BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 24 July, 2008, 18:06 GMT 23:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مستونگ دھماکہ، وزیر اعلٰی محفوظ

رئیسانی
دھماکہ اسٹیڈیم کی دیوار کے ساتھ رکھے گئے دیسی ساختہ بم سے ہوا
بلوچستان کے شہر مستونگ میں فٹبال گراونڈ کے قریب اس وقت دھماکہ ہوا جب وزیراعلٰی بلوچستان ٹورنامنٹ کے فائنل کے مہمان خصوصی کے طور پر وہاں موجود تھے۔ اس دھماکے میں وزیر اعلٰی محفوظ رہے۔

یہ دھماکہ جمعرات کی شام چھ بجے کے قریب نوروز سٹیڈیم میں آل پاکستان فیسٹول فٹبال ٹورنامنٹ کے فائنل میچ کے دوران ہوا۔ اس واقعہ میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

واضح رہے کہ کوئٹہ میں دو ہفتے قبل بلوچ شدت پسندوں کی جانب سے تین غیر بلوچوں کی ہلاکت پر وزیر اعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی نے شدید غصے کا اظہارکرتے ہوئے بلوچ لبریشن آرمی کا نام لیے بغیر کہا تھا کہ جو لوگ بے گناہوں پر حملے کرتے ہیں اگر ان میں ہمت ہے تو آکر ان کو ماریں۔

وزیراعلیٰ کے اس بیان پر بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیبرگ بلوچ نے کہا تھا کہ وزیراعلیٰ کو بلوچستان کے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو میں فوجی آپریشن کے دوران مارے جانے والوں کا بھی احساس ہونا چاہیے تھا۔

ذرائع کے مطابق نامعلوم تخریب کاروں نے سٹیڈیم کی دیوار کے ساتھ دیسی ساختہ بم نصب کر رکھا تھا جس کے پھٹنے سے زور دار دھماکہ ہوا۔ تاہم ابھی تک کسی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔

یہ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ اس کی آواز دور دور تک سنی گئی۔ دھماکے کے بعد سٹیڈیم میں موجود تماشایوں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سکیورٹی فورسزنے وزیراعلیٰ کو گھیرے میں لے لیا۔

سکیورٹی فورسز نے حالات پر قابو پا لیا جس کے بعد میچ کا دوبارہ آغاز ہوا۔

دوسر ی جانب پاکستانی سکیورٹی نے کل رات چمن میں پاک افغان سرحد پر افغانستان سے داخل ہونے والے گیارہ بلوچوں کو بلوچ لبریشن سے تعلق رکھنے کے الزام میں گرفتار کر کے تفتیش شروع کردی ہے۔

تاہم کوئٹہ میں ایف سی کے ترجمان کرنل شاہد سے رابطہ کیا تو انہوں نے ان گرفتاریوں سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

پاک افغان سرحد پرگیارہ بلوچوں کی گرفتاری ایک ایسے وقت ہوئی ہے جب صرف دو روز قبل سکیورٹی فورسز نے بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف سرچ آپریشن مکمل کیا ہے۔ اس آپریشن میں سکیورٹی فورسز اور بلوچ مزاحمت کاروں سمیت ساٹھ سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد