نواز اور شہباز پر پھر نیب مقدمات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی احتساب بیورو نے پاکستان مسلم لیگ نون کے قائد میاں نواز شریف، وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف اور اُن کے اہلخانہ کے خلاف تین مقدمات کی دوبارہ سماعت کی درخواست دی ہے۔ نیب راولپنڈی کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل ذوالفقار بھٹہ نے منگل کو بی بی سی سے اس کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ ماہ نیب راولپنڈی کی عدالت کے جج چوہدری خالد محمود نے ان مقدمات کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی تھی۔ انہوں نے کہا کہ مذکورہ جج جو گذشتہ ماہ ان مقدمات کی سماعت کے دو روز بعد ریٹائرڈ ہوگئے تھے، انہوں نے اپنے ریمارکس میں لکھا تھا کہ نیب کی طرف سے عدالت میں دی گئی درخواست میں نیب کے چئرمین کے دستخط نہیں ہیں۔ ذوالفقار بھٹہ کے مطابق انہوں نے دو اگست دو ہزار سات کو نیب کی عدالت میں ایک درخواست دی تھی جس میں کہا گیا تھا کہ میاں نواز شریف، شہباز شریف اور اُن کے اہلِ خانہ کے خلاف دائر مقدمات کی سماعت دوبارہ شروع کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے اُن کے خلاف دائر مقدمات کی سماعت گذشتہ برس سترہ اگست کو دوبارہ شروع کر دی تھی۔ ان مقدمات میں حدیبیہ پیپرملز، غیر قانونی اثاثہ جات اور اتفاق فونڈریز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیب کے پراسیکوٹر جنرل ڈاکٹر دانشور ملک نے عدالت میں ایک درخواست دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ چونکہ نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر بھی چئرمین نیب کے نمائندے ہوتے ہیں اس لیے اُن کی طرف سے دی جانے والی درخواست کے بعد کسی دوسری درخواست کی ضرورت نہیں ہوتی۔ نیب کے ڈپٹی پراسکیوٹر جنرل کے مطابق اس وقت راولپنڈی کی نیب عدالتوں میں کوئی جج موجود نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ جج چھٹیوں پر ہیں جبکہ ایک جج ریٹائرڈ ہوچکے ہیں۔ اس لیے ان درخواستوں کی سماعت چار ستمبر کو سپیشل جج سینٹرل راولپنڈی کی عدالت میں ہوگی۔ ذوالفقار بھٹہ کے مطابق حدیبیہ پیپرز ملز کے مقدمے میں نو افراد کو نامزد کیا گیا تھا جن میں میاں محمد شریف مرحوم، نواز شریف، شہباز شریف، میاں عباس شریف، حسین نواز، حمزہ شہباز، شمیم اختر بیوہ محمد شریف، صبیحہ عباس زوجہ میاں عباس شریف اور نواز شریف کی بیٹی مریم صفدر زوجہ محمد صفدر شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اتفاق فونڈریز کے مقدمے میں چھ افراد کو نامزد کیا گیا ہے جن میں میاں محمد شریف، نواز شریف، شہباز شریف، عباس شریف، مختار حسین اور کمال قریشی شامل ہیں جبکہ رائے ونڈ میں واقع اثاثہ جات کے مقدمے میں میاں محمد شریف ان کی اہلیہ شمیم اختر اور میاں نواز شریف نامزد ملزم ہیں تاہم عدالت نے میاں نواز شریف کے والد میاں محمد شریف کی وفات کے بعد اُن کا نام ان ریفرنسوں سے خارج کردیا تھا۔ یاد رہے کہ جب گذشتہ برس دس ستمبر کو نواز شریف اسلام آباد ائر پورٹ پر اترے تو قومی احتساب بیورو کے ایک اہلکار نے حدیبیہ پیپر مِل ریفرنس کے سلسلے میں چئرمین نیب کے جاری کردہ وارنٹ گرفتاری ان کے سامنے پڑھ کر سنائے تھے۔ تاہم انہیں گرفتار کرنے کے بجائے سعودی عرب روانہ کر دیا گیا تھا۔ | اسی بارے میں نیب کے خلاف متفقہ قرار داد08 August, 2008 | پاکستان زرداری بی ایم ڈبلیو کیس میں بری14 March, 2008 | پاکستان زرداری کے خلاف کئی مقدمےختم 05 March, 2008 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس ایک بار پھر مؤثر27 February, 2008 | پاکستان مصالحتی آرڈیننس سے فائدہ کسے ہو رہا ہے؟27 February, 2008 | پاکستان بینظیر کے خلاف مقدمہ ختم15 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||