بلوچستان: ’بھیک‘ بھوک منصوبہ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
معروف سماجی کارکن عبدالستار ایدھی نے بلوچستان سے ایک نئے فلاحی منصوبے کا آغاز کیا ہے جس میں بھوکوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے اور حب سے لے کر کوئٹہ تک انہوں نے بھوکوں کے لیے بھیک مانگ کر چار لاکھ روپے جمع کیے جسے انہوں نے ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ اتوار کو کوئٹہ پریس کلب کے سامنے چادر بچھا کر عبدالستار ایدھی نے چندہ مہم یا بھوکوں کے لے بھیک مہم شروع کی ہے۔ عبدالستار ایدھی کے مطابق بلوچستان میں حب سے لے کر کوئٹہ تک انہیں لوگوں نے بہت محبت دی ہے اور چار لاکھ روپے کا چندہ جمع ہوا ہے۔ کوئٹہ میں بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں ان کے تین سو پچیس مراکز ہیں جہاں بھوکوں کو دوپہر اور رات کا کھانا کھلایا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کوئٹہ کے بعد وہ پشاور اسلام آباد راولپنڈی اور شمالی علاقوں کا دورہ کریں گے اور انسانی ہمدردی کی خاطر ایک تبدیلی لائیں گے۔ عبدالستار ایدھی کے مطابق وہ صرف پاکستانیوں سے بھیک مانگتے ہیں اور
انہوں نے کہا کہ جنگ کے دنوں میں وہ لبنان میں تھے اور انہیں کہا گیا کہ وہاں ایدھی مرکز کھولیں تو اس کے لیے انہوں نے انہیں رقم فراہم کی جس کے بعد وہاں لڑکیوں نے کہا کہ انہیں اسلحہ دیں تو انہوں نے انکار کیا اور کہا کہ اسلحہ کوئی حل نہیں ہے۔ عبدالستار ایدھی نے کہا کہ امریکہ خود عراق اور افغانستان میں جنگ سے تھک گیا ہے اس لیے وہ کبھی جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔ | اسی بارے میں عبدالستار ایدھی بیروت روانہ22 July, 2006 | پاکستان عبدالستار ایدھی دمشق پہنچ گئے23 July, 2006 | پاکستان عبدالستارایدھی بیروت پہنچ گئے24 July, 2006 | پاکستان امریکہ میں سفری دستاویزضبط:ایدھی28 January, 2008 | پاکستان ایدھی کی سفری دستاویز واپس31 January, 2008 | پاکستان ایدھی کی سفری دستاویز واپس31 January, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||