پاکستان، سیاحوں کی آمد میں کمی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافے کے بعد غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں چار فیصد کمی آئی ہے۔ ٹور آپریٹرز کا کہنا ہے کہ میریئٹ ہوٹل پر ہوئے خودکش حملے سے سیاحت کی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ سنیچر کے روز پاکستان سمیت دنیا بھر میں سیاحت کے فروغ کا عالمی دن منایا گیا ۔لیکن پاکستان میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کی وجہ سے جہاں عوام میں بے چینی پھیلی ہوئی ہے وہیں غیر ملکی سیاح بھی پاکستان کا رخ کرنے سے گریز کر رہے ہیں ۔ وزارت سیاحت کے سیکریٹری علی عارف نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے سال کے مقابلے میں اس سال کے پہلے آٹھ ماہ میں غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں مجوعی طور پر چار فیصد کمی آئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سال اگست تک پانچ لاکھ اٹھاون ہزار کے قریب غیر ملکی سیاح پاکستان آئے جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً تئیس ہزار کم ہیں۔
سیکریٹری وزارت سیاحت کے مطابق ملک میں سکیورٹی کی خراب صورتحال کے باعث عوام نے بھی سیاحت کے لیے گھروں سے نکلنا کم کر دیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں عسکریت پسندوں کے خلاف جاری فوجی آپریشن کی وجہ سے سیاحت کی صنعت کو شدید نقصان پہنچا ہے ۔ دوسری طرف مقامی ٹور آپیرٹرز کی تنظیم پاٹو کے رکن اور کوہ پیما ندیر صابر نے بتایا کہ لال مسجد کے واقعے کے بعد غیر ملکی سیاحوں نے پاکستان آنا بہت کم کر دیا تھا جبکہ اس سال صورتحال کچھ بہتر ہونا شروع ہی ہوئی تھی کہ میریئٹ ہوٹل پر خودکش حملہ ہو گیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس سے پہلے کبھی سیاحوں پر براہ راست حملہ نہیں ہوا تھا۔’اب چونکہ سیاحوں کے ٹھہرنے کی سب سے محفوظ جگہ کو نشانہ بنایا گیا ہے اس لیے کوئی شک نہیں ہے کہ میریئٹ خودکش حملہ پاکستان کی سیاحت کی صنعت کے لیے نائن الیون ثابت ہوا ہے جس کے اثرات لمبے عرصے تک غیر ملکی سیاحوں کے ذہنوں میں رہیں گے‘۔ اس سوال پر کہ حکومت پاکستان کے جاری کردہ اعداو شمار کے مطابق پچاس لاکھ غیر ملکی سیاح ہر سال پاکستان کا رخ کرتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ زمینی حقائق اس کے بر عکس ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حکومت بیرون ملک مقیم ان پاکستانیوں کو بھی سیاح گنتی ہے جن کے پاس دوہری شہریت ہے۔ اس کے علاوہ مختلف بین الاقوامی اداروں کے نمائندے پاکستانی حکومت سے مذاکرات کے لیے آتے ہیں تو ان کو بھی سیاحوں کے زمرے میں لیا جاتا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ ایک اندازے کے مطابق زیادہ سے زیادہ پچیس ہزار سیاح ملک میں سالانہ آتے ہیں ۔ ندیر صابر کے مطابق صرف غیر ملکی کوہ پیماؤں کی تعداد میں کمی نہیں آئی ہے جس کی وجہ شمالی علاقوں میں حالات کا پر سکون ہونا ہے۔ کوہ پیماؤں کا مہم جوئی کا جنون بھی اس کی ایک وجہ ہے۔ لیکن ان کی تعداد بھی چند سو سے زیادہ نہیں ہے۔
انہوں نے مقامی میڈیا پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی رپورٹس میں قبائلی علاقوں اور شمالی علاقوں میں کوئی تمیز نہیں کرتےہیں ۔ جس کی وجہ سے بیرون ملک اور اندرون ملک شمالی علاقوں کو بھی شورش زدہ تصور کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ اگر حکومت ملک میں سیاحت کی صنعت کو بچانا چاہتی ہے تو شمالی علاقوں کو بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے ملانے والے کارگل لداخ روٹ کو سیاحت کے لیے کھولا جائے۔ ایسا ہونے سے سرحد پار سالانہ آنے والے ہزاروں غیر ملکی سیاح مختصر فاصلہ ہونے کی وجہ لداخ سے شمالی علاقوں کا رخ کریں گے۔ سیاحت کی صعنت کسی بھی ملک کی معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ہر سال دنیا بھر سے ایک ارب سیاح مختلف ملکوں کا رخ کرتے ہیں جبکہ ایک سروے کے مطابق ان کی تعداد میں آئندہ دس سال میں پچاس کروڑ کا مزید اضافہ متوقع ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے ہی سیاحوں کے لیے سہولتوں کا فقدان تھا لیکن دہشت گردی کے واقعات کے بعد حکومت کو سنجیدگی سے سیاحت کے فروغ کے لیے اقدامات کرنے ہونگے ورنہ سیاحت کی صنعت ختم ہو جائے گی۔ |
اسی بارے میں سوات میں عسکریت پسند کہاں کہاں؟08 November, 2007 | پاکستان سوات میں تجارتی سرگرمیاں متاثر27 October, 2007 | پاکستان پشاور: زبانوں کو خطرات پر کانفرنس 07 June, 2008 | پاکستان سوات:’امن آ گیا پر سیاح چلے گئے‘19 June, 2008 | پاکستان ’آگ بجھانے کا سلنڈر لینے گیا اور۔۔۔‘24 September, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||