شو متاثر کن تھا: رحمان ملک | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک نے کہا ہے کہ معزول ججوں کی بحالی کا معاملہ پارلیمنٹ میں بجٹ منظور ہونے کے بعد لایا جائے گا اور ان کی بحالی کے بارے میں طریقہ کار وضح کیا جائے گا۔ سنیچر کو پارلیمنٹ ہاؤس کے باہرمیڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد میں شامل پاکستان مسلم لیگ نون کی مشاورت سے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد انتیس کرنے کی تجویز رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکمراں اتحاد میں شامل دو بڑی جماعتوں میں معزول ججوں کی بحالی پر تھوڑا سا اختلاف ہے۔ رحمان ملک نے کہا کہ حکومت کوئی ایسا اقدام نہیں کرنا چاہتی جس سے ملک میں کوئی نیا آئینی بحران پیدا ہو۔ لانگ مارچ میں شامل وکلاء کی تعداد کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس لانگ مارچ میں بیس ہزار کے قریب لوگ تھے تاہم انہوں نے لانگ مارچ کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات کو سراہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ججوں کی بحالی اور عدلیہ کی آزادی کی تحریک پاکستان پیپلز پارٹی نے ہی شروع کی ہےاور اس کے لیے سب سے زیادہ قربانیاں ان کی جماعت نے دی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر پی سی او کے تحت حلف نہ اُٹھانے والے ججوں کو تنخواہیں مل چکی ہیں۔ جبکہ سپریم کورٹ کہ وہ جج صاحبان جنہوں نے پی سی او کے تحت حلف نہیں اُٹھایا انہوں نے اس بات کی تردید کی ہے کہ انہیں ابھی تک تنخواہیں نہیں ملیں۔ موجودہ حکمراں اتحاد میں شامل جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ وقت آنے پر ججوں کی بحالی کے بارے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ججوں کے بارے میں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ نون کے درمیان معائدے ہوئے ہیں اور اس ضمن میں اُن سے کوئی بات نہیں کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ حکراں اتحاد میں شامل کسی سیاسی جماعت کو احتجاجی تحریک میں شامل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ حکومت میں ہوتے ہوئے بھی کمزور ہیں۔ اُدھرعدلیہ کی آزادی اور معزول ججوں کی بحالی کے سلسلے میں وکلاء کا لانگ مارچ سنیچر کی صبح کو ختم ہوگیا ہے تاہم اس لانگ مارچ میں شریک چند وکلاء نے وکلاء رہنماوں کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے پریڈ ایونیو پر دھرنا دیا۔ ان وکلاء کا کہنا ہے کہ جب وہ اس لانگ مارچ میں شامل ہوئے تھے تو انہیں بتایا گیا تھا کہ لانگ مارچ کے شرکاء پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے اُس وقت تک دھرنا دیں گے جب تک معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت پی سی او کے تحت حلف نہ لینے والے ججوں کو بحال نہیں کیا جاتا تاہم ضلعی انتظامیہ کی مداخلت پر ان وکلاء نے اپنا احتجاج ختم کر دیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر اعتزاز احسن نے لانگ مارچ کے شرکاء سے کہا تھا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دینے کے وسائل نہیں ہیں جبکہ وکلاء کے رہنما علی احمد کُرد نے کہا تھا کہ وکلاء غیر معینہ مدت تک پارلمینٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا دیں گے۔ | اسی بارے میں کیا پھانسیاں صرف سیاستدانوں کا مقدر ہیں: نواز13 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ میڈیا کی نظرسے14 June, 2008 | پاکستان ’اس سے زیادہ ہم کیا کر سکتے ہیں‘14 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ میں لال بینڈ12 June, 2008 | پاکستان وکلاء کا قافلہ بہاولپور پہنچ گیا10 June, 2008 | پاکستان آزاد عدلیہ، اٹھاون ٹو بی: افتخار01 June, 2008 | پاکستان کوئٹہ: عدلیہ کی بحالی کے لیے ریلی07 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||