وارنٹ گرفتاری کا از خود نوٹس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس سید زاہد حسین نے قومی اسمبلی میں پرویز الٰہی اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت سابق حکومت کے چند حکام کے ایک مقدمہ میں وارنٹ گرفتاری کے اجرا کا نوٹس لے لیا ہے۔ چیف جسٹس نے یہ نوٹس جمعرات کے قومی اخبارات میں ان رہنماؤں کے وارنٹ گرفتاری کے خبروں کی اشاعت کے بعد لیا ہے۔ لاہور کی ایک مقامی عدالت نے بدھ کے روز ایک سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹر کی درخواست پر پرویز الٰہی اور مولانا فضل الرحمٰن سمیت سابق حکومت کے چند اعلٰی حکام کے وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے۔ چیف جسٹس نےحکم دیا ہے کہ اس معاملے کو کارروائی کے لیے لاہور ہائی کورٹ جسٹس مولوی انوار الحق کے روبرو جمعہ (اٹھارہ جولائی)کی صبح پیش کیا جائے۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر مقصود نے مقامی عدالت میں دائر کردہ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا ہے کہ پرویز الٰہی اور صوبائی حکومت کے حکام نے ان کے خلاف زلزلہ متاثرہ لڑکی سے مبینہ زیادتی کا جھوٹا مقدمہ درج کرایا تھا۔ جبکہ مولانا فضل الرحمٰن پر اس معاملے میں بیان بازی کرنے اور مدعی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے کا الزام عائد کیا ہے۔ | اسی بارے میں ’زیادتی نہیں ہوئی‘، مقدمہ خارج16 December, 2005 | پاکستان زیادتی نہیں ہوئی،ورثا مُکر گئے10 December, 2005 | پاکستان زلزلہ کی بے بس، خاموش متاثرین10 December, 2005 | پاکستان ریپ کیس، ملزم ڈاکٹر گرفتار07 December, 2005 | پاکستان زلزلہ زدگان وارڈ میں لڑکی کا ریپ06 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||