BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 21 April, 2008, 12:06 GMT 17:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مینگل کے خلاف دائر مقدمات واپس

اختر مینگل
اخترمینگل پربغاوت کے زیادہ تر مقدمات مختلف جلسوں سے خطاب پر قائم کیےگئے تھے
بلوچستان حکومت نے سابق وزیراعلٰی سردار اختر مینگل سمیت دیگر قوم پرست رہنماؤں کے خلاف دائر تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا ہے۔

کوئٹہ میں پیر کو وزیراعلیٰ بلوچستان نواب اسلم رئیسانی کے زیر صدارت اجلاس منعقد ہوا جس میں قوم پرست رہنماؤں کے خلاف دائر مقدمات کا جائزہ لیا گیا اور وزیراعلیٰ کےحکم پر تمام مقدمات واپس لینے کا فیصلہ کیا گیا۔

اس اجلاس میں چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس، سیکرٹری داخلہ اور سیکرٹری قانون سمیت دیگر اعلیٰ اہلکار موجود تھے۔

اجلاس میں اختر مینگل کے علاوہ سندھی قوم پرست رہنما صفدر سرکی پر بلوچستان میں بنائے گئے مقدمات واپس لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ سردار اختر مینگل کے خلاف کل چودہ مقدمات تھے جن میں بیشتر بغاوت کے حوالے سے تھے۔

بلوچستان نیشنل پارٹی کے رہنما اور سردار اختر مینگل کے وکیل ساجد ترین ایڈووکیٹ نے بتایا ہے کہ یہ مقدمات مختلف جلسوں سے خطاب پر قائم کیےگئے تھے اور اس وقت کی حکومت ان مقدمات کے تحت دباؤ ڈالنے کی ناکام کوششیں کرتی رہی ہے۔

بزرگ سیاستدان سردار عطاءاللہ مینگل نے بی بی سی سے باتیں کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’یہ ریاست کے خلاف بغاوت کے مقدمات تھے جو بلوچستان حکومت نے واپس لیے ہیں۔‘

صفدر سرکی کو کوئٹہ کے سول ہسپتال میں جیل وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’اصل مقدمہ تو کراچی میں ایک لانس نائیک نے دائر کیا ہے اور وہ اتنا سنگین جرم ہے کہ وہ مقدمہ واپس بھی نہیں لیا جا سکتا۔ انھوں نے کہا کہ ایجنسیوں کے لانس نائیک کو سردار اختر مینگل نے صرف اتنا کہاتھا کہ ان کے بچوں کو تنگ مت کرو۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’سردار عطاءاللہ مینگل کےلانس نائیک کے مقدمے کے سامنے وفاقی اور صوبائی حکومتیں بے بس ہیں کیونکہ لانس نائیک وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ کے ماتحت ہی نہیں ہے۔‘

سردار اختر مینگل کو نومبر دو ہزار چھ میں گوادر سے کوئٹہ تک لانگ مارچ شروع کرنے پر حراست میں لیا گیا تھا۔ جس کے بعد انھیں باقاعدہ طور پر خفیہ ایجنسی کے اہلکاروں کو ہراساں کرنے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا تھا۔بی این پی کے قائدین کے مطابق سادہ کپڑوں میں کچھ لوگ سردار اختر مینگل کے بچوں کا پیچھا کیا کرتے تھے جس پر ان کے محافطوں نے سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں کو پکڑ لیا تھا۔

اس کے علاوہ آج کوئٹہ میں منعقد ہونے والے اجلاس میں سندھی قوم پرست رہنما ڈاکٹر صفدر سرکی کے خلاف بھی مقدمات واپس لیے گئے ہیں۔ صفدر سرکی گزشتہ چھبیس ماہ سے اسلحہ رکھنے کے الزام میں گرفتار ہیں جہاں ان کی صحت بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ انھیں گزشتہ دنوں نواب اسلم رئیسانی کی حکم پر ژوب جیل سے کوئٹہ کے سول ہسپتال میں جیل وارڈ میں رکھا گیا ہے۔

اسی بارے میں
بلوچ قوم پرستوں کا احتجاج
27 March, 2008 | پاکستان
پی پی پی کی بلوچوں سےمعافی
24 February, 2008 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد