BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2008, 14:28 GMT 19:28 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’آگ بجھانے کا سلنڈر لینے گیا اور۔۔۔‘

میریئٹ
ہمارے سلنڈر خالی ہوگئے اور اسسٹنٹ سکیورٹی آفیسر کے کہنے پر انجینرنگ ڈیپارٹمنٹ سلنڈر لانے کے لئے گیا تو اسی دوران زور دار دھماکا ہو گیا
دنیا نے میریئٹ ہوٹل اسلام آباد پر ہونے والے خود کش حملے سے چند لمحے قبل کی فلم میں مین گیٹ پر موجود محافظوں میں سے ایک کو جلتے ہوئے ٹرک کی آگ بجھاتے ہوئے دیکھا ہوگا۔ اکثر لوگوں کا خیال تھا کہ وہ سکیورٹی گارڈ ہلاک ہوگیا ہوگا لیکن جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے۔

پینتیس سالہ سکیورٹی گارڈ محمد اسمعیل معجزانہ طور پر محفوظ رہے۔ اس خوش قسمت شخص کا تعلق سیاحتی مقام مری سے ہے۔

اسی خیال سے کہ اس بہادر شخص کی موت کے بعد اس کے اہل خانہ سے ملا جائے میں ہوٹل ان کے بارے میں معلومات لینے پہنچا۔ لیکن میں حیرت زدہ رہ گیا کہ ہوٹل میں محافظوں کے انچارج نے بتایا کہ وہ تو زندہ ہے اور آج بھی ڈیوٹی پر ہے۔

قراقرم نامی نجی سکیورٹی کمپنی کے یہ گارڈ ہوٹل کی سکیورٹی کے ذمہ دار ہیں۔ محمد اسماعیل کے تمام دیگر ساتھی یا تو ہلاک ہوئے یا پھر زخمی۔ وہ اس جگہ موجود ایک عینی شاہد ہیں لہٰذا ان کی زبانی ان کی کہانی کچھ یوں ہے۔

’میں ہوٹل کے اندر سامان چیک کرنے والی ایکسرے مشین کے پاس کھڑا تھا کہ اسی دوران میں نے باہر شور کی آواز سنی۔ میں نے باہر ایک ٹرک کو لوہے کی رکاوٹ کے ساتھ ٹکراتے ہوئے دیکھا اور ٹرک میں ڈرائیور کے کیبن میں آگ لگی ہوئی تھی۔ میں ڈرائیور کو نہیں دیکھا سکا کہ وہ کون تھا۔ بھاگ دوڑ میں یہ کرنے کا وقت ہی نہیں ملا۔

میں نے آگ بجھانے والا سلنڈر اپنے ساتھ اٹھایا اور آگ بجھانے کے لئے ٹرک کی طرف بھاگا اور آگ بجھانے کی کوشش کی۔

 خود کش حملے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور میں دھماکا ہونے سے پہلے تک یہ سمجھ رہا تھا کہ ڈرائیور کی لاپرواہی کی وجہ سے ٹرک کو حادثہ پیش آیا ہے اور ہم انسانی جذبے کے تحت آگ بجھا رہے تھے۔

میرے وہاں پہنچنے سے پہلے ہی ہمارے اسسٹنٹ سکیورٹی آفیسر، سپر وائزر اور ایک اور سکیورٹی گارڈ بھی آگ بجھانے والے سلنڈر سے آگ بجھانے کی کوشش کرنے لگے۔ یہ دونوں افراد بچ گئے ہیں لیکن وہ شدید زخمی ہیں اور ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔

ہمارے سلنڈر خالی ہوگئے اور اسسٹنٹ سکیورٹی آفیسر کے کہنے پر انجینرنگ ڈیپارٹمنٹ سلنڈر لانے کے لئے گیا تو اسی دوران زور دار دھماکا ہو گیا۔ بعد میں میں پیچھے ایمرجنسی گیٹ کے ذریعے ہوٹل سے باہر آیا اور اپنے ساتھیوں کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے واپس ہوٹل آیا اور وہاں ایک افرا تفری تھی اور کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا ہو رہا ہے۔

دوسرے گیٹ پر ہمارے ایک ساتھی کی لاش پڑی تھی۔ میں نے اس کی لاش کو وہاں سے اٹھایا اور گاڑی میں ڈال دیا۔ دو اور نامعلوم افراد کی وہاں لاشیں تھیں جن کو میں نے وہاں سے اٹھایا۔ خود کش حملے کی کوئی پیشگی اطلاع نہیں تھی اور میں دھماکہ ہونے سے پہلے تک یہ سمجھ رہا تھا کہ ڈرائیور کی لاپرواہی کی وجہ سے ٹرک کو حادثہ پیش آیا ہے اور ہم انسانی جذبے کے تحت آگ بجھا رہے تھے۔

ہمارے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ یہ اتنا خوفناک خود کش حملہ ہوسکتا ہے۔ گیٹ پر موجود ہمارے سکیورٹی گارڈز نے ٹرک کو روکنے کی کوشش بھی کی اور یہاں تک کے وہ ٹرک کے سامنے کھڑے ہوگئے۔ اس واقعہ میں ہمارے کئی سکیورٹی گارڈز ہلاک و زخمی ہوگئے۔

 میں نہیں بتاسکتا کہ ہوٹل میں امریکی میرین ٹھرے ہوئے تھے کیوں کہ میں ایک سکیورٹی فراہم کرنے والی ایجنسی میں کام کرتا ہوں۔ یہاں بہت افرا تفری تھی اور میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔

اس دوران دو فائر بھی ہوئے لیکن یہ معلوم نہیں کہ یہ فائرنگ کہاں سے کی گئی۔

میں نہیں بتاسکتا کہ ہوٹل میں امریکی میرین ٹھرے ہوئے تھے کیوں کہ میں ایک سکیورٹی فراہم کرنے والی ایجنسی میں کام کرتا ہوں۔ یہاں بہت افرا تفری تھی اور میں نے کسی کو نہیں دیکھا۔

خود کش حملے کے بعد یہ ضرورت محسوس ہوئی ہے کہ سکیورٹی گارڈز کو جدید خطوط پر تربیت دی جائے۔ البتہ خود کش حملے روکنا بہت مشکل ہے لیکن اگر مطلوبہ ٹریننگ ہو تو نقصان کم ہوسکتا ہے۔

محمد اسمعیل ستی کا کہنا تھا کہ انہیں ابھی اس بہادری کا کوئی صلہ نہیں ملا البتہ ان کا کہنا ہے کہ ان کو امید ہے کہ ان کی حوصلہ افزائی کی جائے گی۔ ’ہمارے انچارج نے ہمیں طلب کیا ہے۔’

اسمعیل کا اس بات پر اعتماد اب مزید بڑھ گیا ہے کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے۔

میریئٹجان ہتھیلی پر
’تربیت سے زیادہ حوصلے کی ضرورت‘
’ناقابلِ بھروسہ مشیر‘
مشیر داخلہ کے متضاد بیانات سےمکمل ابہام
فوجمربوط پالیسی چاہیے
’قوم ایک ہی پالیسی پر کاربند نظر آئے‘
آخر پالیسی ہے کیا
دہشگردی کے خلاف حکومتی پالیسی ہے کیا؟
لیپا پوتی ٹائپ بیان
دھماکے نے پھر انتظامی خامیوں کو بے نقاب کیا
میریئٹ ہوٹل’خود ہی دیکھ لیں‘
لوگ بچوں سمیت جلتا میریئٹ ہوٹل دیکھنے آئے
قیامت خیز منظر
عینی شاہدین نے ہوٹل کے باہر کیا دیکھا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد