BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 26 August, 2008, 16:49 GMT 21:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سٹاک مارکیٹ میں بھاری مندی

کراچی سٹاک ایکسچینج
مارکیٹ مثبت رجحان سے کھلی تاہم بعد میں یہ منفی رجحان کی جانب چلی گئی
کراچی اسٹاک مارکیٹ میں منگل کو کاروبارِ حصص میں مندی کا دور دورہ رہا اور کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس تین سو ترانوے پوائنٹس کمی کےساتھ نوہزار چارسوتیس پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔

جب کاروبار شروع ہوا تو مارکیٹ مثبت رجحان سے کھلی تاہم بعد میں یہ منفی رجحان کی جانب چلی گئی اور چارسو پوائنٹس سے زیادہ گِر گئی لیکن کاروبار بند ہونے سے قبل مارکیٹ میں کاروبار نے کچھ سنبھالا لیا اور تین سو تراسی پوائنٹس کی کمی کے ساتھ بند ہوا۔

مارکیٹ کے تجزیہ کار حصص بازار میں مندی کی وجہ سیاسی کشمکش اور بازار میں شیئرز کی فروخت کے دباؤ کو قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ مارکیٹ میں استحکام کے اشارے موجود ہیں تاہم ملک کے سیاسی حالات میں بہتری ہی بازارِ حصص میں کاروبار کو مستحکم کرسکتی ہے۔

مارکیٹ کے تجزیہ کار ظفر موتی نے کہا کہ سمجھا یہ جارہا تھا کہ حکمراں اتحاد میں دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان جو کشیدگی جاری تھی وہ ان کا اتحاد ٹوٹنے کے بعد ختم ہوجائے گی اور یہ ہی وجہ ہے کہ مارکیٹ نے صبح مثبت رجحان کا اظہار کیا تھا۔

تاہم تھوڑی دیر بعد شئیرز کی فروخت کا دباؤ خاص طور پر بینکنگ کے شعبے سے آیا جس کی وجہ سے کاروبار میں سُرعت کے ساتھ گِراوٹ آئی اور اس مرتبہ کے ایس ای ہنڈریڈ انڈیکس ساڑھے نوہزار پوائنٹس کی سطح سے بھی نیچے آگیا۔

انہوں نے کہا کہ مارکیٹ میں لوئر لاک لگنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ملکی اداروں نے کاروبار میں دلچسپی ظاہر نہیں کی جبکہ بیرونی سرمایہ کاروں نے شیئرز کی فروخت کا دباؤ قائم رکھا اور یہ سب دیکھتے ہوئے بازار میں جو غیر یقینی تھی وہ بڑھ گئی ہے اور جوسمجھا جا رہا تھا کے سیاسی چپقلش صدر کے استعفے اور حکمراں اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد ختم ہوجائے گی، ایسا ہوا نہیں۔

ان کے بقول امید تو ہے کہ بازارِ حصص میں کاروبار بہتر ہوگا لیکن ان امیدوں پر روزانہ کسی سیاسی بیان بازی سے پانی پِھر جاتا ہے اور اب بھی یہ ہی لگ رہا ہے کہ سیاسی چپقلش کا نہ تھمنے والا دباؤ بازارِ حصص کو مزید متاثر کرے گا۔

مارکیٹ کے ایک اور تجزیہ کار اور آئی جی آئی سیکیوریٹیز کے اظہر باٹلہ نے کہا کہ مارکیٹ میں گذشتہ چند روز سے بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے شئیرز کی فروخت کا دباؤ برقرار تھا جس کے باعث ملکی افراد اور اداروں پر بھی دباؤ بڑھتا جارہا تھا اور آج انہوں نے بھی اپنے شئیرز کو فروخت کرنا شروع کردیا جس کی وجہ سے مارکیٹ منفی رجحان کی جانب چلی گئی۔

اظہر باٹلہ کا کہنا تھا کہ جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا اس وقت تک بیرونی سرمایہ کاروں کی جانب سے شیئرز کی فروخت کا دباؤ برقرار رہنے کا امکان ہے اور اس طرح مارکیٹ میں استحکام آنے کا امکانات معدوم نظر آتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے کہ ایک مرتبہ بیرونی سرمایہ کار اپنا سرمایہ نکال لیں اور ملکی ادارے اور افراد ہی سرمایہ کاری کریں تو اس طرح مارکیٹ میں استحکام آنے کی امید کی جاسکتی ہے۔

یاد رہے کہ اس سال فروری میں مارکیٹ پندرہ ہزار پوائنٹس سے زیادہ کی سطح پر کاروبار کررہی تھی اور اس کا حجم بہتر ارب ڈالر تک پہنچ چکا تھا۔ تاہم گذشتہ چھ ماہ کے دوران بیرونی سرمایہ کاروں نے تیس ارب ڈالر اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر بیرونِ ملک لے گئے ہیں اور بازارِ حصص اب ساڑھے نوہزار پوائنٹس تک گِر چکا ہے اور اس کا حجم تقریباً انتالیس فیصد کمی کے بعد اب بیالیس ارب ڈالر رہ گیا ہے۔

اسی بارے میں
سٹاک ایکسچینجز پر حملے
17 July, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد