BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 24 September, 2008, 03:08 GMT 08:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشیر داخلہ یا ’مشیرِ ابہام‘

مشیر داخلہ کے بیانات سے ابہام پیدا ہو رہا ہے
پاکستان میں جب بھی دہشت گردی کا کوئی بڑا واقعہ پیش آتا ہے تو وزیر اعظم کے مشیر داخلہ رحمان ملک کی بار بار وضاحتیں صورتحال کو واضع کرنے کی بجائے الٹا مزید ابہام پیدا کر دیتی ہیں۔ انہیں بعض لوگ اب ’ناقابل بھروسہ‘ مشیر داخلہ جیسا خطاب دینے کے بارے میں سنجیدگی سے سوچ رہے ہیں۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ اپنی سی پوری کوشش اور محنت کر رہے ہیں۔ چند روز قبل ایک ملاقات میں انہوں نے بتایا کہ وہ بعض اوقات تیزی سے بدلتے حالات و واقعات کی وجہ سے کئی کئی راتیں سو نہیں پاتے ہیں۔ اس کا واضع ثبوت میڈیا پر ان کی شب و روز موجودگی ہے۔ کہیں وہ سیاستدانوں سے ملاقاتیں کر رہے ہیں تو کہیں وہ سرکاری اجلاسوں میں شریک ہیں۔

لیکن اس ساری بھاگ دوڑ کے باوجود وہ کوئی فرق نہیں ڈال رہے۔ ان کے بیانات صورتحال کو واضع کرنے کی بجائے مزید ابہام پیدا کر دیتے ہیں جس سے عوامی شکوک و شبہات میں اضافہ ہوتا ہے۔ اگرچہ وہ شاید سکیورٹی صورتحال کو ڈیل کرنے کا تو ایف آئی اے کا سابق تجربہ رکھتے ہیں لیکن میڈیا کو نہیں۔ اسی لیئے کہنا کچھ چاہتے ہیں شاید کہہ کچھ دیتے ہیں۔

میریئٹ حملے کے بعد پہلی اخباری کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ حملے میں استعمال ہونے والا دھماکہ خیز مواد ’فوجی نوعیت‘ کا تھا۔ فوجی نوعیت سے ان کا اشارہ شاید دیگر ممالک کی ایجنسیوں کے جانب ہو۔ یہ بات کافی لوگوں نے نظر انداز کی لیکن بعض لوگوں کے مطابق انتہائی اہم بھی تھی۔

یہ بیان تو معلومات کے انبار میں کہیں ڈھک چھپ گیا لیکن ان کا واضع الفاظ میں یہ کہنا کہ خود کش حملے کا ہدف واضع طور پر میریئٹ ہوٹل ہی تھا اس مرتبہ وجہ تنازعہ بنا۔ عین اسی وقت وزیر اعظم سید رضا گیلانی لاہور میں صحافیوں کو بتا رہے تھے کہ اصل ہدف تو ان کا وزیر اعظم ہاؤس تھا۔ اب عوام کس کی مانیں کس کی نہیں۔

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت نے مسائل اور بحران حل کرنے کا ایک نیا فارمولہ تیار کر لیا ہے اور وہ ہے:

ایک حکومت جمع دو مختلف متضاد بیانات برابر ہے مکمل ابہام کے۔

اس جمع تفریق سے جو حاصل ہوگا اس سے عوام کو سمجھ ہی نہ آئے گی کہ ہو کیا رہا ہے۔ کون کیا کر رہا ہے یا کون کیا نہیں کر رہا۔ حکومت کی ناکامی چھپانے کا یہ بظاہر نیا فارمولہ ہے۔

اگلے روز اپنے خفت کو چھپانے کی خاطر مشیر داخلہ نے ساری صورتحال کو ایک نیا ’ٹویسٹ یا سپن‘ یہ دیا کہ بنیادی طور پر افطار ڈنر ہوٹل میں ہی تھا لیکن صدر اور وزیر اعظم کے کہنے پر اسے آخری لمحے اسے تبدیل کر دیا گیا۔ یہ بیان بھی ان کے منہ واپس آ کر لگا۔

جو لوگ اس افطار میں مدعو تھے انہوں نے اپنے دعوت نامے بطور ثبوت میڈیا کو پیش کر دیئے جس میں وزیر اعظم ہاؤس ہی مقامِ طعام تھا جبکہ ہوٹل کے مالک نے بھی کہہ دیا کہ ان کے پاس ایسی کوئی بکنک ہی نہیں تھی۔ اب ایسے میں کوئی مانے تو کس کی مانے۔

ناکامی کا بھی کریڈٹ
 مشیر داخلہ اس ناکامی (میریئٹ خود حملہ) میں بھی کریڈٹ لینے کے چکر میں ہیں۔ وہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ کہہ کیا رہے ہیں۔‘
مولانا فضل الرحمن
حکمراں اتحاد کے بزرگ ساتھی مولانا فضل الرحمان نے بھی مشیر داخلہ کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ وہ اس ناکامی میں بھی کریڈٹ لینے کے چکر میں ہیں۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ ’وہ (مشیر داخلہ) یہ بھی نہیں سوچتے کہ وہ کہہ کیا رہے ہیں۔‘

رحمان ملک کے علاوہ آصف علی زرداری کے پاس اس اہم ترین وزارت کے لیئے شاید کوئی دوسری آپشن بھی نہیں تھی۔ کسی نے ان سے دریافت کیا کہ آپ نے کسے یہ عہدہ دے دیا ہے وہ تو یہ بھی نہیں کرسکتا یہ بھی نہیں تو زرداری صاحب کا جواب تھا اگر آپ یہ سب کچھ کرسکتے ہیں تو آپ کو بنا دیتا ہوں۔ وہ شخص پھر کچھ نہ بولا۔ پیپلز پارٹی کے چند ذرائع یہ کہتے ہوئے بھی پائے گئے ہیں کہ جب وزارتوں کی تقسیم ہو رہی تھی تو کوئی یہ عہدہ لینے کو تیار بھی نہیں تھا۔

سابق وزیر داخلہ آفتاب شیر پاؤ پر دو خودکش حملے ہوئے جن کی ناکامی پر شکرانے کے نوافل وہ آج تک ادا کر رہے ہیں۔ معین الدین حیدر نے بھی قدرے خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ تو ایسے میں وزارت داخلہ کا چارج سب سے خطرناک ذمہ داری قرار دی جاسکتی ہے۔

ایسے میں اگر وزیر داخلہ اگر اپنے آپ کو مستحکم کرنے کی غرض سے خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو وزارت داخلہ کے ماتحت لانے کی معصوم سی کوشش کریں تو کسی کا کیا جاتا ہے۔ ضمنی انتخابات سرحد حکومت کو ملتوی کروانے کا کہہ کر انکاری ہوتے ہیں تو کیا برا کرتے ہیں۔ ایسے میں نہ چاہتے ہوئے تنازعات میں گھر جانا رحمان ملک کے لیئے کوئی نئی بات نہیں ہے۔

حکومت کو اگر اپنی بات معتبر کرنی ہے، واضع کرنی ہے اور عوام کا اعتماد حاصل کرنا ہے تو رحمان ملک کو کم از کم میڈیا سے بات کرنے کا طریقہ کار بہتر کرنا ہوگا۔ ماضی کے کرائسس مینجمنٹ سیل کو بحال کرنا ہوگا، میڈیا سے ڈیل کرنے کا بہتر طریقہ متعارف کروانا ہوگا، اچھا سا ترجمان مقرر کرنا ہوگا اور مشیر داخلہ کو صرف اور صرف شدت پسندی کا مقابلہ کرنے پر مکمل توجہ دینا ہوگی۔

رحمان ملک بہترین کرائم بسٹر اور شدت پسندی کے خاتمے کی خالص دواء ہوسکتے ہیں لیکن شاید میڈیا مینجر اتنے اچھے ثابت نہیں ہوئے۔ یہاں اپنی کمزوری قبول کرتے ہوئے انہیں یہ کردار کسی مناسب شخص کے حوالے کرنا ہوگا جس تک میڈیا کی رسائی بھی آسان ہو اور جو صحافیوں سے ڈیل کرنا بھی جانتا ہو۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد