BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 June, 2008, 15:59 GMT 20:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لانگ مارچ: کنٹینرز ہٹا لیے گئے

کنٹینرز ہٹانے کا فیصلہ آصف زراداری کی ہدایت پر کیا گیا
پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ہدایت پر حکومت نے بدھ کے روز پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے رکھے گئے کنٹینرز ہٹا دیئے ہیں۔ یہ کنٹینرز وکلاء کے لانگ مارچ کو پارلینمٹ ہاؤس کی طرف جانے سے روکنے کے لیے کھڑے کیے گئے تھے۔

پچاس کے قریب ان کنٹینرز کو جو شاہراہ دستور اور جناح ایونیو پر کھڑے کیے گئے تھے، مکمل طور پر نہیں ہٹایا گیا بلکہ ان کو سڑک کے کنارے پر رکھا گیا ہے۔

واضح رہے کہ منگل کی شب وزیر اعظم ہاؤس میں ایک اہم اجلاس ہوا تھا جس میں حکمراں اتحاد میں شامل سیاسی جماعتوں نے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ان کنٹینرز کو کھڑا کرنے پر شدید اعتراض کیا تھا اور ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو اس مرحلے پر وکلاء کے ساتھ تصادم کا راستہ اختیار نہیں کرنا چاہیے۔

داخلہ امور کے بارے میں وزیر اعظم کے مشیر رحمان ملک کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات شہر میں امن وامان کی صورتحال کوبرقرار رکھنے کے لیے کیے گئے ہیں۔

ان رکاوٹوں کو ہٹانے کے بعد شاہراہ دستور کی طرف سے سپریم کورٹ اور پارلینمٹ ہاؤس کی طرف جانے والی ٹریفک کو بھی کھول دیا گیا ہے جبکہ جناح ایونیو کو پارلینمٹ لاجز کے سامنے سے پارلینمٹ ہاؤس اور ایوان صدر کی طرف جانے والی سڑک خاردار تاریں لگا کر بند ہے جو تین نومبر سنہ دو ہزار سات کو ملک میں ایمرجنسی لگانے کے بعد بند کر دی گئی تھی۔

واضح رہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی کے مختلف تھانوں کو یہ ذمہ داری سونپی گئی تھی کہ ٹرالرز سے یہ کنٹینرز اُتار لیے جائیں۔ اسلام آباد کی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کو نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اسلام آباد کی انتظامیہ ان کنٹینرز کے مالکان کو اس کا کرایہ ادا کرے گی۔

ادھر پنجاب حکومت کی طرف سے اسلام آباد میں وکلاء کے لانگ مارچ کے سلسلے میں وفاقی حکومت کو پولیس کی نفری دینے سے معذوری ظاہر کرنے کے بعد وفاقی حکومت کو اسلام آباد میں وکلاء کے لانگ مارچ کے لیے حفاظتی اقدامات کے حوالے سے شدید مشکلات کا سامنا کر نا پڑ رہا ہے۔

وزارت داخلہ کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے وکلاء کے لانگ مارچ کے سلسلے میں پنجاب پولیس اور صوبہ سرحد سی حکومت سے فرنٹیئیر کانسٹیبلری کی کمک مانگی تھی۔ پنجاب حکومت نے یہ کہہ کر معذوری ظاہر کر دی کہ معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کا قافلہ پنجاب کے مختلف شہروں سے ہوتا ہوا اسلام آباد پہنچے گا اس لیے صوبے میں امن وامان برقرار رکھنے کے لے وہاں پر پولیس کی نفری کی ضرورت ہے۔

صوبہ سرحد میں فرنٹئیر کانسٹیبلری کی زیادہ تر نفری پاک افغان بارڈر اور دوسرے علاقوں میں تعینات ہے۔ اس لیے ان حساس علاقوں سے فرنٹئیر کانسٹیبلری کی نفری میں کمی کرنے میں دشواری پیش آرہی ہے ۔

واضح رہے کہ فرنٹئیر کانسٹیبلری وفاقی حکومت کے زیر کنٹرول ہوتی ہے تاہم ابھی تک فرنٹیئر کانسٹیبلری کی کمک اسلام آباد نہیں پہنچی جبکہ حکومت نے پاکستان کے زیر کنٹرول کشمیر سے بھی پولیس کی کُمک اسلام آباد میں طلب کی ہے۔

ادھر پارلینمٹ ہاؤس کے سامنے امن وامان برقرایر رکھنے کی ذمہ داری رینجرز کے حوالے کر دی گئی ہے جبکہ اسلام آباد پولیس کے اہلکارلانگ مارچ کے شرکاء کے ساتھ ہوں گے۔

اسی بارے میں
عدلیہ کی بحالی پر اتفاق
09 March, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد