’خطرات کے باوجود بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر خود کش حملے کے بعد پرائیویٹ سکیورٹی گارڈز اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کرتے ہیں لیکن ان میں زیادہ تر کا کہنا ہے کہ وہ خطرات کے باوجود اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی کوشش کریں گے۔ پاکستان میں مختلف ملکی اور غیر ملکی نجی اداروں، بینکوں اور سفارت خانوں کی حفاظت کے لیے ہزاروں پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ تعینات ہیں۔ اسلام آباد میں میریئٹ ہوٹل پر خود کش حملے کے بعد یہ پرائیویٹ سکیورٹی گارڈ پریشان ہیں لیکن ان میں زیادہ تر کا کہنا ہے کہ وہ خطرات کے باجود اپنے فرائض انجام دیں گے۔ غیر ملکی بینک میں مامور سکیورٹی گارڈ افتخار حسین نےکا کہنا ہے کہ وہ میریئٹ ہوٹل پر خود کش حملے کی وجہ سے خوف محسوس کر رہے ہیں۔ ’کچھ معلوم نہیں کہ کب اور کس وقت کوئی خود کش حملہ آور حملہ کرے گا۔ لیکن میں خطرات کے باوجود اپنی فرائض سے کبھی بھی کوتاہی نہیں برتوں گا۔‘ سنیجر کی شام کو میریئٹ پر ہونے والے خود کش حملے میں تریپن افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن سب سے پہلے اس کا نشانہ سکیورٹی گارڈز ہی بنے جب وہ بارود سے بھرے ٹرک میں لگی آگ کو بجھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس حملے کے بعد یہ سوالات اٹھائے جارہے ہیں کہ ان سکیورٹی گارڈز کو دہشت گردی کے واقعات سے نمٹے کے لیے مطلوبہ تربیت فراہم کی گئی تھی یا نہیں۔ نجی کمپنی میں کام کرنے والے سکیورٹی گارڈ محمد ریاض نے کہا کہ وہ ایک ریٹائرڈ فوجی ہیں لہٰذا ان کو تربیت کی ضرورت نہیں ہے۔’اکثر سکیورٹی گارڈز سابق فوجی ہیں۔ خود کش حملے رو کنا مشکل ہے لیکن اس سے نمٹنے کے لیے تربیت سے زیادہ حوصلے کی ضرورت ہے۔‘ بہت سے سکیورٹی گارڈز ایسے بھی ہیں جو غیر فوجی ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے انہیں کوئی تربیت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا ہے کہ خود کش حملوں کو روکنا اگر ممکن نہ بھی ہو تو کم از کم جانی نقصان کم کرنے کے لیے تربیت ضروری ہے۔
سکیورٹی گارڈ اعجاز علی ایک غیر فوجی گارڈ ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’میریئٹ خود کش حملے کے بعد میں نے یہ ملازمت چھوڑنے کا سوچا لیکن میں نے اس لیے یہ ملازمت نہیں چھوڑی کیوں کہ فی الوقت کوئی متبادل روزگار میسر نہیں ہے۔ اگر کسی متبادل روزگار کا انتظام ہوگیا تو میں یہ ملازمت چھوڑ دوں گا۔‘ کئی سکیورٹی گارڈز ایسے بھی ہیں جو تازہ خود کش حملے کے بعد اتنے پریشان ہیں کہ نوکری ترک کرنے کا سوچ رہے ہیں لیکن معاشی مجبوریاں ان کے آڑے آرہی ہیں۔ ان سکیورٹی گارڈز میں کافی تعداد ریٹائرڈ فوجیوں کی ہے اور باقی بھی غریب طبقے سے تعلق رکھتے اور ان کی تنخواہیں چار ہزار سے لے کر سات ہزار تک ہوتی ہے۔ ایک طرف ان کو اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنا ہے اور دوسری طرف ان کی جانوں کو خطرہ ہے۔ خطرات کچھ بھی ہوں ان کو اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے کام کرنا ہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||