BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 10 August, 2008, 13:45 GMT 18:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مشرف کو نشانِ عبرت بنائیں‘

صدر مشرف کا مسلم لیگ ق بھی مکمل طور پر ساتھ دینے کے لیے تیار نہیں ہے
سابق فوجی افسران کا کہنا ہے کہ حکمران اتحاد صدر مشرف کو محفوظ راستہ دینے کی بجائے ان کا مکمل احستاب کرے اور انہیں ہمیشہ کے لیے نشانِ عبرت بنایا جائے ۔

اتوار کے روز راولپینڈی میں سابق فوجیوں کی تنظیم ایکس سروس مین ایسوی ایشن کے ایک ہنگامی اجلاس کے بعد پریس کانفرس سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم کے رہنما لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ سلیم حیدر نے کہا کہ ان کی تنظیم پاکستان کی تمام جمہوری قوتوں اور سول سوسائٹی کے ساتھ مل کر حکمران اتحاد کی طرف سے صدر پرویز مشرف کے مواخذے کے اعلان کا خیر مقدم کرتے ہیں ۔

انہوں نے بتایا کہ وہ توقع کرتے ہیں کہ حکمران اتحاد صدر مشرف کے مواخذے کے اعلان کی پاسداری کرے گا اور اس اعلان کا حشر اس سے پہلے کیے گئے اعلانات جیسا نہیں ہو گا۔

جنرل ریٹائرڈ سلیم حیدر نے صدر مشرف کو کسی قسم کا محفوظ راستہ دینے کی محالف کرتے ہوئے حکمران اتحاد سے مطالبہ کیا کہ صدر مشرف کو محفوظ راستہ کی بجائے ان کا مواخذہ اور مکمل احتساب کیا جائے اور صدر مشرف نے اپنے آمرانہ دورہ اقتدار میں جو جرائم کیے ہیں اس پر انہیں قرار واقعی سزا دی جائے اور نشانِ عبرت بنایا جائے ۔

انہوں نے حکمران اتحاد سے ایک اور مطالبہ کیا کہ صدر مشرف کے ساتھیوں اور حواریوں کو بھی سزار دی جائے جنہوں نے صدر مشرف کی طرف سے آئین کی بار بار خلاف ورزی میں اُن کا ساتھ دیا ہے۔

جنرل ریٹائرڈ سلیم حیدر نے موجودہ خراب ملکی حالات کا ذمہ دار صدر مشرف کو قرار دیتے ہوئے بتایا کہ جب تک صدر مشرف کے ملکی معاملات سے بے دخل نہیں کیا جاتا اس وقت تک ملکی مسائل کے حل کی طرف پیش رفت نہیں ہو سکتی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ آج کے اجلاس میں تمام ممبران اس بات پر متفق ہیں کہ وہ ملک میں جمہوریت کے فروغ اور آئین و قانون کی پاسداری کے لیے سول سوسائٹی اور وکلاء تحریک کی بھر پور حمایت جاری رکھیں گے۔

اجلاس کی قیادت کرنے والے سابق ِ نیول چیف فصیع الدین بخاری نے کہا کہ ان کی تنظیم حکمران اتحاد کے طرف سے صدر کے مواخذے کی تحریک کی مکمل حمایت کرتی ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ فوج اس وقت مکمل غیر جانبدار ہے اور موجودہ سیاسی حالات میں مداخلت نہیں کرے گی۔

انہوں نے کہا ملکی معیشت، امن و امان اور فاٹا کی صورتحال کے بارے میں غور کرنے کے لیے دو پینل بنائے گئے ہیں جن میں ایکس سروس مین شامل ہونگے جو ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیےاپنی تجاویز تیار کریں گے۔

اس موقع پر بریگیڈیر ریٹائرڈ محمود قاضی نے بتایا کہ اس وقت ملک میں ایکس سروس مین کی کئیں تنظیمیں کام کر رہی ہیں اور ان سب کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ تاکہ اگر ہماری دوبارہ ضرورت پڑے تو ہم پہلے سے زیادہ منظم اور مضبوط ہو کر سامنے آئیں ۔

ایکس سروس مین ایسوسی ایشن کے اجلاس کی میں لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ صلاح الدین ترمذی ، جنرل ریٹائرڈ جمشید گلزار کیانی سمیت دیگر سابق فوجی افسران نے شرکت کی

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد