اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قومی اسمبلی میں قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اراکین نے حکومت کو جمعرات کی شام تک قبائلی علاقوں میں فوجی کارروائیاں بند نہ کرنے کی صورت میں حکمراں اتحاد سے علیحدگی کی دھمکی دی ہے۔ قبائلی علاقوں سے اراکین کے پارلیمانی رہنما منیر اورکزئی نے نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے قبائلی علاقوں خصوصاً باجوڑ میں کارروائیاں فورا بند نہ کیں اور انہیں اعتماد میں نہ لیا گیا تو ان کا حکمراں اتحاد کے ساتھ چلنا مشکل ہو جائے گا۔ انہوں نے شکایت کی کہ حکومت انہیں قبائلی علاقوں میں جاری کارروائیوں سے متعلق اعتماد میں نہیں لے رہی اور جواب میں انہیں چوبیس، اڑتالیس اور بہترگھنٹوں میں جواب دینے کے وعدے کرتی رہتی ہے لیکن عمل کچھ نہیں کرتی۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ باجوڑ میں بدھ کو بھی فوجی طیاروں نے بمباری کی ہے جس سے عام شہری نشانہ بن رہے ہیں۔ انہوں نے اس اہم موضوع پر اس انداز سے بات کی جیسے وہ دھمکی دینے کی بجائے صرف اپنی ذمہ داری پوری کر رہے تھے یا پھر توجہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ایک اور رکن اسمبلی نے بھی قبائلی علاقوں کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے بند کمرے میں انہیں اصل صورتحال سے آگاہ کرنے کا اہتمام کرے۔ مبصرین کے مطابق قبائلی علاقوں کی صورتحال کی وجہ سے وہاں کے اراکین اسمبلی بھی مشکل دور سے گزر رہے ہیں۔ ان کی یہاں اگر حکومت نہیں سنتی تو دوسری جانب شدت پسند بھی ان سے فوجی کارروائیاں روکوانے میں ناکامی پر مستعفی ہونے کے مطالبات کرتے رہے ہیں۔ بعد میں سیپکر نے قومی اسمبلی کا اجلاس غیرمعینہ مدت کے لیئے ملتوی کر دیا۔ | اسی بارے میں نیا طالبان اتحاد، حملوں کا دعویٰ06 August, 2008 | پاکستان طالبان نےوانا ٹانک شاہراہ بند کردی11 August, 2008 | پاکستان وانا ٹانک شاہراہ پر قبضہ برقرار12 August, 2008 | پاکستان وزیرستان میزائل حملہ، 12 ہلاک13 August, 2008 | پاکستان پاکستان کو شورش کا سامنا: بریفِنگ15 August, 2008 | پاکستان وزیرستان:’طالبان کی تصفیہ کمیٹیاں‘17 August, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||