وکلاء کا قافلہ مظفر آباد سے روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی بار کونسل کے وائس چیرمین کی سربراہی میں ایک سو سے زیادہ وکلاء پر مشتمل قافلہ پاکستان کے وکلاء کے لانگ مارچ میں شرکت کے لئے مظفرآباد سے اسلام آباد روانہ ہوگیا ہے۔ وکلاء کے لیے قافلے میں شامل گاڑیوں پر سیاں جھنڈیاں لہرائی گئی ہیں اور بینرز آویزاں ہیں۔ ان بینرز پر عدلیہ کی بحالی کے حق میں اور پرویز مشرف کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس قافلے کی قیادت کشمیر کی بار کونسل کے وائس چیرمین چوہدری ابراہیم ضیاء ایڈووکیٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آمریت کے ادوار میں عمومی طور پر ادارے تباہ کیے گئے اور خاص طور پر سب سے زیادہ نشانہ عدلیہ کو بنایا گیا۔ ’آزاد اور خودمختار عدلیہ و آئین کی بحالی، قانون کی بالادستی اور ملک کو بچانے کے لیے پاکستان کے وکلاء کی جدوجہد میں کشمیر کے وکلاء ان کے ساتھ ہیں۔‘ وکلاء کی اسلام آباد روانگی سے قبل مظفرآباد میں وکلاء اور سول سوسائٹی نے پاکستان کی عدلیہ کی بحالی اور صدر پرویز مشرف کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مظفرآباد کے علاوہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دیگر سات اضلاع سے بھی وکلاء پاکستان کے وکلاء کی لانگ مارچ میں شرکت کے لیے اسلام آباد جا رہے ہیں جبکہ کئی وکلاء اس لانگ مارچ میں شرکت کے لیے پہلے ہی لاہور پہنچ چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ’پارلیمان کےگھیراؤ کے حق میں نہیں‘11 June, 2008 | پاکستان منزل اب دور نہیں: جسٹس افتخار11 June, 2008 | پاکستان ’اسوقت صدرنہیں، پارلیمان رکاوٹ ہے‘10 June, 2008 | پاکستان لانگ مارچ: کنٹینرز ہٹا لیے گئے11 June, 2008 | پاکستان ججوں کی بحالی، وکلاء کے قافلے روانہ09 June, 2008 | پاکستان چیف جسٹس کا دورہ منسوخ28 June, 2007 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||