BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 12 November, 2005, 15:52 GMT 20:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ویلیزجیپیں بھی گئیں

جیپ
آٹھ اکتوبر کے زلزلے نے جہاں بالا کوٹ شہر کو ملبے کا ڈھیر اور سینکڑوں انسانوں کو لقمۂ اجل بنا دیا وہاں اس کی سڑکوں پر بھاگتی دوڑتی رنگ برنگی ’ویلیز‘ جیپیں بھی بڑے پیمانے پر اس قدرتی آفت کا شکار ہوئی ہیں۔

بالا کوٹ سے شوگران، ناران اور کاغان جیسے سیاحت کے مراکز تک پہنچنے کے لیے عام طور پر ’پہاڑوں کی ملکہ‘ یا ’پہاڑوں کی شہزادی‘ جیسے ناموں سے پکارے جانے والی ان ویلیز جیپوں کو ہی کرائے پر حاصل کیا جاتا تھا۔

اپنی ورکشاپ کے ملبے پر کھڑے ویلیز کے مکینک استاد مقبول کا کہنا تھا کہ بالا کوٹ میں ایسی جیپوں کی تعداد کوئی پانچ سو کے قریب ہوگی۔ لیکن اکتوبر میں سیاحوں کی آمد میں خاصی کمی واقع ہو جاتی ہے اور اوپر سے اس بار رمضان کا مہینہ بھی شروع ہوچکا تھا اس لیے جب زلزلہ آیا تو زیادہ تر ویلیز جیپیں گیراجوں میں کھڑی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ زلزلے کے نتیجے میں کم از کم تین سو ویلیز ملبے کے نیچے دب کر ناکارہ ہوئی ہیں۔

ایک اور مکینک استاد واجد نے بتایا کہ زیادہ تر ویلیز ملبے کے نیچے دب کر ناکارہ ہوچکی ہیں جبکہ سو کے قریب راستے بند ہونے کے سبب متاثرہ علاقوں میں مخلتف جگہوں پر پھنسی ہوئی ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس وقت بالا کوٹ میں بمشکل چالیس پچاس ویلیز سڑکوں پر پھرتی نظر آتی ہیں۔اس مقبول عام سواری کے اتنی بڑی تعداد میں تباہی کے نتیجے میں بالا کوٹ میں ٹرانسپورٹ کے ذرائع کافی کمیاب ہوگئے ہیں اور لوگوں کو آمدورفت میں خاصی دشواری کا سامنا ہے۔

ویلیز جیپوں کے بیشتر ماڈلز گزشتہ صدی کی پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ پہلی جنگ عظیم کے بعد امریکی فوج کو یہ احساس ہوا کہ ٹینکوں کی مدد سے ہر جگہ سامان نہیں پہنچایا جاسکتا اور اس مقصد کے لیے کوئی چھوٹی اور کثیرالامقاصد گاڑی ہونی چاہیئے۔

دوسری جنگ عظیم کے قریب تین امریکی کمپنیوں فورڈ، بینٹم اور ویلیز نے ’جیپ‘ کی صورت میں اپنی فوج کو ایک ایسی گاڑی بنا دی جو ٹینک سے زیادہ تیز رفتار تھی اور ان جگہوں پر بھی پہنچ جاتی تھی جہاں ٹینک نہیں پہنچ پاتے تھے۔دوسری جنگ عظیم میں امریکہ اور اتحادی فوجوں کی کامیابی کی ایک وجہ جیپ کو بھی قرار دیا جاتا رہا۔

جنگ کے بعد جیپ کی مانگ میں اضافہ ہوا تو ویلیز کمپنی نے اسے تجارتی بنیادوں پر تیار کرکے ’ویلیز‘ کے نام کے ساتھ فروخت کرنا شروع کردیا۔ ویلیز کمپنی کو بعد میں کیسر نامی ایک فرم نے خرید لیا اور یوں انیس سو پینسٹھ کے بعد جیپوں کی ویلیز نام کے تحت تیاری بند ہوگئی۔

چالیس برس گزرنے کے باوجود ویلیز جیپیں بالا کوٹ اور وادی کاغان میں اب بھی مقبول ہیں۔عام طور پر نیلامی میں حاصل کی گئی ان جیپوں کے انجن میں تو ضرورت کے مطابق مناسب رد و بدل کیا جاتا ہے لیکن اس کے ظاہری ڈھانچے میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی۔

ایک ڈرائیور سبحان خان کا کہنا تھا کہ اڑھائی سے چار لاکھ روپے تک کی قیمت میں مل جانے والی یہ فور بائی فور ویلیز جیپیں کچے پکے اور پتھریلے راستوں پر تیس تیس اور چالیس چالیس لاکھ روپے قیمت والی جیپوں کا سستا متبادل ثابت ہوتی ہیں۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ زلزلے نے ان کا یہ اثاثہ بھی چھین لیا ہے۔

اسی بارے میں
سرحد: سکول کھولنے میں مسائل
10 November, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد