BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کشمیریوں کے بغیر مذاکرات نامکمل

میر واعظ عمر فاروق
میر واعظ عمر فاروق اے پی سی وفد کی سربراہی کر رہے ہیں
ریاست جموں و کشمیر کی کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے کہا ہے پاک بھارت مذاکرات کا عمل اس وقت نا مکمل ہے جب تک جموں کشمیر کے حقیقی نمائندوں کو اس میں شامل نہ کیا جائے۔

سینچر کو دلی سے لاہور پہنچنے پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سےگفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاک بھارت مذاکرات کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے آر پار کی کشمیری قیادت کو اس میں شامل کیا جائے ۔ان کے بقول ایسا کیے بغیر معاملات کو آگے نہیں بڑھایا جاسکتا۔

حریت کانفرنس کے وفد کے دیگر ارکان میں بلال لون اور غنی بھٹ شامل ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کا وفد پاکستان میں اپنے قیام کے دوران حکومتی اور سیاسی شخصیات سے ملاقات کرے گا۔

میر عمر فاروق کا کہناہے کہ مسئلہ کشمیر کوئی سرحدی تنازعہ یا علاقائی جھگڑا نہیں ہے جسے پاکستان اور ہندوستان آپس میں بیٹھ کر حل کر لیں ۔ ان کے بقول یہ کشمیریوں کے مستقبل کا معاملہ ہے اور ان کی خواہش ہے کہ اس معاملے میں کشمیری قیادت کو شامل کیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان بہتر تعلقات کے حامی ہیں لیکن کشمیر کے حوالے سے یہ حقیقت ہے کہ ان تعلقات میں اس وقت بہتری نہیں آسکتی جب تک اصل مسئلہ کو مرکزی نکتہ بنا کر آگے نہ بڑھایا جائے۔

میر واعظ عمر فاروق کا کہنا ہے کہ

تجارت سے مسئلہ کشمیر
کشمیری پاک بھارت تجارت کے خلاف نہیں ہیں لیکن پہلی ترجیحی مسئلہ کشمیر کو دی جائے۔ یہ ممکن نہیں ہے کہ معصوم کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہو اور دونوں ملک تجارت، ثفافت اور دیگر معاملات کی بات کریں۔
میر واعظ عمر فاروق
کشمیری پاک بھارت تجارت کے خلاف نہیں ہیں تاہم ان کے خیال میں پہلی ترجیحی مسئلہ کشمیر کو دی جائے۔ان کے بقول یہ ممکن نہیں ہے کہ معصوم کشمیریوں کا خون بہایا جا رہا ہو اور دونوں ملک تجارت، ثفافت اور دیگر معاملات کی بات کریں۔

ان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں قیام کے دوران کشمیری قیادت اور کشمریوں سے بات چیت کی جائے گی کیو نکہ بدقسمتی سے دونوں طرف کی قیادت کو بہت کم ملنے کا موقع دیا جاتا ہے۔

انہوں نے پاکستان کی سیاسی جماعتوں پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک مربوط لائحہ اختیار کریں تاکہ اس مسئلہ کے حل کے سلسلہ میں ٹھوس اقدامات کیے جاسکیں۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پاکستان کے عوام ماضی کی طرح مستقبل میں بھی کشمیریوں کی سیاسی اور اخلاقی حمایت جاری رکھیں گی۔

میر واعظ عمر فاروق نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا اب تک ساڑھے نو ہزار کے لگ بھگ کشمیری نوجوان لاپتہ ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد