جنگ فوراً شروع نہیں ہوگی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حکمران اتحاد ٹوٹ جانے کے باوجود دونوں پارٹیوں کی طرف سے ابھی تک ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ مسلم لیگ نون مرکز میں اور پیپلز پارٹی پنجاب میں فوری طورپر ایک دوسرے کی حکومت گرانے کی کوشش کریں گے۔ پیپلز پارٹی کی مرکز میں اور مسلم لیگ نون کی پنجاب میں حکومتیں ہیں۔مسلم لیگ قاف کے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد کے ٹوٹنے کے بعد مرکز اور پنجاب کی محاذ آرائی شروع ہوجائے گی اور ان کے بقول مرکز اور پنجاب کی حکومتیں ایک دوسرے کی حمایت کے بغیر چل نہیں سکتیں۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ محاذ آرائی کی کیفیت تو ضرور ہوگی لیکن دونوں بڑی جماعتیں فوری طور پرایک دوسرے کی حکومتیں گراتی نظر نہیں آرہی ہیں۔ مرکز میں تین سو بیالیس کے ایوان میں پیپلز پارٹی کی اپنی صرف ایک سو چوبیس نشستیں ہیں جو نصف تعداد یا سادہ اکثریت سے بہت دور ہیں دوسری جانب پنجاب کے تین سے انہتر کے ایوان میں مسلم لیگ نون ایک سو ستر کے سکور پر ہے اور بطور اکیلی جماعت سادہ اکثریت سے محروم ہے۔ ایک دوسرے کی مخالفت کے نتیجے میں دونوں پارٹیاں اب چھوٹی جماعتوں اور اپوزیشن قاف کے ممکنہ منحرف اراکین کی محتاج ہیں۔ پیپلز پارٹی کے ترجمان فرحت اللہ بابر نے کہا ہے کہ نواز شریف نے اپوزیشن میں بیٹھنے کا فیصلہ تو کیاہے لیکن ایک بار بھی یہ نہیں کہا کہ وہ اپوزیشن کی دوسری جماعتوں کے ساتھ اتحاد بنا کر پیپلزپارٹی کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسی طرح پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے لاہور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ پنجاب میں حکومت گرانے کے حق میں نہیں کیونکہ ان کےبقول اگر انہوں نے ایسا کرنا ہوتا تو بہت پہلے کرچکے ہوتے۔ پیپلز پارٹی کے ایک رہنما نے کہا کہ جب تک چھ ستمبر کا صدارتی انتخاب نہیں ہوجاتا ایسا سوچنا بھی پیپلز پارٹی کے لیے گناہ ہے۔ پنجاب اسمبلی نہ ہونے کی صورت میں صدر کا الیکٹرول کالج متاثر ہوسکتا ہے جس کا براہ راست نقصان پیپلز پارٹی کو ہوگا کیونکہ اب تک کی نمبر گیم میں پیپلز پارٹی اپنے صدارتی امیدوار کی کامیابی کے لیے پر اعتماد ہے۔ اطلاعات کے مطابق مسلم لیگ نون نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن کی نشستوں پر بیٹھنے کے لیے درخواست دینے کا فیصلہ کرلیا ہے لیکن پنجاب میں پیپلز پارٹی کا فی الحال ایسی درخواست دینے کا کوئی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ پنجاب میں جب بھی علیحدگی کا عمل شروع ہوا آغاز وزارء کے کابینہ سے مستعفی ہونے سے کیا جائے گا۔ دوسرے مرحلے میں ان مقدمات پر توجہ دی جائے گی جو نواز شریف اور شہباز شریف کی انتخابی اہلیت سے متعلق ہیں اور عدالتوں میں زیرالتوا ہیں۔ پیپلز پارٹی کے آئندہ کے صوبائی لائحہ عمل کے لیے گورنر ہاؤس میں سابق وزیر اعلی منظور وٹو کی گورنر پنجاب سلمان تاثیر سے طویل ملاقات ہوئی ہے۔ دوسری جانب وزیر اعلی پنجاب شہباز شریف نے اسلام آباد روانگی سے پہلے اپوزیشن جماعت مسلم لیگ قاف کے منحرف اراکین سے ایک بار پھر رابطے کیے ہیں جبکہ ناشتہ مسلم لیگ فنکشنل کے احمدمحمود کے ساتھ کیا ہے۔ مسلم لیگ نون آصف زرداری کے صدارتی امیدوار کے طور پراہلیت کے قانونی پہلوؤں پر غور کررہی ہے۔ معروف قانونی ماہر ڈاکٹر فاروق حسن نے میڈیا کو بتایا کہ شہباز شریف نے ان سے خصوصی ملاقات کی ہے اور مسلم لیگ قاف کے منحرف اراکین کی مسلم لیگ نون کی حمایت کی آئینی حثیت کے بارے میں مشورہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ این آر او اور سوئس مقدمات کی روشنی میں آصف زرداری کی بطور صدر اہلیت کے قانونی پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا ہے۔ بہرحال دونوں پارٹیوں کے درمیان جنگ جس حد تک بھی جائے بظاہر پہلا معرکہ صدارت کے عہدے کے انتخاب کے لیے ہونا والا ہے جس میں بہرحال پیپلز پارٹی کا پلہ بھاری دکھائی دے رہا ہے۔ |
اسی بارے میں طالبان کا پلڑا بھاری ہے: زرداری24 August, 2008 | پاکستان آصف زرداری صدر بننے پر رضامند23 August, 2008 | پاکستان معاہدے حدیث یا قرآن نہیں: زرداری23 August, 2008 | پاکستان صدارت:اے این پی زرداری کی حامی24 August, 2008 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||