BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 23 August, 2008, 10:49 GMT 15:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سینیٹ کی زبیدہ جلال سےجواب طلبی

سینیٹ
توانا پروگرام میں ہونےوالے مبینہ گھپلوں کی رپورٹ آئندہ پندرہ روز میں تیار کر لی جائے گی
سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کے بارے میں سینیٹ کی ذیلی کمیٹی نے ’توانا پاکستان‘ میں ہونے والے کروڑوں روپے کی مبینہ خردبرد پر سابق وفاقی وزیر زبیدہ جلال،پروجیکٹ ڈائریکٹر عرفان اللہ اور ٹی وی اداکار فردوس جمال سمیت اس منصوبے سے منسلک افراد سے ایک ہفتے میں تحریری جواب طلب کرلیا ہے۔

سنیچر کے روز ذیلی کمیٹی کا اجلاس پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوا۔ اجلاس میں سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کو بھی طلب کیا گیا تھا لیکن وہ اجلاس میں نہیں آئے۔ سینیٹر انور بیگ کے مطابق وزارت خارجہ کے اہلکاروں نے بتایا ہے کہ انہوں نے لندن میں سابق وزیر اعظم کو کمیٹی کے اس اجلاس میں شریک ہونے کا دعوت نامہ پہنچا دیا ہے۔

دودھ اور بسکٹ
 یہ منصوبہ 60 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا جس کے تحت دور دراز علاقوں میں سکولوں کی بچیوں کو ایک ایک دودھ کا پیکٹ اور ایک ایک بسکٹ کا پیکٹ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں سے صرف 30 فیصد لوگوں کو فائدہ پہنچا جبکہ باقی رقم انتظامی امور کے مد میں خرد برد کر دی گئی
سربراہ بیت المال
انہوں نے کہا کہ توانا پروگرام میں ہونےوالے مبینہ گھپلوں کی رپورٹ آئندہ پندرہ روز میں تیار کر لی جائے گی۔

بیت المال کے چیئرمین زمرد خان نے کہا کہ یہ منصوبہ 60 کروڑ روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا تھا جس کے تحت دور دراز علاقوں میں سکولوں کی بچیوں کو ایک ایک دودھ کا پیکٹ اور ایک ایک بسکٹ کا پیکٹ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس میں سے صرف 30 فیصد لوگوں کو فائدہ پہنچا جبکہ باقی رقم انتظامی امور کے مد میں خرد برد کر دی گئی۔

سابق حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ قاف سے تعلق رکھنے والی سابق وزیر زبیدہ جلال نے جو اس اجلاس میں موجود تھیں کہا کہ اُن کے دور میں اس منصوبے میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام سنہ دوہزار دو میں شروع کیا گیا تھا جبکہ انہوں نے سنہ دو ہزار چار میں وزارت سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کا چارج سنبھالا تھا۔

الزام کی تردید
 میرے دور میں اس منصوبے میں کوئی کرپشن نہیں ہوئی۔ یہ پروگرام سنہ دوہزار دو میں شروع کیا گیا تھا جبکہ میں نے سنہ دو ہزار چار میں وزارت سماجی بہبود اور خصوصی تعلیم کا چارج سنبھالا تھا
زبیدہ جلال
انہوں نے الزامات کی تردید کی جس میں کہا گیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اس توانا پروگرام کے فنڈز سے 36 لاکھ روپے کا منرل واٹر پیا تھا۔ انہوں نے ذیلی کمیٹی کے چیئرمین سے کہا کہ وہ ان کی تحقیقات کرلیں اور اگر اُن کے خلاف ایک پیسے کی بھی بدعنوانی ثابت ہوجائے تو وہ سزا بھگتنے کو تیار ہیں۔

سابق ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن اکرم شیخ نے کہا کہ اُن کی طرف سے کوئی اقدام غلط نہیں اُٹھایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر سنہ دو ہزار سات تک اس منصوبے میں کوئی خرابی نہیں تھی اور اُس کے بعد اس میں اچانک مبینہ گھپلے منظر عام پر آ گئے۔

سابق ڈپٹی چیئرمین پلاننگ کمیشن نے کہا کہ وزیر اعظم معائنہ کمیشن کی طرف سے انہیں کوئی نوٹس نہیں ملا۔ انہوں نے کہا کہ اگر اُن سے جواب طلبی گی گئی تو وہ بہت سے لوگوں کے ناموں کو سامنے لائیں گے۔

ٹی وی اداکار فردوس جمال نے کہا کہ انہوں نے ’توانا پاکستان‘ کی اشتہاری مہم کے لیے ایک ٹینڈر لیا تھا اور اس سلسلے میں ایک اشتہار بنا کر مختلف ٹی وی چینلوں پر چلایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ ٹینڈر دو کروڑ روپے میں لیا تھا اور اس میں کوئی گھپلے نہیں ہوئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد