BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 27 June, 2008, 08:56 GMT 13:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گلگت بلتستان میں بھی سیاحت متاثر

گلگت اور بلتستان کا علاقہ روائتی طور پر سیاحت کا بڑا مرکز رہا ہے
صوبہ سرحد کے مختلف شہری اور قبائلی علاقوں میں دہشت گردی اور ذرائع ابلاغ میں انہیں شمالی پاکستان کہنے سے ’شمالی علاقہ جات‘ میں سیاحت کی صنعت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔

متعدد سفارت خانوں نے اپنے شہریوں کو یہاں نہ آنے کا مشورہ دیاہے۔ مقامی باشندوں کا کہناہے کہ اس خطے کو شمالی علاقہ جات کے بجائے گلگت بلتستان کے اصل نام سے پکارا جائے تاکہ ان پر نام کے ابہام کے باعث منفی اثرات نہ پڑسکیں۔

شمالی علاقہ جات کے نام کی وجہ تسمیہ کے بارے میں غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ حیدر رضا تفصیل سے بتاتےہیں ’قیامِ پاکستان کے چند ماہ بعد ہی گلگت بلتستان کے باشندوں نے اپنے بل بوتے پر ڈوگرہ راج سے آزادی حاصل کرکے سولہ نومبر 1947ء کو پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا۔

گلگت
 شمالی علاقہ جات کہلانے والا گلگت بلتستان کا خطہ اپنے خوبصورت نظاروں، دلکش وادیوں، بُلند و بالا برفیلے پہاڑوں، روح فنا کردینے والی گہری گھاٹیوں، ہزاروں سال قدیم انداز میں مقامی باشندوں کی بود و باش کی بدولت ملکی اور غیر ملکی سیاحوں میں خاصا مقبول ہے۔
بعد ازاں بھارت نے ان علاقوں کی آزادی کو متنازع قرار دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں اسے مسئلہ کشمیر سے منسلک کردیا۔ جس کے بعد پاکستان میں گلگت، بلتستان اور گھانچے کو شمالی علاقہ جات کے نام سے پکارا جانے لگا جو کہ غلط ہے۔

تاریخی طور پر بھی یہ خطہ گلگت بلتستان ہی کہلاتا رہا ہے۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ صوبہ سرحد میں دہشتگردی کی خبروں کو شمالی پاکستان کے حوالے سے بیان کیا جارہا ہے۔ جس کے سبب بیرونِ ملک تاثر یہ ملتا ہے کہ بدامنی گلگت بلتستان والے شمالی علاقہ جات میں ہورہی ہے۔ یوں پاکستان میں قائم بعض غیر ملکی سفارت خانوں نے بھی اپنے شہریوں کو یہاں نہ آنے کا مشورہ دیا جس کے سبب مقامی سیاحتی صنعت پر شدید منفی اثر ات مرتب ہوئے ہیں۔‘

شمالی علاقہ جات کہلانے والا گلگت بلتستان کا خطہ اپنے خوبصورت نظاروں، دلکش وادیوں، بُلند و بالا برفیلے پہاڑوں، روح فنا کردینے والی گہری گھاٹیوں، ہزاروں سال قدیم انداز میں مقامی باشندوں کی بود و باش کی بدولت ملکی اور غیر ملکی سیاحوں میں خاصا مقبول ہے۔ دنیا کے تین عظیم پہاڑی سلسلے کوہ قراقرم، ہمالیہ اور ہندو کش کا سنگم گلگت میں ہوتا ہے۔ اسی سرزمین پر’ایورسٹ‘ کے بعد دنیا کی دوسری بُلند ترین چوٹی کے ٹو واقع ہے۔ یہیں نانگا پربت کھڑا ہوا ہے جسے قاتل پہاڑ بھی کہا جاتا ہے۔انہی علاقوں میں قطبین کے بعد دنیا کے طویل ترین اور بڑے گلیشیر پائے جاتے ہیں جن میں پاکستان اور بھارت کے مابین متنازع سیاچن کے علاوہ ہسپر، بتورہ اور بلتورو قابلِ ذکر ہیں۔ یہیں دنیا کی آٹھ بُلند ترین چوٹیاں واقع ہیں جن میں کے ٹو، نانگا پربت اور راکا پوشی کے علاوہ گشا بروم، براڈ پیک اور مشابروم چوٹیاں بھی شامل ہیں جن کی بُلندی دو ہزار سے آٹھ ہزار میٹر کے درمیان ہے۔ جنہیں سر کرنے کے لیے ہر سال ہزاروں عیر ملکی کوہ پیما اور سیاح یہاں کا رُخ کرتے رہے ہیں۔

مقامی آبادی روز گار کے مواقع کم ہونے کے باعث انتہائی غربت کی زندگی گزارنے پر مجبور ہے

1978ء میں شاہراہ قراقرم کی تکمیل کے بعد ذرائع آمدورفت میں بہتری، نیز فضائی سفر کی سہولتوں کے سبب اپریل سے ستمبر تک کے چھ مہینوں میں یہاں غیر ملکی سیاحوں کی ریل پیل رہتی تھی، مگر اس برس صورتِ حال کیسے مختلف رہی ہے۔ یہ بتاتے ہیں سلطان کریم، جو گلگت کے فائیو اسٹار ہوٹل میں نوادرات، قالین، روایتی ملبوسات اور سچے موتیوں سے تیار کردہ زیورات کی تجارت کرتے ہیں!
’اپریل سے ستمبر تک سیاحتی موسم میں ہوٹل میں کمرے خالی نہیں ہوتے تھے مگر اب غیر ملکی سیاح تو جیسے غائب ہی ہوگئے۔ سیاحتی موسم ہے لیکن مہمانوں کی اکثریت سیاحوں کے بجائے ان ملکی افراد پر ہی مشتمل ہے جو کام کاج کے سلسلے میں یہاں آتے جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ مہمان اتنے کم ہوتے ہیں کہ ناشتےمیں بوفے سجانے کے بجائے آرڈر پر ناشتہ تیار کرکے دیتے ہیں۔ ہم ہی نہیں دوسرے چھوٹے بڑے ہوٹلوں کا بھی یہی حال ہے۔‘
ایک مقامی ہوٹل کے مالک

’گزشتہ برس اپریل سے جون تک کےتین ماہ کے دوران میں نے ستر لاکھ روپے مالیت کا سامان فروخت کیا تھا۔ میری گاہگوں کی اکثریت ہوٹل میں ٹہرنے والے غیر ملکی سیاح ہوتے ہیں۔ سیاحت کے موسم کے حوالے سے یہ فروخت گزشتہ برسوں کے مطابق تھی، لیکن جب جولائی 2007ء کے بعد سوات میں دہشت گردی کا مسئلہ پیدا ہوا تو ذرائع ابلاغ نے اسے صوبہ سرحد کے بجائے شمالی پاکستان سے تعبیر کیا جس سے شمالی علاقہ جات مراد لی گئی۔ اس سے غیر ملکی سیاحوں کی آمد متاثر ہوئی۔ اس بات کا اندازہ یوں لگائیں کہ گزشتہ سیزن کے جن تین مہینوں میں ستر لاکھ روپے کا کاروبار ہوا تھا، وہیں اس سال اس مدت کے دوران صرف دس لاکھ روپے کا کاروبار ہوا ہے۔ اب اندازہ کرلیں کہ سیاحتی صنعت کس بحران سے دوچار ہے؟‘

گلگت کے واحد فائیو اسٹار ہوٹل کے مینیجر سردار کریم کا کہنا ہے کہ ’اپریل سے ستمبر تک سیاحتی موسم میں ہوٹل میں کمرے خالی نہیں ہوتے تھے مگر اب غیر ملکی سیاح تو جیسے غائب ہی ہوگئے۔ سیاحتی موسم ہے لیکن مہمانوں کی اکثریت سیاحوں کے بجائے ان ملکی افراد پر ہی مشتمل ہے جو کام کاج کے سلسلے میں یہاں آتے جاتے ہیں۔ بعض مرتبہ مہمان اتنے کم ہوتے ہیں کہ ناشتےمیں بوفے سجانے کے بجائے آرڈر پر ناشتہ تیار کرکے دیتے ہیں۔ ہم ہی نہیں دوسرے چھوٹے بڑے ہوٹلوں کا بھی یہی حال ہے۔‘

گلگت بازار میں دستی طور پر تیار کردہ شالیں، روایتی بلتی ٹوپیاں اور دیگر اشیا فروخت کرنے والے تاجر عبدالبصیر سے جب ملکی وغیر ملکی سیاحوں کی آمد کے بارے میں سوال کیا، تو ان کا کہنا تھا ’ان دنوں یہاں ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کا ہجوم ہوتا تھا مگر اس برس تو اکا دُکا ہی نظر آرہے ہیں۔ ہمارا کاروبار انہی کے دم سے ہے۔ سال کے یہی چھ سات ماہ کماتے ہیں اور سردیوں میں بیٹھ کر کھاتے ہیں، مگر اس سال کاروبار اتنا ٹھنڈا ہے کہ فکر ہے کہ سردیوں میں کیسے گذارا کریں گے؟‘

گلگت سے ڈیڑھ گھنٹے کی مسافت پرواقع گاؤں مناپن راکا پوشی اور اس سے ملحقہ درین چوٹی بیس کیمپ تک کوہ نوردی کے لیے آنے والے سیاحوں کا پہلا ٹھکانہ ہے۔ یہاں واقع واحد ہوٹل کے مالک راجہ لیاقت کا کہنا ہے ’اس موسم میں ٹریکنگ کے لیے آنے والے غیرملکی سیاحوں کی بھرمار ہوتی تھی۔ کمرے تو چھوڑیے لان میں بھی خیمے لگے ہوتے تھے مگر اس سال اب تک کوئی نہیں آیا۔ ہوٹل خالی ہے۔‘ راجہ لیاقت کا مزید کہنا تھا کہ’راکا پوشی جاپانی سیاحوں میں بہت مقبول ہے اور ہمارے ہوٹل کے مہمانوں میں ان کی اکثریت ہوتی تھی، مگر بدامنی کے پیشِ نظر جاپانی وزارتِ خارجہ نے اپنے شہریوں کو یہاں نہ آنے کا مشورہ دیا تھا۔ جاپانی شہریوں کے درخواست پر اسلام آباد میں واقع جاپانی سفارت خانے نے اپنے سفیر کے ذریعے حال ہی میں ایک رپورٹ تیار کروائی ہے جس میں مقامی حالات کو جاپانی سیاحوں کے لیے تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔‘


راجہ لیاقت کہتے ہیں ’ گلگت اور بلتستان میں تو حالات بالکل پُرسکون ہیں لیکن ہماری حکومت نے سوات اور صوبہ سرحد میں دہشتگردی کو شمالی پاکستان میں بدامنی کا نام دیا، جس سے بیرونِ ملک غلط پیغام گیا اور متعدد مغربی ممالک نے اپنے شہریوں کو یہاں نہ آنے کامشورہ دیا ہے۔ ضرورت ہے کہ حکومت اس بات کا ازالہ کرے۔اگرحالات یونہی رہے تو یہاں کی واحد صنعت ’سیاحتی صنعت، تباہ ہوجائے گی جس سے ہزاروں افراد کا روزگار ختم ہوسکتا ہے۔‘

اسلام آباد میں قائم جاپانی سفارت خانے کے ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ حال ہی میں سفارت کاروں نے شمالی علاقہ جات کے دورے کے بعد جاپان کے دفتر خارجہ کو رپورٹ بھیجی ہے جس میں اس خطے کوجاپانی سیاحوں کے لیے محفوظ قرار دیا گیا ہے۔ قبل ازیں جاپان نے اپنے شہریوں کو یہاں کاسفر نہ کرنے کا مشورہ دیا تھا۔

سید محمد یحیٰی مناپن کے باشندے ہیں اور فروغِ سیاحت کے سرگرم رضا کار بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے ’یہ علاقہ پُرامن ہےلیکن وہ ممالک جن کے سیاح دیگر پاکستانی راستوں سے یہاں نہیں آنا چاہتے۔ ان کی سہولت کے لیے کاشغر میں پاکستانی ویزا جاری کرنے کا بندوبست کیا جائے۔ اس طرح کوہ نوردی اور کوہ پیمائی کے لیے آنے والے بھی یہ محفوظ راستہ استعمال کرسکتے ہیں۔ اس وقت چین میں پاکستانی ویزا کا اجراء بیجنگ سے ہوتا ہے جو کاشعر سے کئی دنوں کی مسافت پر ہے۔ جس کے سبب سنکیانگ تک پہنچ جانے والے اکثر سیاح چاہنے کے باوجود اس راستے سے یہاں نہیں آسکتے۔‘

سید محمد یحیٰی حکومتِ پاکستان سےمطالبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں ’ہمیں شمالی پاکستان یا شمالی علاقہ جات کے بجائے گلگت بلتستان کے اصل اور تاریخی نام سے پکارا جائے۔ تاکہ نام سے ہونے والے ابہام اور غلط فہمیوں کے منفی اثرات ہم پر نہ پڑ سکیں۔‘

اسی بارے میں
سوات: ایک ہلاک دو زخمی
25 June, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد