لاہور میں بین الاقوامی سیاحتی میلہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لاہور میں تین روزہ بین الاقوامی سیاحتی میلے کا آغاز ہوگیا ہے جس میں یورپ اور مشرق وسطی سمیت تیس ممالک کے سیاحتی اداروں نے اپنے سٹال لگائے ہیں البتہ ہمسایہ ملک بھارت کا سٹال موجود نہیں ہے۔ پاکستان ٹورازم فیئر دوہزارسات کے افتتاح کے موقع پر ثقافتی شو بھی پیش کیے گئے۔ سن دوہزار سات کو پاکستان میں سیاحت کا سال قرار دیا گیا ہے اور لاہور کے ایکسپو سینٹر میں لگنے والا یہ بین الاقوامی میلہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ پاکستان میں سیاحت کے فروغ کے سرکاری ادارے ٹی ڈی سی پی کے منیجر پبلسٹی ثاقب رشید کا کہنا ہے کہ اس میلے کےذریعے دنیا کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ پاکستان سیاحت کے لیے ایک محفوظ ملک ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ غیر ملکی سیاح اس ملک میں جیسے مرضی اور جہاں چاہیں گھوم پھر سکتے ہیں انہیں اس ملک میں کوئی خطرہ نہیں اور وہ یورپ سے زیادہ آزادی اس ملک میں پائیں گے۔ اس میلے میں لگائے گئے ایک سو اسی سٹالوں میں جہاں بین الاقوامی ٹور آپریٹرز، ائر لائنز کے نمائندوں اور سفارتخانوں کے سٹال موجود ہیں وہیں ایران کا بڑا سٹال لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا رہا انہوں نے زمین پر کینوس بچھا رکھا تھا اوروہاں رنگ رکھ کر بچوں کو مصوری کی دعوت دی تھی۔ ملائشیا کی ایک ٹورآپریٹرنورالائن بصیر نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں زیادہ تر سیاح یورپ یا دیگر ترقی یافتہ ممالک سے آسکتے ہیں لیکن ان کے لیے پاکستان میں سیاحت کا بنیادی ڈھانچہ موجود نہیں ہے۔ پاکستان کے بعض ٹور آپریٹرز نے کہا ہے کہ پاکستان میں سیاحت کے مقامات پر فائیو سٹار ہوٹل نہ سہی کم از کم تھری سٹار ہوٹلز قائم ہونے چاہیے۔ پاکستان کے مقامی ٹور آپریٹرز نے بتایا ہے کہ پاکستان کے شہریوں میں سیاحت کا شوق بڑھتا چلا جارہا ہے ۔ناران،سوات اور ایوبیہ کے علاوہ اب گلگت اور ہنزہ جانے والے سیاحوں میں ہر برس اضافہ ہورہا ہے تاہم ان کے بقول سہولیات کی قلت پاکستان میں سیاحت کے فروغ میں رکاوٹ ہے۔
سندھ ٹورازم کے ایک اہلکار شجاعت لکھوی کا کہنا ہے کہ سندھ اپنے قدیم شہروں اور تہذیب کے حوالے سے سیاحوں کے لیے ایک عجیب کشش رکھتا ہے لیکن اس کے باوجود وہاں سیاحوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں سیاحت کے فروغ پر کبھی سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی حالانکہ یہاں پر دیکھنے کو بہت کچھ ہے۔ سندھ ٹورازم کے اہلکار نے کہا کہ ساری دنیا مصر میں ڈھائی ہزار سال پرانی تہذیب کے نشانات دیکھنے جاتی ہے حالانکہ موہنجوداڑو میں ہی پانچ ہزار برس پرانی تہذ یب دیکھی جاسکتی ہے۔ ایک مقامی ٹورآپریٹر خواجہ جہانزیب نے کہا کہ سیاحوں کی بڑی تعداد سندھ جانا چاہتی ہے لیکن سہولیات کی کمی ان کے راستے کی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ موہنجوداڑو میں سیاحوں کے قیام کے لیے کوئی مناسب انتظام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ بے شمار سکول یا بچوں کے والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے موہنجوداڑو جائیں لیکن ان کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ صبح جاکر شام کو لوٹ آئیں جبکہ پاکستان انٹر نیشنل ائر لائن نے اپنی وہ پرواز بند کردی ہے جو صبح جاکر شام کو لوٹ آتی تھی۔ تاہم میلے میں موجود تیس ممالک کے سٹالز غیرملکی سیاحوں کو پاکستان کی طرف متوجہ کرنے سے زیادہ پاکستانی سیاحوں کو بیرون ملک سیر کی ترغیب دیتے دکھائی دیئے ۔ | اسی بارے میں زلزلہ سے پاکستان کی سیاحت متاثر08 September, 2004 | پاکستان ویلیزجیپیں بھی گئیں12 November, 2005 | پاکستان زلزلہ سے پاکستان کی سیاحت متاثر28 November, 2005 | پاکستان جنگلات، سیاحت، آثارِقدیمہ اور زلزلہ13 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||