آفتاب شیر پاؤ زرداری کے حامی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب مخالف کی ایک جماعت پیپلز پارٹی شیر پاؤ نے صدرِ پاکستان کے انتخاب کے لیے آصف علی زرداری کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ(ن) کے متبادل صدارتی امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے لیے ہیں۔ آفتاب شیر پاؤ نے آصف زرداری کی حمایت کا اعلان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہمیشرہ فریال تالپور سے ملاقات کے بعد ایک نیوز بریفنگ میں کیا۔ آفتاب شیر پاؤ نے کہا کہ یہ جمہوریت کا تقاضا ہے کہ اکثریت کو تسلیم کیا جائے اور ملک کی بڑی جماعت ہونے کے ناطے پیپلز پارٹی کا حق ہے کہ صدرِ پاکستان بھی ان کا ہو۔ فریال تالپور جو کہ صدارتی انتخاب میں آصف علی زرداری کی متبادل امیدوار تھیں، انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی واپس لینے کے بعد آفتاب شیر پاؤ سے ملاقات کی۔ سنیچر کو الیکشن کمیشن سے جاری ہونے والے ایک اعلان کے مطابق دستبردار ہونے والے متبادل صدارتی امیدواروں میں مسلم لیگ ن کے روئیداد خان بھی شامل ہیں۔
ان امیدواروں کی دستبرداری کے بعد صدارتی انتخاب میں پیپلز پارٹی کے امیدوار آصف علی زرداری ، مسلم لیگ(ن) کے امیدوار جسٹس ریٹائرڈ سعید الزمان صدیقی اور مسلم لیگ قاف کے مشاہد حسین حصہ لیں گے۔ الیکشن کمیشن سے جاری ہونے والے شیڈول کے مطابق صدارتی انتخاب قومی اسمبلی، سینٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں چھ ستمبر کو ہو گا جبکہ اسی روز پولنگ کے فوراً بعد نتائج کا اعلان کر دیا جائے گا۔ اسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے دفتر کے باہر پیپلز پارٹی کی متبادل صدارتی امیدوار فریال تالپور کے کاغدات نامزدگی واپس لینے کے بعد پیپلز پارٹی کے رہنما سینیٹر بابر اعوان نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اُن لوگوں کے لیے آج کا دن باعث ندامت ہے جو آصف علی زرداری کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے تھے کہ وہ صدارتی انتخاب سے دستبردار ہو جائیں گے۔ بابر اعوان نے دعوٰی کیا کہ پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار آصف علی زرداری کے خلاف چند عناصر کی طرف سے میڈیا پر آ کر غلط بیانی کی گئی اور افواہیں پھیلائیں لیکن انہوں نے اپنا سفر جاری رکھا۔ بابر اعوان نے بتایا کہ پارٹی کی مرحومہ چیئرپرسن بینظیر بھٹو کی ہلاکت کے بعد جمہوریت کے لیے جو سفر شروع کیا گیا اس کے تحت آمریت سے جمہوریت کا عمل اس وقت مکمل ہو گاجب ایوان صدر میں پارلیمنٹ کا منتخب کردہ نمائندہ موجود ہوگا۔
بابر اعوان کے مطابق یہ کہا جا رہا تھا کہ جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کو بچانے کے لیے فلاں فلاں شخص آئے گا لیکن جس طرح ڈکٹیٹرشپ کو بچانے کے لیے کوئی سامنے نہیں آیا اسی طرح جہموریت کے راستہ میں بھی کوئی نہیں آئے گا۔ اور نہ ہی کسی میں جان ہے کہ وہ قوم کی تقدیر سے کھیل سکے۔ بابر اعوان نے پنجاب حکومت کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ گذشتہ دو روز سے کہا جا رہا ہے کہ پنجاب میں پیپلز پارٹی کے وزراء مستعفٰی ہو جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ’ہم کوئی گھس بیٹھیئے نہیں ہیں، ہم نے پنجاب میں سوا سو نشستیں جیتی ہیں‘۔ انہوں نے مسلم لیگ ن کے سربراہ میاں نواز کا نام لیے بغیر ان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ پیپلز پارٹی نے نہ توانتخابی بائیکاٹ کا نعرہ لگایا اور نہ ہی کبھی میدان سے بھاگی ہے۔ |
اسی بارے میں بلوچستان اسمبلی کا اجلاس30 August, 2008 | پاکستان زرداری کی کردار کشی سے انکار 29 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||