BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 September, 2008, 02:17 GMT 07:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امن و امان سے مطمئن ہوں: ملک
مشیر داخلہ رحمان ملک
میریئٹ دھماکہ سوچا سمجھا منصوبہ تھا: رحمان ملک
پاکستان کے مشیرِ داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ میریئٹ بم دھماکہ سوچے سمجھے طریقے سے کیا گیا تھا اور حکومت یہ جاننے کی کوشش کر رہے کہ اس دھماکے میں استعمال ہونے والا آر ڈی ایکس دہشت گردوں کو کہاں سے ملا تھا۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ حکومت میریئٹ دھماکے کی وجوہات کو تلاش کرنے کی کوشش میں ہے۔

’اس دھماکے میں جو آر ڈی ایکس استعمال ہوا ہے وہ عام نہیں ملتا۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ آر ڈی ایکس درہ آدم خیل میں ملتا ہے اور یہی جاننے کی کوشش کر رہے کہ یہ مواد دہشت گردوں کے پاس کہاں سے آیا۔‘

ایک سوال کے جواب میں امورِ داخلہ کے لیے وزیرِ اعظم کے مشیر کا کہنا تھا کہ وہ ملک میں امن و امان کی صورتِ حال سے مطمئن ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میریئٹ حملے سے پہلے خود کش دھماکوں پر بہت زیادہ حد تک قابو پا لیا گیا تھا حالانکہ جب نئی حکومت بنی اس سے قبل آئے دن کوئی نہ کوئی دھماکہ ضرور ہوتا تھا۔

پولش اور چینی انجینیئروں اور افغانستان کے نامزد قونصل جنرل کے اغوا کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے رحمان ملک نے کہا کہ یہ سب لوگ اس لیے اغوا ہوئے کہا کہ انہوں نے حکومت کی ہدایات پر عمل نہیں کیا۔

مشیرِ داخلہ نے کہا کہ افغان قونصل جنرل کو گیارہ سکیورٹی اہلکاروں کی خدمات فراہم کی گئی تھیں لیکن وہ ان کے بغیر گھر سے نکلے اور اغوائیوں کے ہتھے لگ گئے۔

انہوں نے کہا کہ حکومتِ پاکستان نے غیر ممالک کے باشندوں کے لیے سکیورٹی کے انتظامات کیے ہوئے ہیں اور ان کی حکومتوں کو پہلے سے بتایا گیا ہے کہ پاکستان ایک قسم کی حالتِ جنگ میں ہے، شدت پسندوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے لہذا وہ غیر ملکیوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

جب ان کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ سکیورٹی کی خراب صورتِ حال کے تحت امریکہ اور برطانیہ نے اپنے سفارت خانوں میں ویزا سروس معطل کر دی ہے اور برٹش ایئرویز نے پاکستان میں اپنی پروازیں روک دیں ہیں تو رحمان ملک نے کہا کہ اب صورتِ حال بہتر ہو رہی ہے۔

’ہم نے سفارت کاروں سے ملاقاتیں کیں ہیں اور انہیں ان اقدامات سے آگاہ کیا ہے جو غیر ملکیوں کی سکیورٹی کے لیے کیے جا رہے ہیں۔ وہ ہمارے اقدامات سے مطمئن ہیں اور انہوں نے عندیہ دیا ہے کہ وہ یہاں کام کرتے رہیں گے۔

اسی بارے میں
’قوم درد کو طاقت میں بدل دے‘
20 September, 2008 | پاکستان
آخر تک دھماکہ روکنے کی کوشش
22 September, 2008 | پاکستان
’ملکی قیادت بال بال بچ گئی‘
22 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد