ڈیرہ بگٹی: سرچ آپریشن میں کمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے ضلع ڈیرہ بگٹی میں پانچ روز قبل شروع ہونے والے سرچ آپریشن میں قدرے آئی ہے۔ تاہم مختلف علاقوں میں ہیلی کاپٹر پرواز کرتے ہوئے دیکھے گئے ہیں۔ پاکستانی سیکورٹی فورسز کی جانب سے پانچ روز قبل شروع ہونے والے سرچ آپریشن میں 24 مزاحمت کاروں سمیت 60 افراد ہلاک ہوئے جن میں6 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ سوئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز ڈیرہ بگٹی کے ان علاقوں میں خاموشی رہی جہاں پاکستانی سیکورٹی فورسز نے بلوچ مزاحمت کاروں کے خلاف ہفتہ کے روز سرچ آپریشن کا آغاز کیا تھا تاہم آج بھی کئی ہیلی کاپٹروں کو فضاءمیں پرواز کرتے دیکھا گیا ہے۔ بلوچ ری پبلکن پارٹی ڈیرہ بگٹی کے صدر شیر محمد بگٹی کے مطابق بدھ کے روز سیکورٹی فورسز نے لوٹی کے قریب بعض دیہاتی علاقوں میں بمباری کی ہے جس میں دو بچیاں اور ایک خاتون ہلاک ہوگئیں۔ اس سلسلے میں جب کوئٹہ میں فرنٹیئر کور کے ترجمان کرنل شاہد سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے ان اطلاعات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ سیکورٹی فورسز نے کل ہی سرچ آپریشن مکمل کرلیا تھا جس میں ان کے بقول ایف سی کے صرف چھ اہلکار ہلاک ہوئے۔ بلوچ مزاحمت کاروں کی اٹھارہ لاشوں کو تحویل میں لیے جانے سے متعلق سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ان کے پاس کسی کی لاش موجود نہیں جبکہ سوئی سے مقامی صحافیوں کے مطابق ابھی تک 30 افراد کی لاشیں سیکورٹی فورسز کے قبضے میں ہیں۔ سیکورٹی فورسز کے ترجمان کی طرف سے آپریشن مکمل کرنے کے دعوے کے باوجود ابھی تک ڈیرہ بگٹی جانے والے تمام داخلی راستوں کی ناکہ بندی برقرار ہے۔ صرف سرکاری اور فوجی اہلکاروں کو کشمیر کے ڈولی چیک پوسٹ کے راستے سوئی اور ڈیرہ بگٹی جانے کی اجازت ہے۔ واضح رہے کہ دو دن قبل انسپکٹر جنرل فرنٹیئر کور بلوچستان میجر جنرل سلیم نواز نے دعویٰ کیا تھا کہ صحافیوں کو متاثرہ علاقے میں ہونے والے نقصانات کا جائزہ لینے کی اجازت ہے۔ بلوچ ری پبلکن پارٹی نے ڈیرہ بگٹی سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آپریشن کے خلاف 25جولائی کو بلوچستان بھر میں شٹر ڈاؤن ہڑتال کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ نواب اکبر بگٹی کی شہادت کے بعد مذاکرات کے تمام راستے بند ہوگئے ہیں ۔ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلوچ ری پبلکن پارٹی کے مرکزی ڈپٹی آرگنائزر حاجی محمد حیات جمالدینی نے کہا کہ ڈیرہ بگٹی اور اوچ کے مضافاتی علاقوں میں گزشتہ5 روز سے جاری آپریشن کے نتیجے میں50افراد جاں بحق جبکہ500سے زائد کو گرفتار کیاگیا ہے انہوں نے کہا کہ260 کلومیٹر کے علاقے میں سرچ آپریشن کے دوران570گھروں میں آپریشن کیا گیا اور وہاں سے لوگوں کو بے دخل کیا گیا ہے انہوں نے کہا کہ سوئی و ڈیرہ بگٹی کے مختلف علاقوں میں آپریشن جاری ہے ایسی صورت میں ہم حکومت سے کسی صورت مذاکرات نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواب اکبر بگٹی کی ہلاکت کے بعد ہی مذاکرات کے تمام راستے بند ہوگئے تھے۔’ہم حق خودارادیت چاہتے ہیں اس سے کم کسی صورت میں کوئی بات چیت کے لیے تیار نہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان جس طرح نہتے لوگوں کے قتل عام پر خاموش ہیں وہ قابل افسوس ہے۔ ادھرضلع خضدار میں کینٹ کے علاقے میں کام کرنے والی ایک نجی کمپنی کے انجینئر کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا ۔ ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر غلام علی لاشاری کے مطابق ضلع خضدار میں کینٹ کے علاقے میں کام کرنے والی ایک نجی کمپنی کے انجینئر عبدالحفیظ سومرو کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے قتل کردیا اور فرار ہوگئے ۔ بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان بیبرگ بلوچ نے نامعلوم مقام سے کوئٹہ میں میڈیا کے دفاتر فون کرکے واقعہ کی ذمہ داری قبول کرلی۔ بیبرگ بلوچ نے کہا کہ جس طرح ڈیرہ بگٹی، سوئی اور جعفرآباد کے علاقوں میں سیکورٹی فورسز آپریشن کے دوران عام بلوچوں کو نشانہ بنا رہی ہیں اسی طرح بی ایل اے کے جوان بھی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ آبادکاروں پر بھی حملے تیز کردیں گے اوران کے عام لوگوں کو بھی نشانہ بنایا جائے گا۔ | اسی بارے میں کوئٹہ میں دو ہلاک بارہ زخمی19 July, 2008 | پاکستان بلوچستان کے لیے پنجاب کا پیکج14 July, 2008 | پاکستان بلوچستان: گیس پائپ لائنز پردھماکہ29 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||