BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 18 July, 2008, 14:27 GMT 19:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’مقدمات سیاسی انتقام کا نتیجہ‘

مسلم لیگ قاف کے رہنما مقدمات کو سیاسی انتقامی کارروائی بتا رہے ہیں
مسلم لیگ قاف کے رہنما اور سابق وزیر اعلی پنجاب چودھری پرویز الہی کے خلاف جمعرات کی شب ایک نئے فوجداری مقدمے کے اندراج کے بعد ان مقدمات کی تعداد تین ہوگئی ہے جن کا اپوزیشن میں آنے کے بعد انہیں سامنا ہے۔

مسلم لیگ قاف کے رہنماؤں نے ان مقدمات کو سیاسی انتقامی کارروائی قرار دیا ہے۔

لاہور کے تھانہ گوالمنڈی میں درج کیا گیا حالیہ مقدمہ ایک جائداد کے قبضے سے متعلق ہے اور مقدمے کے مدعی ذوالفقار علی چیمہ کا کہنا ہے کہ سابق وزیر اعلی چودھری پرویز الہی ان ملزمان کی سرپرستی کر رہے ہیں جنہوں نے میو ہسپتال سے ملحقہ اس کی جائداد پر مبینہ طور پر قبضہ کیا۔

مقدمہ کے ایک نامزد ملزم میو ہسپتال کے سابق میڈیکل سپرنٹنڈنٹ فیاض رانجھا ہیں۔ جمعہ کو مدعی ذالفقار علی چیمہ نے لاہور پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فیاض رانجھا کی ایک بہو روبینہ سلہری چونکہ سابق وزیر اعلی پنجاب کی مشیر تھیں اس لیے پرویز الہی کی وجہ سے انہیں انصاف نہیں مل سکا اور آٹھ ماہ کی جد و جہد کے بعد وہ ہائی کورٹ کے حکم پر مقدمہ درج کرانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔

پولیس نے ابھی تک مزید کوئی کارروائی نہیں کی ہے۔ پرویز الہی کے خلاف ایک دوسرا مقدمہ دہرے قتل کے اس معاملے پر مبنی ہے جو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

مقدمات بنانے کی روایت
 پنجاب میں اقتدار میں آنے والے سیاستدانوں کا سابق حکمرانوں کے خلاف مقدمات بنانے کی روایت کوئی نئی نہیں ہے۔
جمعہ کوپولیس نے عدالت میں اس مقدمہ کا ریکارڈ پیش کیا اور عدالت نے وکیل استغاثہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اب پچیس جولائی کو اپنے دلائل پیش کریں۔

اس مقدمہ کےمدعی فیاض محمود پاشا کا کہنا ہے کہ الیکشن سے ایک روز پہلے ان کے بیٹے سمیت دو افراد کو لاہور کے علاقے گوالمنڈی میں مسلم لیگ نون کے دفتر میں فائرنگ کرکے قتل کر دیا گیا تھا لیکن پولیس نے ان کے نامزد کرنے کے باوجود سابق وزیر اعلی چودھری پرویز الہی اور ان کے مشیر حاجی حنیف اور دیگر مسلم لیگ قاف کے رہنماؤں کا نام ایف آئی آر میں نہیں آنے دیا۔

فیاض محمود پاشا نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے نامزد کردہ پرویز الہی اور حاجی حفیف وغیرہ کے خلاف قتل کا مقدمہ چلایا جائے۔ عدالت وکیل استغاثہ کے دلائل سننے کے بعد پرویز الہی اور دیگر افراد کو طلب کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرے گی۔

جمعہ ہی کے روز لاہور ہائی کورٹ نے چودھری پرویز الہی کےوارنٹ گرفتاری معطل کردیے ہیں جو ایک ایڈیشنل سیشن جج نے قذف کے ایک مقدمے میں جاری کیے تھے۔

یہ تیسرا مقدمہ ہے جس کا حالیہ دور میں پرویز الہی کو سامنا ہے۔ اس مقدمہ کے مدعی ڈاکٹر مقصود حسین کا کہنا ہے کہ پرویز الہی کی وزارت اعلی کےدور میں ان کے خلاف ایک کشمیری مریضہ سے جنسی زیادتی کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا گیا جس سے ان کی عزت پر حرف آیا۔ یہ مقدمہ بعد میں خارج ہوگیا جس پر ڈاکٹر نے پرویز الہی سمیت بعض دیگر افراد کے خلاف قذف کی کارروائی کا آغاز کر دیا۔

ہائی کورٹ نے مقامی عدالت میں زیر سماعت قذف اور ہتک عزت کے مقدمہ کا ازخود نوٹس لینے کے بعد خود اس کی سماعت شروع کردی ہے اور اس معاملے پر مزید کارروائی اکیس جولائی کو ہوگی۔

مسلم لیگ قاف کے سینٹرل سیکرٹریٹ سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلز میں چودھری پرویز الہی کے خلاف مقدمے کے اندراج کی مذمت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ مسلم لیگ نون کے لیڈر تصادم اور انتقام کی سیاست کے ذریعے ملکی سیاسی ماحول کو خراب کرنا چاہتے ہیں۔

دریں اثناء چودھری پرویز الہی مسلم لیگ قاف کے صدر چودھری شجاعت حسین کے ہمراہ غیر ملکی دورے پر ہیں۔ پنجاب میں اقتدار میں آنے والے سیاستدانوں کا سابق حکمرانوں کے خلاف مقدمات بنانے کی روایت کوئی نئی نہیں ہے۔

خود شہباز شریف کو اپنے دور جلاوطنی میں جعلی مقابلےمیں پانچ افراد کے قتل سمیت ایک سے زائد مقدمات کا سامنا رہا لیکن ان کی جماعت کی صوبے میں کامیابی کے بعد بتدریج وہ ان مقدمات سے بری ہوتے چلے گئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد