BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 September, 2008, 17:37 GMT 22:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دھماکے کی آواز اور ٹوٹے ہوئے گھر

گلشن جناح
بیشتر فلیٹس کے دروازے دھماکے کی شدت سے نہ صرف ٹوٹے بلکہ اڑ کر گرے اور کھڑکیوں کے شیشے کرچیوں میں بدل گئے
ہفتے کی رات میریئٹ ہوٹل کے آس پاس تقریباً دو میل تک ملحقہ علاقے میں بم دھماکے سے نقصان پہنچا۔ جناح سپر مارکیٹ ہوٹل کی جگہ سے تقریباً دو سیکٹر دور ہے پھر بھی دھماکے کی شدت کی وجہ سے کئی عمارتوں کے شیشے ٹوٹے۔

ایک طرف تو اسلام آباد کے رہائشی دھماکے کی شدت اور تباہی کا خیال کیے بغیر اپنے بچوں سمیت جائے حادثہ کو دیکھنے پہنچ گئے مگر میریئٹ ہوٹل کے بالکل پیچھے واقع گلشن جناح کالونی کے بچوں کو کہیں لے جانے کی ضرورت نہیں پڑی کیونکہ ان کے سامنے سب کچھ ہوا۔

میریٹ ہوٹل کے عقب میں واقع سترہ گریڈ کے سرکاری ملازمین کی رہائش گاہ گلشن جناح کالونی میں تین منزلہ عمارتوں میں دو سو ایک فلیٹ ہیں اور ان میں تقریباً ایک سو ستر خاندان آباد ہیں۔

یہاں موجود بیشتر فلیٹس کے دروازے دھماکے کی شدت سے نہ صرف ٹوٹے بلکہ اڑ کر گرے اور کھڑکیوں کے شیشے کرچیوں میں بدل گئے۔ نہ صرف یہ بلکہ ان گھروں میں سجاوٹ کے سامان اور فرنیچر کو بھی شدید نقصان پہنچا۔

مسز زاہد ان فلیٹس کی تیسری منزل پر اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ چودہ سال سے رہ رہی ہیں۔ دھماکے کے وقت وہ کالونی کے پارک میں بنچ پر اپنے بچوں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ آس پاس سے شیشے کے ٹکڑے ان پر آ کر لگے جس سے وہ اور ان کے بچے زخمی ہوئے۔

اس ساری صورتحال کو کانپتی آواز میں بیان کرنے کے بعد نم آنکھیں لیے انہوں نے کہا ’چیخیں مار کر رونے کو دل کرتا ہے۔ بچوں کو اب سمجھانا پڑ رہا ہے کہ جیسے اللہ نے موت لکھی ہے وہ آنی ہے۔ ہم باہر کے ملک میں موجود جائیدادوں کے مالک یا وڈیرے تو نہیں جو بھاگ جائیں یہاں سے۔‘

بھاگ بھی نہیں سکتے
 ’چیخیں مار کر رونے کو دل کرتا ہے۔ بچوں کو اب سمجھانا پڑ رہا ہے کہ جیسے اللہ نے موت لکھی ہے وہ آنی ہے۔ ہم باہر کے ملک میں موجود جائیدادوں کے مالک یا وڈیرے تو نہیں جو بھاگ جائیں یہاں سے۔
مسز زاہد

بارہ سال سے یہاں رہائش پذیر مسز حمید دھماکے کے وقت افطار کے بعد آرام کر رہی تھیں۔ انہوں نے بتایاکہ ان کے بچے اتنے خوفزدہ ہیں کہ اکیلے نہیں سو سکتے۔

’ہم حکومت کے دل میں جھانک کر تو نہیں دیکھ سکتے۔ ہمیں نہیں پتہ کون کر رہا ہے مگر سوچتے ہیں کہ ملک میں ہو کیا رہا ہے۔ میرے بچے ہمیشہ اکیلے سوتے تھے مگر اب وہ اپنے کمرے میں جانے کو تیار نہیں۔‘

مسز شکیل انہی فلیٹس میں پچھلے گیارہ سال سے اپنے شوہر اور بچوں کے ہمراہ گراونڈ فلور پر رہتی ہیں۔ ان کی چھ سالہ بیٹی دھماکے کی رات سے ان کی گود سے الگ نہیں ہو رہی۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سب کچھ ناقابل برداشت ہے۔ ’ملک میں ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے اور ہم برداشت کر رہے ہیں ۔۔۔ مگر یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔ کوئی مہم شروع کر کے اس دہشت گردی کو ختم کریں۔‘

ہر چیز برداشت پر یہ نہیں
 ملک میں ہر چیز کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ برداشت کر رہے ہیں ۔۔۔ مگر یہ سب برداشت نہیں ہوتا۔ مہم شروع کر کے اس دہشت گردی کو ختم کریں۔
مسز شکیل

چودہ سالہ لڑکی آئمہ کو یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ یہ دہشت گرد یہاں کیسے آ گئے اور وہ اصرار کر کہ پوچھتی ہے ’حکومت نے ایسے لوگوں کو یہاں آنے ہی کیوں دیا؟‘

آئمہ کا نو سالہ بھائی فیضان انتہائی معصومیت سے دھماکے کا منظر کھینچتا ہے جیسے کسی فلم کی کہانی سنا رہا ہو۔

مسز حمید اپنے گھر میں ہونے والے نقصان سے اتنی پریشان نہیں جتنی وہ اپنے اور کالونی میں رہنے والے تمام بچوں کے لیے فکر مند ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ دھماکے کے بعد سے بچوں نے اس بلڈنگ کےاحاطے میں موجود پارک میں آنا بھی چھوڑ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے بچے رات گئے تک یہاں اس پارک میں کھیلتے تھے اور اب دن کے وقت بھی کوئی نظر نہیں آتا۔

میریٹ ہوٹل میں دھماکے کے باعث گلشن جناح کالونی میں موجود ان فلیٹس میں ہونے والا مالی نقصان یقیناً شدید ہے مگر یہاں رہنے والے بچوں کی حالت دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ان بچوں کے کانوں میں سے اس دھماکے کی آواز اور ذہنوں سے اپنے ٹوٹے ہوئے گھروں کی تصویر جاتے جاتے ہی جائے گی۔

اسی بارے میں
بال بچوں سمیت میریئٹ کی طرف
21 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد