BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 28 August, 2008, 11:40 GMT 16:40 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قبائلی ممبران سے ہنگامی ملاقات

 فائل فوٹو
اراکین کے مطابق حکومت انہیں قبائلی علاقوں میں کارروائیوں کے بارے میں اعتماد میں نہیں لیتی۔
وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے قبائلی علاقوں کے اراکین اسمبلی کی اس دھمکی کے بعد کہ وہ حکمراں اتحاد سے علیحدہ ہو جائیں گے، آج شام ایک اجلاس طلب کیا ہے جس میں فوجی سربراہ بھی شریک ہوں گے۔

قومی اسمبلی میں قبائلی علاقوں سے منتخب اراکین کے رہنما منیر خان اورکزئی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے اس کی تصدیق کی اور کہا کہ اجلاس میں قبائلی علاقوں کی صورتحال اور وہاں جاری کارروائیوں کے بارے میں انہیں اعتماد میں لیا جائے گا۔

منیر اورکزئی نے کل قومی اسمبلی کے اجلاس میں دھمکی دی تھی کہ اگر حکومت نے قبائلی علاقوں خصوصاً باجوڑ میں فوجی کارروائیاں فورا بند نہ کیں اور انہیں اعتماد میں نہ لیا گیا تو وہ آج شام تک حکمراں اتحاد سے علیحدگی کا اعلان کر دیں گے۔

اس دھمکی کے بعد اس اجلاس کی اہمیت کافی بڑھ گئی ہے۔ مبصرین کے خیال میں پیپلز پارٹی حکومت کسی صورت نہیں چاہے گی کہ صدارتی انتخابات سے قبل ایک اور اتحادی انہیں چھوڑ دے۔

مبصرین کے مطابق قبائلی علاقوں کی صورتحال کی وجہ سے وہاں کے اراکین اسمبلی بھی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ ایک طرف حکومت ان کی نہیں سنتی تو دوسری جانب شدت پسند بھی ان سے فوجی کارروائیاں روکوانے میں ناکامی پر مستعفی ہونے کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔

قومی اسمبلی میں قبائلی علاقوں سے بارہ اراکین اسمبلی منتخب ہوتے ہیں۔ ماضی میں بھی یہ اراکین اکثر حکومت کے ساتھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں
اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی
27 August, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد