BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 16 September, 2008, 16:02 GMT 21:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’پاکستان کی رضا مندی ضروری ہے‘

جیک سٹرا
آپریشن عام لوگوں کے فائدے کے لیے ہوں نہ کہ ان کو الٹا نقصان پہنچے
برطانوی سیکریٹری قانون جیک سٹرا نے کہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے اور پاکستان میں حملوں کے سلسلے میں پاکستان کی رضا مندی ضروری ہے۔

یہ بات برطانوی جیک سٹرا نے منگل کے روز بی بی سی کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہی۔

پاکستان کے قبائلی علاقوں میں امریکی حملوں کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ امریکہ اور پاکستان درمیان قواعد و ضوابط طے ہیں اور برطانیہ کا موقف یہ ہے کہ حملے پاکستان حکومت کی پیشگی اجازت سے ہونے چاہئیں۔

’پاکستان آزاد اور خودمختار ملک ہے اور تمام آزاد ممالک کو اپنی علاقائی خودمختاری کا حق ہے۔ اور امریکی صدر جارج بش نے جولائی میں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ملاقات میں یہ بات واضح کی تھی۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ کیا اس قسم کے حملے نقصان دہ نہیں ہیں انہوں نے کہا ’کہ کئی بار ایسے حملوں کی افادیت نہیں ہوتی قطع نظر کہ اس کی اجازت لی گئی تھی یا نہیں۔ فوجی آپریشن کا مقصد دہشت گرد رہنماؤں کو ہلاک کرنا ہوتا ہے جن کی وجہ سے پاکستان، افغانستان سمیت دیگر ممالک کو دہشت گردی کا سامنا ہے۔ اور یہ آپریشن عام لوگوں کے فائدے کے لیے ہوں نہ کہ ان کو الٹا نقصان پہنچے۔‘

ایک سوال کے جواب میں کہ پاکستان کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں سے حکومت کمزور ہو گی اور ملک میں عدم استحکام پیدا ہو گا، جیک سٹرا نے کہا کہ وہ حیرت زدہ ہیں کہ یہ مسئلہ پاکستان کے میڈیا اور جمہوری رہنماؤں کے لیے کتنا بڑا اور متنازعہ ہو گیا ہے۔

’مجھے یقین ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے تحفظات کے بارے میں علم ہو گا۔ پاکستان کے پاس بڑے قابل سفارتکار موجود ہیں اور وہ یہ تحفظات واشنگٹن تک پہنچا رہے ہوں گے۔‘

انہوں نے کہا کہ برطانیہ چاہتا ہے کہ پاکستان اور امریکہ اس معاملے کا حل تلاش کریں۔

انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں بھی امریکی فوج موجود ہے لیکن وہ حکومت کی رضامندی سے موجود ہے اور قانونی دائرے میں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایک خاص تحفظ یہ ہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں سے دہشت گردی کو کیسا روکا جائے۔ اس مسئلے کو اس طرح حل کرنا ہو گا کہ جس سے نقضان نہ ہو اور اس میں اس علاقے کے لوگوں کی رضامندی بھی شامل ہو۔

جیک سٹرا کا کہنا تھا کہ اس مسئلے کو پاکستان اور امریکی حکومت کو ہی حل کرنا ہے لیکن ایسے معاملات پس پردہ زیادہ بہتر طور پر حل ہو سکتے ہیں۔

جیک سٹرا نے کہا کہ اس معاملے میں برطانوی پالیسی صاف ہے جس کا ذکر برطانوی وزیر خارجہ ڈیوڈ ملیبینڈ نے بھی کیا ہے کہ پاکستا اور امریکہ کو سمجھوتے پر پہنچنا ہو گا۔ دیگر ممالک بشمول امریکہ کی طرح برطانیہ اقوام متحدہ کے تمام ممالک کی آزادی اور خودمختاری پر یقین رکھتا ہے۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا برطانوی فوج پاکستان کے اندر حملوں میں حصہ لے گی تو جیک سٹرا نے کہا کہ قوائد و ضوابط کے مطابق برطانوی افواج افغانستان کی حد تک آپریشن کریں گی۔

اسی بارے میں
’امریکی حملہ شرمناک ہے‘
04 September, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد