عبدالحئی کاکڑ بی بی سی اردوڈاٹ کام، پشاور |  |
 | | | گزشتہ سال پشاور میں ایک خاتون خود کش حملہ آور نے خود کو ہلاک کیا |
صوبہ سرحد میں پولیس کا کہنا ہے کہ انہوں نے ایک دینی مدرسے میں زیر تعلیم ان دو لڑکیوں کی تلاش شروع کردی ہے جن کے بارے میں لواحقین کا دعوی ہے کہ وہ ’خود کش حملوں‘ کی غرض سے تین دن قبل گھر سے غائب ہوچکی ہیں۔ جنوبی وزیرستان سے متصل ضلع ٹانک کے سینئر سپرنٹنڈنٹ پولیس لیاقت شاہ نے بی بی سی کو بتایا کہ علاقے میں دو لڑکیوں کی مبینہ خود کش حملوں کی غرض سے گھر سے غائب ہونے کی افواہوں کو بنیاد بناتے ہوئے جب پولیس نے ان کے لواحقین سے رابطہ کیا تو انہوں نے اس واقعےکی تصدیق کی۔ لیاقت شاہ کامزید کہنا تھا کہ نازنین اور سعیدہ نامی ان لڑکیوں کے اہل خانہ نے پولیس کو بتایا ہے کہ دونوں تین دن قبل اپنے دینی مدرسے سے گھر واپسی کے بعد اچانک غائب ہوگئیں۔ ان کے بقول دونوں لڑکیاں ٹانک کے علاقے پائی میں واقع جیعت علماء اسلام کے ضلعی رہنماء اور مولانا فضل الرحمن کے قریبی ساتھی سمجھے جانے والے مولانا سمیع اللہ کی سربراہی میں قائم لڑکیوں کےایک دینی مدرسے میں زیر تعلیم تھیں۔ ان کے مطابق اہل خانہ نے بتایا ہے کہ دونوں حافظ قرآن ہیں اور انہیں شبہہ ہے کہ وہ ’خود کش حملوں‘ کی غرض سے کسی مبینہ شدت پسند تنظیم میں شمولیت کی خاطر گھر سے بھاگ نکلی ہیں۔ تاہم انہوں نے کسی تنظیم کا نام نہیں لیا۔ انہوں نے مزید بتایا ’لڑکیوں کے والد اور بھائی نے پولیس کو بتایا ہے کہ مدرسے میں لڑکیوں کو کمپیوٹر پر جہادی سی ڈیز بھی دکھائی جاتی تھیں جس کی وجہ سے وہ جہاد کی طرف راغب ہوگئیں‘۔ پولیس افسر کے مطابق انہوں نے واقعہ کی چھان بین شروع کردی ہے اور بہت جلد ایف آئی آر درج کرنے کے بعد اس میں مبینہ طور ملوث افراد سے مزید تحقیقات کی جائے گی۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ اس سے قبل مولانا سمیع اللہ کے مدرسے میں زیر تعلیم کسی بھی طالبہ کے کسی بھی خودکش حملے یا کسی اور تخریبی کارروائی میں ملوث ہونے کا واقعہ سامنے نہیں آیا۔ اس سلسلے میں لڑکیوں کے بھائی سے فون پر رابطہ کی بارہا کوششیں کی گئیں مگر ان کا فون مسلسل بند ملا۔ جبکہ دینی مدرسے کے مہتمم مولانا اسماعیل سے بھی بات کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوسکیں۔ پاکستان بالخصوص قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد میں ماضی میں ہونے والے مبینہ خودکش حملوں میں لڑکوں کے ملوث ہونا معمول ہے لیکن گزشتہ سال ایک خاتون کی جانب سے ہونے والے خودکش حملے کے بعد لڑکیوں کا اس قسم کے پر تشدد واقعات میں ملوث ہونے کی اپنی نوعیت کی دوسری رپورٹ سامنے آئی ہے۔ |