اختر مینگل کا زبردست استقبال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیر اعلی سردار اختر مینگل پیر کو تقریباً ڈیڑھ سال بعد کوئٹہ پہنچے جہاں ان کا شاندار استقبال کیا گیا ہے۔ سریاب کے علاقے میں بڑی تعداد میں ان کے جماعت کے کارکن موجود تھے جبکہ سریاب کسٹم سے لے کر ایوب سٹیڈیم تک جگہ جگہ لوگ جھنڈے اور بینر اٹھائے نعرہ بازی کرتے رہے۔ دیگر قوم پرست جماعتوں عوامی نشنل پارٹی پشتونخواہ ملی عوامی پارٹی اور نیشنل پارٹی کے قائدین نے شہر کی حدود شروع ہوتے ہی لکپاس کے پاس سردار اختر مینگل کو خوش آمدید کہا ہے۔ سردار اختر مینگل کو کوئٹہ پہنچنے پر ایک بڑے ٹرک میں سوار کیا گیا جہاں وہ راستے پر موجود لوگوں کے نعروں کا ہاتھ ہلا کر جواب د یتے رہے۔ سابق وزیر اعلیٰ ایوب سٹیڈیم میں جلسہ عام سے خطاب کر رہے ہیں اور ایوب سٹیڈیم میں شام تک بڑی تعداد میں لوگ موجود تھے۔ کراچی میں جیل سے رہائی کے بعد گزشتہ ہفتے سردار اختر مینگل نے بلوچستان کا دورہ شروع کیا تھا۔ انھوں نے حب بیلہ وڈھ خضدار اور مستونگ میں عوامی جلسوں سے خطاب میں کہا ہے کہ حکومت ایک طرف تو مذاکرات کی باتیں کر رہی ہے اور دوسری جانب فوجی آپریشن مسلسل جاری ہے اور بے گناہ لوگوں کو ایجنسیاں غائب کر دیتی ہیں۔ سردار اختر مینگل نے کہا ہے کہ بلوچستان میں شروع کیے گئے میگا پراجیکٹس جیسے ایران پاکستان بھارت گیس منصوبے رکوڈک اور سیندک جیسے منصوبوں کے لیے بلوچستان کے لوگوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے، اس لیے ان منصوبوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور انھیں فوری طور پر بند کیا جائے۔ سردار اختر مینگل ڈیڑھ سال تک کراچی جیل میں گرفتار رہے ہیں۔ ان پر سرکاری اہلکاروں پر تشدد اور اغوا کا مقدمہ قائم کیا گیا تھا جبکہ سردار اختر مینگل کا کہنا ہے کہ انہوں نے سادہ کپڑوں میں ملبوس ان افراد سے صرف پوچھ گچھ کی تھی جو کہ ان کے بچوں کا پیچھا کرتے تھے۔ |
اسی بارے میں اختر مینگل کی وڈھ واپسی06 June, 2008 | پاکستان کوئٹہ: گرفتاریوں کے خلاف مظاہرہ08 June, 2008 | پاکستان اختر مینگل کی رہائی کا حکم02 May, 2008 | پاکستان اختر مینگل کی رہائی پر خوشیاں09 May, 2008 | پاکستان مینگل کے خلاف دائر مقدمات واپس21 April, 2008 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||