمدغ بگٹی نے ٹیلیفونک خطاب کیا ہے۔ براہمدغ بگٹی نے اپنی تقریر میں کہا ہے کہ وہ سرکار سے مذاکرات کے خلاف ہیں تاہم اگر کوئی بلوچ رہنما بات چیت کرتا ہے تو اسے اس بارے میں وضاحت ضرور کرنی چاہیے۔ براہمدغ بگٹی نے کہا ہے کہ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے دادا اور دیگر بلوچوں کی قربانیوں کو بھلا دیں۔ انہوں نے بلوچوں سے اپیل کی ہے کہ وہ مزاحمت کاروں کی کسی نہ کسی حوالے سے مدد ضرور کریں تاکہ بلوچستان کے لیے جاری جدوجہد میں انہیں کامیابی حاصل ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ ضروری نہیں ہے کہ سب پہاڑوں پر جا کر لڑیں بلکہ سیاسی سطح پر جدو جہد بھی کی جا سکتی ہے۔ براہمدغ بگٹی نے اس سال کے آغاز میں جمہوری وطن پارٹی کا نام تبدیل کرکے بلوچ ریپبلکن پارٹی رکھ دیا تھا۔ پارٹی کا پہلا کونسل سیشن آج مکمل ہو گیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے نام سے دو دھڑے اب بھی قائم ہیں جن میں سے ایک کی قیادت نواب اکبر بگٹی کے بڑے بیٹے طلال اکبر بگٹی جبکہ دوسرے دھڑے کی قیادت نواب بگٹی کے ایک اور پوتے میر عالی بگٹی کر رہے ہیں۔ | اسی بارے میں ڈیرہ بگٹی: پندرہ افراد ہلاک27 July, 2008 | پاکستان یومِ آزادی پر قوم پرستوں کا یومِ سیاہ14 August, 2008 | پاکستان مشرف پر مقدمے کی درخواست18 August, 2008 | پاکستان بگٹی:دوسری برسی، آٹھ ہلاکتیں؟25 August, 2008 | پاکستان بگٹی:دوسری برسی، پانچ ہلاکتیں؟25 August, 2008 | پاکستان بگٹی کی برسی پر ہڑتال اور پہیہ جام26 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||